سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مودی حکومت مقامی صلاحیتوں اور دیسی ٹیکنالوجیز پر توجہ کے ساتھ صاف توانائی کی منتقلی کو تیز کر رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ہندوستان ’’سبز‘‘ مستقبل کی جانب عالمی کردار کے لیے تیار، صاف توانائی کی منتقلی ایک وسیع قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مصنوعی ذہانت وغیرہ سے وابستہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں جوہری توانائی مرکزی کردار ادا کرے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

حکومت اور نجی شعبے کے درمیان اشتراکی ماڈل اسٹریٹجک شعبوں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 5:53PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، نیز وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت کی صاف توانائی کی جانب منتقلی ایک وسیع قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد درآمدات پر انحصار کم کرنا، مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور ملک کو ایک سرسبز مستقبل کی جانب عالمی تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

کلائمٹ، سرکیولیرٹی اور کمیونٹی سے متعلق پلینیٹ سی 3 سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ صاف توانائی کا ایجنڈا ایک وسیع دائرہ کار پر مشتمل ہے، جس میں لیتھیم اور نایاب زمینی عناصر پر مبنی مستقل مقناطیس جیسے اہم وسائل کا حصول، گھریلو مینوفیکچرنگ میں اضافہ، اختراع کی رفتار تیز کرنا اور نئی پالیسی مداخلتیں شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت پائیدار ترقی کی جانب منتقلی میں ایک اہم عالمی آواز کے طور پر ابھرا ہے، اور اس مقام کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ اقدامات کو تیزی سے وسعت دینا اور نئے اقدامات کو مقررہ مدت میں شروع کرنا ضروری ہے۔

اہم مواد کی بڑھتی ہوئی طلب کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برقی نقل و حرکت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، خلائی اور دفاع جیسے شعبے تیزی سے لیتھیم اور مستقل مقناطیس جیسے وسائل پر منحصر ہوتے جا رہے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ بھارت اپنی ضروریات کا بڑا حصہ اس وقت درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے مقامی صلاحیت کو تیزی سے فروغ دینا ناگزیر ہے۔

طلب اور پیداوار کے درمیان فرق کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ آئندہ برسوں میں مستقل مقناطیس کی ملک میں ضرورت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اگرچہ مقامی صلاحیت کو مرحلہ وار بڑھایا جا رہا ہے، تاہم طلب کے رسد سے آگے بڑھنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر تیز رفتار توسیع ضروری ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت نے اس سمت میں پہلے ہی اقدامات کیے ہیں، جن میں وشاکھاپٹنم میں پہلے دیسی مستقل مقناطیس پلانٹ کا قیام شامل ہے، جس کی صلاحیت میں آئندہ مراحل میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ پالیسی اقدامات، بشمول نایاب زمینی مقناطیس سے متعلق مخصوص پالیسی، مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔

وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ توانائی کی سلامتی بھارت کی تکنیکی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کے تناظر میں، جنہیں مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی کو ایک قابلِ اعتماد ذریعہ کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، اور نیوکلیئر انرجی مشن کے تحت 2047 تک مرحلہ وار اور مقررہ مدت کے مطابق صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر نے کہا کہ جوہری شعبے میں وسیع تر شرکت کو ممکن بنانے کا فیصلہ ایک زیادہ مربوط اور اشتراکی ترقیاتی ماڈل کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت حکومت اور غیر سرکاری فریقین کو یکجا کر کے اہم شعبوں میں پیش رفت کو تیز کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے صاف توانائی اور ٹیکنالوجی کے اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے مشن موڈ طریقۂ کار اختیار کیا ہے، جس کے تحت نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن، انڈیا اے آئی مشن، نیشنل کوانٹم مشن اور بایوٹیکنالوجی پروگرامز جیسے اقدامات ایک وسیع اور باہم مربوط حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے اجاگر کیا کہ ان کوششوں کو تحقیق اور اختراع میں عوامی سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے تقویت دی جا رہی ہے، جس میں تحقیق و ترقی کے لیے مخصوص فنڈ اور ادارہ جاتی نظام جیسے نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن شامل ہیں، تاکہ تحقیقی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے منظم پلیٹ فارمز قائم کیے گئے ہیں، جو پہلے کے منتشر طریقۂ کار کی جگہ لے رہے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے شراکت داروں کی نشاندہی، ٹیکنالوجی کی توسیع اور مختلف شعبوں بشمول خلائی اور بایوٹیکنالوجی میں تحقیق کو منڈی کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ممکن ہو رہا ہے۔

بھارت کے اختراعی ماحولیاتی نظام کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ملک میں اسٹارٹ اپس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر رہے ہیں اور تکنیکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسٹارٹ اپس کا ایک نمایاں حصہ خواتین کی قیادت میں ہے، جو اختراعی منظرنامے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ چیلنج کے حجم کے پیش نظر فوری اقدامات اور باہمی ہم آہنگی دونوں ضروری ہیں، کیونکہ اہم شعبوں میں طلب کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا نقطۂ نظر خود انحصاری اور عالمی شراکت داری کا امتزاج ہے، تاکہ صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجیز میں پیش رفت نہ صرف قومی ترجیحات بلکہ عالمی پائیداری کے اہداف کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہو۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0019284.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002WBNM.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-5048


(ریلیز آئی ڈی: 2246303) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी