کامرس اور صنعت کی وزارتہ
کیمرون کی صدارت میں عالمی تجارتی تنظیم کی 14 ویں وزارتی کانفرنس 26 سے29 مارچ 2026 تک یاؤنڈےمیں منعقد ہوگی
کامرس اور صنعت کےمرکزی وزیر جناب پیوش گوئل ڈبلیو ٹی او کی وزارتی کانفرنس میں سینئر حکام اور ماہرین کے ساتھ ہندوستانی وفد کی قیادت کریں گے
ڈبلیو ٹی او کی وزارتی کانفرنس میں اصلاحات، ای کامرس، سرمایہ کاری کی سہولت، ماہی پروری سبسڈی اور زراعت سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 5:06PM by PIB Delhi
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی 14ویں وزارتی کانفرنس (ایم سی14)26 سے29 مارچ تک کیمرون کے شہر یاؤنڈے میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کی صدارت کیمرون کے وزیر تجارت جناب لیوک میگ لائر مبارگا اتانگانا کریں گے، رکن ممالک کے وزرائے تجارت عالمی تجارتی نظام پر اثر انداز ہونے والے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے شرکت کریں گے۔
ہندوستانی وفد کی قیادت کامرس اور صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل کریں گے۔ وفد میں محکمہ تجارت کے سینئر عہدیدار، جنیوا میں ہندوستان کے مستقل مشن کے عہدیدار، مختلف متعلقہ وزارتوں/محکموں کے نمائندے اور مختلف ڈائیلاگ سیشنز میں حصہ لینے والے تکنیکی اور قانونی ماہرین شامل ہوں گے۔
بحث کے لیے ایجنڈے کے کلیدی آئٹمز میں ڈبلیو ٹی او کی اصلاحات، ای کامرس کے کام کے پروگرام اور موقوف، ترقی کے لیے سرمایہ کاری کی سہولت (آئی ایف ڈی)، ماہی گیری کی سبسڈی اور زراعت اور ترقی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔
کانفرنس (ایم سی 14) میں ہندوستان کی شرکت تعمیری، متوازن اور ترقی پر مبنی رہے گی۔ ہندوستان ترقی کے خدشات کو مرکوز کرتے ہوئے کثیر الجہتی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے بامعنی ڈبلیو ٹی او اصلاحات کی حمایت جاری رکھے گا۔ ہندوستان ڈبلیو ٹی او کے کثیر جہتی مینڈیٹ کا احترام کرنے، خوراک کی حفاظت کو ترجیح دینے، چھوٹے کسانوں اور ماہی گیروں کی روزی روٹی کی حفاظت اور ڈیجیٹل تجارت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مناسب پالیسی کی جگہ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دے گا۔
ایم سی 14 کی تیاریوں کے دوران، ہندوستان نے مستقل طور پر ایک کھلے، منصفانہ، جامع اور غیر امتیازی کثیر جہتی تجارتی نظام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جس کا مرکز ڈبلیو ٹی او ہے۔ ہندوستان نے ڈبلیو ٹی او کے فریم ورک کے بنیادی ستون کے طور پر عدم امتیاز کے اصول کو دہرایا، جیسا کہ مراکش معاہدے میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس نے ترقی پر مرکوز ایجنڈے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس میں غذائی تحفظ کے مقاصد کے لیے عوامی ذخیرہ اندوزی کا مستقل حل، ترقی پذیر ممالک اور کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈیسی) کے لیے مؤثر‘‘خصوصی اور امتیازی سلوک(ایس اینڈ ڈی ٹی)’’ کی دفعات اور مکمل طور پر فعال، خودکار اور پابند تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار کی بحالی شامل ہے۔
پی ایس ایچ پر ایک مستقل حل ہندوستان کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ ملک کے کسانوں کا ایک بڑا حصہ کم آمدنی والے اور وسائل سے تنگ ہیں اور قیمت کی یقین دہانی اور روزی روٹی کی حفاظت کے لیے کم از کم امدادی قیمت کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری کی سبسڈی پر، ہندوستان نے ایک متوازن نقطہ نظر کی وکالت کی جو ماہی گیروں کی روزی روٹی کی حفاظت کرتے ہوئے پائیداری کے خدشات کو دور کرتی ہے۔ ہندوستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دور دراز کے سمندری ماہی گیری والے ممالک کو متناسب ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں، بشمول ان کی صلاحیت میں بتدریج کمی۔
آئی ایف ڈی ایجنڈے پر، ہندوستان ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بناتے ہیں۔ ای کامرس موقوف کے بارے میں، ہندوستان نے ڈیجیٹل معیشت کی تیزی سے بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کیا، خاص طور پر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تناظر میں، اور ممالک کو ان پیشرفتوں کو مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کے لیے پالیسی کی جگہ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ہندوستان اپنے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو بھی فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ حال ہی میں، ہندوستان نے برطانیہ اور عمان کے ساتھ بڑے آزاد تجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دی ہے اور دوسرے اہم شراکت داروں جیسے نیوزی لینڈ اور یورپی یونین کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کی ہے۔ ہندوستان کے ایف ٹی اے ڈبلیو ٹی او کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور قواعد پر مبنی کثیر جہتی تجارتی نظام کے تئیں ہندوستان کی وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس وقت پارٹنر ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے کے متعدد مذاکرات جاری ہیں۔
ایم سی 14 کے موقع پر تجارت اور صنعت کے وزراء اور کامرس سیکرٹریوں کی سطح پر کئی دو طرفہ میٹنگز طے ہیں۔ یہ ملاقاتیں ایجنڈے کے اہم آئٹمز پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تجارتی امور پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع فراہم کریں گی۔
***
ش ح۔ ک ا۔ م ش
U.NO.4985
(ریلیز آئی ڈی: 2245893)
وزیٹر کاؤنٹر : 5