کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت اور حد سے زیادہ ماہی گیری کا مسئلہ ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کے چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں سے نہیں ،بلکہ بھاری سبسڈی یافتہ صنعتی ماہی گیری کے بیڑوں سے جنم لیتا ہے: ڈبلیو ٹی او وزارتی کانفرنس میں مرکزی وزیر  برائےتجارت و صنعت جناب پیوش گوئل کا خطاب


جناب پیوش گوئل نے ہندوستان کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانے، روزگار فراہم کرنے اور 9 ملین سے زائد ماہی گیر خاندانوں کی مدد کرنے میں ماہی گیری کے شعبے کے اہم کردار کو اجاگر کیا

ہندوستان میں ماہی گیری کا کام بنیادی طور پر چھوٹے، روایتی اور کم تکنیکی وسائل استعمال کرنے والے ماہی گیروں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے ،جو پائیدار طریقوں کا استعمال کرتے ہیں: ڈبلیو ٹی او میں جناب گوئل

جناب گوئل نے ماہی گیری پر سالانہ پابندی جیسے ہندوستان کے فعال اور تاریخی تحفظاتی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ترجیحات میں شامل ہونے سے قبل ہی پائیداری کے تئیں ہندوستان کی طویل مدتی وابستگی رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAR 2026 8:22PM by PIB Delhi

کیمرون کے شہر یاونڈے میں26 تا 29؍ مارچ منعقدہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی چودہویں وزارتی کانفرنس (ایم سی14) میں وزرائے تجارت کے ذریعہ ماہی گیری کی سبسڈی بحث کے ایک اہم ایجنڈے میں شامل رہی ۔  کامرس و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل کی قیادت میں ہندوستانی وفد نے وزارتی فیصلے کی تشکیل میں فعال طور پر تعاون کیا جوحد سے زیادہ پیداواری صلاحیت اور زیادہ ماہی گیری سے متعلق ماہی گیری کی سبسڈی پر دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے مستقبل کا رخ طے کرتا ہے ۔

پائیداری کے خدشات کو مقدم رکھتے ہوئے اور پائیدار ترقی کے ہدف 14.6 کے مطابق ہندوستان نے اس بات پر زور دیا کہ مرحلہ دوم کے مذاکرات میں مساوات کے بنیادی اصولوں کی عکاسی ہونی چاہیے، جن میں ترقی پذیر ممالک اور کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے خصوصی و امتیازی سلوک (ایس اینڈ ڈی ٹی) نیز مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں(سی بی ڈی آر-آر سی) اور’ پلٹر پیز پرنسپل‘(آلودگی پھیلانے والا جوابدہ) کے اصول شامل ہیں۔ان اصولوں کے مطابق ہندوستان نے اہم ترجیحات کو اجاگر کیا، جن میں ترقی پذیر ممالک کے لیے 25 سالہ عبوری مدت، دور درازپانی میں کام کرنے والے صنعتی ماہی گیری کے بیڑوں پر سخت ضوابط، چھوٹے پیمانے اور روایتی ماہی گیروں کے لیے مستقل استثنا اور فی کس شدت کی بنیاد پر سبسڈی کے ضوابط شامل ہیں، جس کے ذریعے مرحلہ دوم کی بات چیت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی گئی۔

اس مسئلے پر منعقدہ وزارتی مباحثوں میں جناب گوئل نے زور دیا کہ ماہی گیری کا شعبہ ہندوستان کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانے اور روزگار فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور 9 ملین سے زائد ماہی گیر خاندانوں کی مدد کرتا ہے، جو زیادہ تر چھوٹے، روایتی اوردستی طرز کے ماہی گیر ہیں اور پائیدار طریقے اپناتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستان ایک بڑے پیمانے پر صنعتی ماہی گیری کرنے والا ملک نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس بڑے پیمانے پر دور دراز پانی میں کام کرنے والے بیڑے یا اعلیٰ مشینی نظام موجود ہیں۔ اس کے علاوہ  ہندوستان کی ماہی گیری سبسڈیز دنیا میں کم ترین میں شمار ہوتی ہیں—تقریباً فی ماہی گیر خاندان سالانہ صرف 15 امریکی ڈالر—جبکہ دیگر ممالک میں یہ رقم دسیوں ہزار تک پہنچتی ہے۔

جناب گوئل نے ماہی گیری کے نظم و نسق کے حوالے سے ہندوستان کے متوازن اور عوام مرکوز نقطۂ نظر کو پیش کیا۔ سالانہ ماہی گیری پر پابندی  سمیت  ہندوستان کی فعال اور تاریخی تحفظاتی کوششوں پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے اس بات کو اجاگر کیا کہ عالمی ترجیحات میں شامل ہونے سے بہت پہلے ہی  ہندوستان پائیداری کے تئیں اپنی طویل مدتی وابستگی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔  ہندوستان نے یہ بھی واضح کیا کہ ضرورت سے زیادہ صلاحیت اور حد سے زیادہ ماہی گیری کا مسئلہ بڑی پیمانے پر سبسڈی یافتہ صنعتی بیڑوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر و کم ترقی یافتہ ممالک کے چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا ہندوستان نے ڈبلیو ٹی او کے فورم پر اس بات پر زور دیا کہ ابھرتے ہوئے فیصلے منصفانہ ہوں اور کمزور طبقات پر غیر متناسب اثر نہ ڈالیں۔

ماہی گیری سبسڈیز سے متعلق ایم سی14 کے وزارتی فیصلے پر مذاکرات میں ہندوستان نے تعمیری انداز میں حصہ لیا اور اپنی مذاکراتی پوزیشن کو مساوات، پائیداری اور مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں کے اصولوں پر مبنی رکھا۔ ہندوستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ فیصلے ایسے مساوی اور ترقی پر مبنی نتائج فراہم کریں جو سمندری وسائل اور روزگار دونوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوں۔

***

Urdu-5094

(ش ح۔م ع ن۔م ش)


(ریلیز آئی ڈی: 2246766) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati