نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے راجکوٹ کی آر کے یونیورسٹی میں “وکست بھارت یووا سمواد” سے خطاب کیا


راجکوٹ میں منعقدہ “وکست بھارت یووا سمواد” میں ایک ہزار سے زائد طلبہ کی شرکت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAR 2026 5:44PM by PIB Delhi

راجکوٹ کی آر کے یونیورسٹی میں “وکست بھارت یووا سمواد” کا ایک متحرک اور پُرجوش اجلاس منعقد ہوا، جس میں 1000 سے زائد طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ اس موقع پر مرکزی وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل اور محنت و روزگار ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے اور انہوں نے نوجوانوں کو ہندوستان کی ترقی کے سفر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر میں نوجوانوں کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی صرف مستقبل ہی نہیں بلکہ آج بھی تبدیلی کی محرک بن رہی ہے۔

انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نیشن فرسٹ کے نظریے کو اپنائیں اور ملک کی ترقی کے سفر میں قیادت کا کردار ادا کریں۔

 

انہوں نے نئی قیادت کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جناب نریندر مودی نے 15 اگست 2024 کو لال قلعہ سے اپنے خطاب میں ایسی ایک لاکھ نئی نوجوان قیادت کو آگے لانے کی اپیل کی تھی جن کا سیاسی پس منظر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ قیادت کا تعلق نیت اور عمل سے ہوتا ہے، اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر عوامی زندگی میں اپنا کردار ادا کریں اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔

 

نوجوانوں کے عملی کردار پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے مائی بھارت پورٹل (mybharat.gov.in) کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو نوجوانوں کو قوم کی تعمیر سے متعلق مواقع سے جوڑتا ہے اور انہیں سیوا (خدمت) کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026 نوجوانوں کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بجٹ کویسٹ جیسے اقدامات کا ذکر کیا، جس کے ذریعے نوجوانوں کو بجٹ کو سمجھنے میں شامل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ  کا بھی حوالہ دیا جس کا مقصد باشعور اور ذمہ دار نوجوان قیادت کو تیار کرنا ہے۔

 

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو ہندوستان کی جڑوں سے جڑے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پرانی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، دھولاویرا جیسے تاریخی مقامات سے ترغیب حاصل کرنی چاہیے اور “وکاس بھی، وراثت بھی” کے وژن کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، یعنی ترقی کے ساتھ اپنی ثقافت اور وراثت کو بھی محفوظ رکھا جائے۔

 

اس مکالمے میں طلبہ نے بھرپور شرکت کی، سنجیدہ سوالات اٹھائے اور قوم کی تعمیر میں بامعنی کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ پروگرام کا اختتام ایک دلچسپ گفتگو اور طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن پر ہوا۔

اس موقع پر این سی سی کے رضاکاروں نے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ کو ایک پینٹنگ پیش کی، جبکہ آر کے یو سوشل کلب نے انہیں “بایو ڈائیورسٹی بک” پیش کی۔ تقریب کا اختتام آر کے یونیورسٹی کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ دنیش پٹیل کی جانب سے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :5079    )


(ریلیز آئی ڈی: 2246568) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी