خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال:  نا وِک  سیٹلائٹ نظام  

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 2:48PM by PIB Delhi

ناوک سیٹلائٹس کی کل تعداد گیارہ ہے؛ ان میں سے آٹھ سیٹلائٹس فعال ہیں۔ تین سیٹلائٹس نیویگیشن سگنلز نشر کر رہے ہیں  ، جب کہ پانچ سیٹلائٹس یک طرفہ پیغام رسانی کے لیے سگنلز فراہم کرنے کی صلاحیت  کے حامل ہیں۔

ناوک نظام کو  ، اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ بھارت اور اس کے زمینی حدود سے تقریباً 1500 کلومیٹر تک کے علاقے میں پوزیشن، نیویگیشن اور ٹائمنگ ( پی این ٹی )    خدمات فراہم کر سکے۔ اس کا استعمال مختلف شعبوں جیسے شہری نیویگیشن، بحری آپریشنز اور  آفات کے بندوبست  میں کیا جا سکتا ہے۔  ہوائی ٹریفک مینجمنٹ میں ناوک کے استعمال کے حوالے سے ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور وزارت شہری ہوا بازی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کا خلائی بنیاد پر  توسیع شدہ نظام ’’  گگن ( جی اے جی اے این )  ‘‘  پہلے ہی فعال ہے اور فضائی نیویگیشن کے لیے خدمات فراہم کر رہا ہے۔

محکمہ خلاء  ( ڈی او ایس )    ، ناوک کے استعمال کو مزید وسعت دینے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے، خاص طور پر اہم شعبوں جیسے ریئل ٹائم ٹرین ٹریکنگ، ماہی گیری کشتیوں کے لیے مواصلاتی نظام، عوامی و کمرشل گاڑیوں میں مسافروں کی حفاظت کے لیے لوکیشن  نظام  اور بھارتی معیاری وقت  ( آئی ایس ٹی )   کی ترسیل  شامل ہیں ۔

محکمہ خلاء  ، ناوک اور اس سے متعلقہ سیٹلائٹ نظام کو مؤثر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے تاکہ محفوظ نیویگیشن خدمات فراہم کی جا سکیں۔ مستقبل کے منصوبوں میں ناوک کے بنیادی سیٹلائٹ نظام کی تکمیل کرنا ، صارفین کی ضروریات کے مطابق خدمات میں بہتری  لانا اور مقامی ٹیکنالوجی جیسے خلائی معیار کی ایٹمی  کلاک کی شمولیت شامل ہے تاکہ تکنیکی  طور پر خود  کفیل بننے  کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ معلومات عملہ، عوامی شکایات اور پنشن    کی وزارت اور وزیر اعظم کے دفتر  میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج)  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب  میں فراہم کیں ۔

****

) ش ح –    ش ب    -  ع ا )

U.No. 4876


(ریلیز آئی ڈی: 2245055) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी