ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت نے نایاب ارضیاتی دھاتوں اور لیتھیم کی تلاش میں تیزی لائی، نایاب ارضیاتی مستقل مقناطیس کی گھریلو پیداواری صلاحیت 2030 تک 5,000 ٹن تک پہنچ جائے گی: لوک سبھا میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بیان


موجودہ ضابطوں کوآسان بنانے اور شانتی ایکٹ کے ذریعے نجی شعبے کے لیے راہیں کھولنے سے گھریلو صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور درآمدات میں کمی آئے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ لیتھیم اور نایاب ارضیاتی عناصر بھارت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہیں، بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس، دفاع، ہوا بازی اور خلائی شعبوں میں۔  یہ عناصر  ماحولیات کےسازگارتوانائی کی منتقلی کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی معاونت میں بھی اہم کردار ادا کریں گے جنہیں قابل بھروسہ توانائی کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 3:49PM by PIB Delhi

بھارت نے نایاب ارضیاتی مستقل مقناطیس کی گھریلو پیداوار بڑھانے اور لیتھیم جیسی اہم معدنیات کی تلاش میں تیزی لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت 2030 تک پیداواری صلاحیت 5,000 ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، یہ بات سائنس اور ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیراعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں کہی۔

موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات کے دوران سلسلہ وار سوالات کا جواب دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کی نایاب ارضیاتی مستقل مقناطیس کی موجودہ ضرورت تقریباً 4,000 ٹن ہے، جس کے 2030 تک بڑھ کر تقریباً 8,000 ٹن ہونے کا تخمینہ ہے، جو کہ گھریلو صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے اطلاع دی کہ حال ہی میں 'نیوڈیمیم-آئرن-بورون' مستقل مقناطیس پر ایک آزمائشی منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جبکہ وشاکھاپٹنم میں 'سماریم-کوبالٹ' میگنیٹ پلانٹ کو 500 ٹن سالانہ کی ابتدائی پیداواری صلاحیت کے ساتھ فعال کر دیا گیا ہے۔ اس صلاحیت کو اگلے مرحلے میں بڑھا کر 2,000 ٹن اور مزید 2030 تک 5,000 ٹن تک پہنچایا جائے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت اہم معدنیات کی تلاش اور ترقی کو تیز کرنے کے لیے حکومت کے جامع طریقۂ کار کے تحت تمام وزارتوں کے درمیان قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

راجستھان کے ڈیگانہ میں لیتھیم کے ذخائر کے بارے میں محترمہ مہیما کماری میوار کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ابتدائی سروے کی سرگرمیاں پہلے ہی جاری ہیں اور مزید تلاش کا کام جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیتھیم کی تلاش وزارتِ معدنیات کے تحت آتی ہے اور ایسی ہی کوششیں جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں بھی جاری ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ لیتھیم اور نایاب ارضیاتی عناصر الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس، دفاع، ہوا بازی اور خلائی استعمال جیسے شعبوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ماحولیات کے لیے ساز گار توانائی کی منتقلی کے ساتھ ساتھ ایسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی معاونت میں اہم کردار ادا کریں گے جنہیں قابلِ اعتماد توانائی کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیر موصوف نے یہ بھی مطلع کیا کہ جوہری توانائی (ترمیمی) فریم ورک کے تحت ضوابط سمیت حالیہ پالیسی اقدامات نے نجی شعبے کی شرکت کے لیے کئی اہم معدنیات کی تلاش کے راستے کھول دیے ہیں، جبکہ یورینیم جیسے اسٹریٹیجک وسائل کے لیے حفاظتی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں۔

حالیہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو، اڈیشہ، آندھرا پردیش اور کیرالہ میں نایاب ارضیاتی راہداریوں کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے لیے گھریلو نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ نایاب ارضیاتی عناصر ساحلی ریت کی معدنیات اور چٹانی سلسلوں دونوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی تلاش کے لیے جغرافیائی حالات کے لحاظ سے مختلف طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راجستھان، گجرات اور جھارکھنڈ سمیت کچھ خطوں میں چٹان پر مبنی معدنیات کے اہم ذخائر موجود ہیں جن کی تلاش نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہے۔

ماحولیاتی اثرات سے متعلق خدشات پر انہوں نے واضح کیا کہ کان کنی سے متعلق حفاظتی اقدامات وزارتِ معدنیات اور متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور انہوں نے غیر قانونی کان کنی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت درآمدی انحصار کو کم کرنے، گھریلو پیداوار بڑھانے اور مستقبل کی صنعتی و تکنیکی ترقی کی حمایت کے لیے ایک پائیدار سپلائی چین بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اہم معدنیات کے شعبے میں اپنی پوزیشن کو مستقل طور پر مضبوط کر رہا ہے۔

   

********

ش ح۔ م ع۔ص ج

U. No.4885

 


(ریلیز آئی ڈی: 2245326) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu