جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ملک میں ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے پانی کی کھپت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAR 2026 4:06PM by PIB Delhi

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) نے واضح کیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز میں پانی کی کھپت کے حوالے سے اب تک کوئی تشویش موصول نہیں ہوئی۔

حکومت ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے استعمال کو عام بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں ملک میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس سے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوطی ملے گی اور مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔

ایم ای آئی ٹی وائی کے مطابق، ملک میں ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی صلاحیت 2020 میں 375 میگاواٹ سے بڑھ کر 2025 تک 1500 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ جدید طریقوں میں کولنگ سسٹمز کی بہتری، پانی کے مؤثر استعمال میں اضافہ اور مجموعی توانائی کی کھپت میں کمی شامل ہیں۔ پانی کے استعمال کو کم سے کم رکھنے کے لیے صنعت جدید کولنگ ٹیکنالوجیز جیسے ڈائریکٹ ٹو چپ مائع کولنگ، اڈیابیٹک کولنگ اور وسرجن کولنگ کو اپنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، صنعت اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے بوجھ کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کے لیے ہائی ڈینسٹی ریکس بھی نصب کر رہی ہے، جس سے بجلی اور پانی دونوں کی کھپت میں مزید کمی آتی ہے۔

ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز ملک بھر میں قائم ہیں، اور زیرِ زمین پانی کے استخراج کو منظم کرنے کے لیے وزارتِ جل شکتی نے نوٹیفکیشن نمبر S.O. 3289 (ای) مورخہ 24.09.2020 اور اس میں 29.03.2023 کی ترمیم کے ذریعے رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔

یہ تمام ٹیکنالوجیز مجموعی طور پر پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں اور ڈیٹا سینٹرز کے آپریشنز میں پانی کی ضرورت کو کم کرتی ہیں۔

یہ معلومات وزیر مملکت برائے جل شکتی، شری راج بھوشن چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

UR-5147

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2247095) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी