سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ویرندر کمار نے ڈی ایڈکشن اینڈ ریہیبلی ٹیشن کی قومی مشاورتی کمیٹی (این سی سی ڈی آر) کے پانچویں اجلاس کی صدارت کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 MAR 2026 8:03PM by PIB Delhi
ڈی ایڈکشن اینڈ ریہیبلی ٹیشن کی قومی مشاورتی کمیٹی (این سی سی ڈی آر) کا پانچواں اجلاس آج ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر ویرندر کمار، سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر نے کی۔
اس اجلاس میں جناب بی ایل ورما، سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت ، جناب سدھانش پنت، سیکرٹری، محکمہ سماجی انصاف اور تفویض اختیارات ، محترمہ پرتما گپتا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، وزارت کے سینئر افسران، مختلف لائن وزارتوں/محکموں کے ایکس آفیشیو ممبران، ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے نمائندے شریک ہوئے۔ غیر سرکاری اراکین جن میں مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، این جی اوز کے نمائندے اور اس موضوع پر مختلف اسٹیک ہولڈروں شامل ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محترمہ پرتما گپتا نے اہم ایجنڈا آئٹمز پیش کیے، جن میں نیشنل ایکشن پلان فار ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن (این اے پی ڈی ڈی آر)، نشا مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے)، این اے پی ڈی ڈی آر 2.0 کی اہم خصوصیات، اور 2026-29 کے لیے مجوزہ اسٹریٹجک ایکشن پلان کی کام یابیوں کو اجاگر کیا گیا۔
مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر ویرندر کمار نے نیشنل کنسلٹیٹو کمیٹی کے تمام ارکان پر زور دیا کہ وہ اس اہم قومی مسئلے یعنی منشیات کی طلب میں کمی پر فعال اور باقاعدگی سے اپنی رائے، تجاویز اور فیڈبیک دیے۔
اجلاس میں کئی اہم مسائل پر تفصیلی بحث ہوئی، جن میں شامل ہیں:
1۔ روک تھام کی کوششوں کو مضبوط بنانا: خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کو ہدف بناتے ہوئے احتیاطی سرگرمیوں کو بڑھانے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبا کو منشیات کی آگاہی اور روک تھام کے لیے فعال طور پر شامل کرنے پر زور دیا گیا۔
2۔ ڈی ایڈکشن اور بحالی کی خدمات کی توسیع: ملک بھر میں مخصوص ڈی ایڈکشن اور بحالی کی سہولیات کو نمایاں طور پر بڑھانے کی ضرورت، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص مراکز قائم کرنے پر توجہ دینا، اور یہ یقینی بنانا کہ تمام خدمات معیاری آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل کریں۔
3۔ سہولیات کی نقشہ سازی اور انضمام: مختلف وزارتوں اور محکموں کے تحت دستیاب موجودہ نشے اور بحالی کی سہولیات کی جامع نقشہ بندی، ساتھ ہی زیادہ تعاون اور انضمام کرنا۔
4۔ مضبوط نگرانی کا فریم ورک: تمام منشیات کی طلب میں کمی کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ علاج اور بحالی کی خدمات کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا۔
5. نشا مکت بھارت ابھیان (این ایم بی اے) کو وسعت دینا: ملک بھر میں این ایم بی اے کی سرگرمیوں کو مزید وسعت اور شدت دی جائے تاکہ وسیع تر آگاہی اور اثر پیدا کیا جا سکے۔
6۔ کلیدی پلیٹ فارمز کے درمیان ہم آہنگی: اس بات پر بات کی گئی کہ نشا مکت بھارت ابھیان کمیٹی اور این سی او آر ڈی (نارکوٹکس کوآرڈینیشن میکانزم) کے اجلاس ایک ساتھ منعقد کیے جائیں تاکہ ریاستی اور ضلعی سطح پر سپلائی میں کمی اور طلب میں کمی کے مسائل کو جامع طور پر حل کیا جا سکے۔
اجلاس کا اختتام منشیات کے خطرے کے خلاف لڑائی کو مرکزی حکومت، ریاستوں/یو ٹی ایس، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کی مربوط اور کثیر فریقی کوششوں کے ذریعے مضبوط کرنے کے اجتماعی عزم کے ساتھ ہوا۔
***
(ش ح – ع ا)
U. No. 5092
(ریلیز آئی ڈی: 2246702)
وزیٹر کاؤنٹر : 13