جل شکتی وزارت
ڈیم بحالی و بہتری منصوبہ (مرحلہ دوم)
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 MAR 2026 4:08PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت نے ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 نافذ کیا، جو 30 دسمبر 2021 سے مؤثر العمل ہے۔ یہ ایکٹ ملک بھر میں مخصوص ڈیموں کی نگرانی، معائنہ، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاکہ ان کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا جا سکے اور ڈیم سے متعلق آفات کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے نفاذ کے بعد تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ڈیموں کے معائنے کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے، جس میں پری مانسون اور پوسٹ مانسون سیفٹی آڈٹس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، متعدد ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے جامع حفاظتی جائزوں کے لیے ماہرین پر مشتمل آزاد پینل بھی تشکیل دیے ہیں، جس سے نگرانی، دیکھ بھال اور ڈیموں کی مجموعی مضبوطی میں اضافہ ہوا ہے۔
متعلقہ ڈیم مالکان کی رپورٹ کے مطابق مخصوص ڈیموں کے مانسون سے پہلے اور مانسون کے بعد کے معائنے کی سال وار تفصیلات درج ذیل جدول میں پیش کی گئی ہیں:
|
سال
|
ڈیموں کا پری مونسن معائنہ (نمبر)
|
مانسون کے بعد ڈیموں کا معائنہ (نمبر)
|
|
2023
|
6414
|
5881
|
|
2024
|
6366
|
6456
|
|
2025
|
6524
|
6555
|
ملک بھر میں موجود منتخب ڈیموں کی حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے حکومتِ ہند بیرونی معاونت کے ساتھ ڈیم ری ہیبلیٹیشن اینڈ امپروومنٹ پروجیکٹ (ڈی آر آئی پی) فیز دوم اور سوم پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ بحالی کے اقدامات، حفاظتی بہتری اور صلاحیت سازی پر مرکوز ہے، تاکہ کمزور ڈیموں کو ساختی اور ہائیڈرولوجیکل خطرات کے مقابلے میں مضبوط بنایا جا سکے۔
مزید برآں، ڈی آر آئی پی-II کے تحت تیار کیے گئے ڈیجیٹل ٹولز ڈیم مالکان، ریاستی ڈیم سیفٹی تنظیموں اور نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کو ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت اپنی ذمہ داریاں بروقت اور مؤثر انداز میں ادا کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ، اس منصوبے کے تحت کیے گئے صلاحیت سازی کے پروگراموں نے ریاستوں میں ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈی آر آئی پی-II کے تحت جدید تشخیصی آلات، مطالعات اور بحالی کی تکنیکوں کے عملی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں، جو ریاستوں کو کم لاگت اور مؤثر حل اپنانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس اسکیم کے تحت 40 اہم ڈیموں پر بڑے پیمانے پر بحالی کے کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔
ڈی آر آئی پی فیز دوم کے تحت منصوبوں کی تقسیم عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے پیش کردہ جامع تجاویز کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جن میں منتخب ڈیموں کے لیے ابتدائی انتباہی نظام سمیت ساختی اور غیر ساختی اقدامات شامل ہوتے ہیں۔ ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے مطابق، ان ایجنسیوں نے ڈیموں کی صحت کی نگرانی کے لیے آلات کی تنصیب کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ اس ضمن میں مرکزی آبی کمیشن نے ڈیموں اور بیراجوں پر آلات سازی کے لیے معیاری بولی دستاویزات تیار کر کے ریاستوں کو فراہم کی ہیں، اور منصوبہ بندی میں تکنیکی معاونت بھی دی ہے۔ مزید برآں، عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں اپنے متعلقہ ڈیموں کے لیے ایمرجنسی ایکشن پلان (ای اے پی) تیار کر رہی ہیں اور نشیبی علاقوں کی آبادی کو بروقت خبردار کرنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام قائم کر رہی ہیں۔
نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت قائم کی گئی ہے، جو ڈیموں کے حفاظتی معیارات کی نگرانی، معائنوں کی تنظیم اور قومی ڈیم سیفٹی کمیٹی (این سی ڈی ایس) کی وضع کردہ پالیسیوں کے نفاذ کی ذمہ دار ہے۔
قانون کی دفعات کے مطابق، این ڈی ایس اے نے این سی ڈی ایس کی سفارشات کی بنیاد پر سرکاری گزٹ کے ذریعے ڈیم سیفٹی سے متعلق 20 ضوابط جاری کیے ہیں۔ مزید برآں، اتھارٹی نے رہنما اصولوں کو معیاری بنانے، قانون کی تعمیل کی نگرانی اور ریاستوں کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس سے ملک بھر میں ڈیموں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے نظام کو مزید مستحکم بنایا گیا ہے۔
ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت ڈیم مالکان اپنے متعلقہ ڈیموں کے لیے ایمرجنسی ایکشن پلان (ای اے پی) تیار کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے ساتھ مشترکہ فرضی مشقیں سیلاب اور شدید موسمی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کو بہتر بنا رہی ہیں۔ یہ مشقیں مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہیں اور ردِعمل کے نظام کو مؤثر بناتی ہیں۔
مزید برآں، نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی نے مختلف ڈیم مقامات پر کمیونٹی بیداری پروگرام بھی منعقد کیے ہیں، جن میں ریاستی حکام، دیگر متعلقہ فریقین اور نشیبی علاقوں کی مقامی آبادی شامل ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد ڈیم سیفٹی سے متعلق آگاہی بڑھانا، خطرات میں کمی کو فروغ دینا اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
یہ معلومات وزیر مملکت برائے جل شکتی، جناب راج بھوشن چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
***
UR-5146
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2247094)
وزیٹر کاؤنٹر : 6