مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سیارچہ مواصلاتی  بنیادی ڈھانچہ اور خلائی مشنوں کو تعاون

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 5:23PM by PIB Delhi

ڈپارٹمنٹ آف ٹیلی کمیونیکیشن نے کاروبار میں آسانی کے لیے سیٹلائٹ کمیونیکیشن ریفارمز 2022 کا اعلان کیا اور اسے نافذ کیا، بہت سے عمل کو ہموار کیا اور مختلف چارجز کو معقول بنایا۔

اس کے علاوہ، 2020 میں اعلان کردہ خلائی شعبے کی اصلاحات، سیٹلائٹ پر مبنی خدمات فراہم کرنے کے لیے سیٹلائٹ سسٹمز کی تعمیر/لیز پر دینے، ملکیت اور آپریٹ کرنے کے لیے غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کی بڑی شرکت کو قابل بناتی ہیں۔ حکومت ہند نے 2020 کے خلائی شعبے کی اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر، خلائی سرگرمیوں میں پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت کو فروغ دینے اور اس کی نگرانی کرنے کے لیے ایک خود مختار نوڈل ایجنسی، یعنی انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (اِن-اسپیس) ڈپارٹمنٹ آف اسپیس (ڈی او ایس) کے تحت قائم کی ہے۔ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی  اور مدد کے لیے ان اسپیس کے ذریعہ مختلف اقدامات کیے گئے ہیں اور انہیں نافذ کیا گیا ہے۔ ان میں سیڈ فنڈ اسکیم، تکنیکی مراکز، این جی ایز کے لیے ڈیزائن لیب، خلائی شعبے میں ہنرمندی ترقی، اسرو فیسلٹی یوٹیلائزیشن سپورٹ، این جی ایز کے لیے تکنالوجی کی منتقلی، خلائی ماحولیاتی نظام کے تمام تر متعلقہ فریقوں  کے ساتھ جڑنے کے لیے اِن اسپیس ڈیجیٹل فارم کی تشکیل، وغیرہ شامل ہیں۔

یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جو بنیادی ڈھانچہ بنایا گیا ہے وہ خلائی مشن کو بھی سپورٹ کرے گا۔

محکمہ ٹیلی مواصلات(ڈی او ٹی) نے ہندوستان میں ٹیلی کام ماحولیاتی نظام کو بڑھانے کے لیے تعلیمی شعبوں، اسٹارٹ اپس، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، مواصلاتی ٹیکنالوجیز میں تحقیق اور ترقی (تحقیق و ترقی) کو فروغ دینے اور فنڈ دینے کے لیے ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ (ٹی ٹی ڈی ایف) اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ یہ اعلی درجے کے اینٹینا سسٹم کی ترقی میں بھی مدد کرنے کا امکان ہے۔

اندرونِ ملک اشیاء سازی کی حوصلہ افزائی کے لیے، محکمہ ٹیلی مواصلات نے 05.05.2025 کو ہدایات جاری کیں، جن میں بتاگیا کہ  یونیفائیڈ لائسنس (یو ایل) کے تحت، سیارچہ خدمات کے ذریعہ عالمی موبائل نجی مواصلات (جی ایم پی سی ایس)  کے حامل لائسنس  کا مقصد سیٹلائٹ نیٹ ورک کے اپنے گراؤنڈ سیگمنٹ کی کم از کم 20 فیصد کے بقدر سطح تک اندرونِ ملک اشیاء سازی کا ہدف حاصل کرنا ہے، جسے تجارتی آپریشنوں کے آغاز کی تاریخ کے بعد  5 برسوں کے اختتام پر قائم  کیاجاتا ہے۔

یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ پہل قدمیاں خلائی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں اضافہ کریں گی اور خلائی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کریں گے جس میں خلائی مواصلاتی نیٹ ورک، سیٹلائٹ مشن سپورٹ اور تکنیکی خود انحصاری شامل ہے۔

یہ معلومات مواصلات اور دیہی ترقی کے وزیر مملکت ڈاکٹر پیمسانی چندر شیکھر کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی گئی۔

 

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4925


(ریلیز آئی ڈی: 2245383) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी