وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
تمل ناڈو میں ایف آئی ڈی ایف
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 11:43AM by PIB Delhi
ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کا محکمہ ماہی پروری مالی سال19-2018 سے ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) نافذ کر رہا ہے، جس کا کل حجم 7522.48 کروڑ روپے ہے، تاکہ ملک میں ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کو قائم اور مضبوط بنایا جا سکے۔ ایف آئی ڈی ایف ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں ، ریاستی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سمیت اہل اداروں (ای ای) کو ماہی گیری کے مختلف بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی ترقی کے لیے رعایتی مالی مدد فراہم کرتا ہے ۔ ایف آئی ڈی ایف کے تحت حکومت ہند کے محکمہ ماہی پروری قرض فراہم کرنے والے نوڈل اداروں (این ایل ای) کے ذریعہ 5؍فیصد سالانہ سے کم شرح سود پر رعایتی مالی مدد فراہم کرنے کے لیے 3؍فیصد سالانہ تک سود کی رعایت فراہم کرتا ہے ۔
ایف آئی ڈی ایف کے تحت، حکومت ہند کا محکمہ ماہی پروری قرض فراہم کرنے والے نوڈل اداروں(این ایل ای ایز) کے ذریعے فراہم کی جانے والی رعایتی مالی معاونت پر سالانہ 3 فیصد تک سود میں رعایت دیتا ہے، بشرطیکہ شرح سود سالانہ 5 فیصد سے کم نہ ہو۔ایف آئی ڈی ایف اسکیم کے تحت وزارت برائے ماہی پروری، مویشی کی پرورش اور ڈیری کے محکمہ ماہی پروری نے اب تک مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول تمل ناڈو کے لیے کل 228 تجاویز/منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن کی مجموعی لاگت 5559.54 کروڑ روپے ہے، جبکہ سود میں رعایت کے لیے منصوبوں کی لاگت کو 4351.86 کروڑ روپے تک محدود رکھا گیا ہے۔
ان میں سے نوڈل قرض فراہم کرنے والے اداروں (این ایل ای ایز) نے اب تک 111 منصوبوں کے لیے 4212.05 کروڑ روپے کے قرضے منظور کیے ہیں اور مستفید ریاستوں اور دیگر اداروں کو 1600.56 کروڑ روپے کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔
ماہی پروری کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایف آئی ڈی ایف کے تحت اب تک منظور شدہ منصوبوں کی تمل ناڈو سمیت ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ذیل میں پیش کی گئی ہیں۔
(رقم کروڑ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
ریاست کا نام
|
نجی منصوبوں کی تعداد
|
سرکاری منصوبوں کی تعداد
|
منظور شدہ منصوبوں کی تعداد
|
منصوبوں کی لاگت
|
سود کی رعایت کے لیے اہل رقم
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
8
|
0
|
8
|
211.88
|
124.42
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
1
|
0
|
1
|
0.68
|
0.54
|
|
3
|
آسام
|
1
|
0
|
1
|
0.41
|
0.18
|
|
4
|
گوا
|
1
|
4
|
5
|
38.05
|
36.58
|
|
5
|
گجرات
|
1
|
4
|
5
|
984.74
|
617.45
|
|
6
|
ہماچل پردیش
|
0
|
1
|
1
|
5.17
|
5.00
|
|
7
|
جموں و کشمیر
|
3
|
0
|
3
|
130.21
|
100.78
|
|
8
|
کرناٹک
|
2
|
2
|
4
|
43.44
|
42.79
|
|
9
|
کیرالہ
|
6
|
1
|
7
|
262.90
|
234.97
|
|
10
|
مہاراشٹر
|
36
|
6
|
42
|
1230.901
|
941.17
|
|
11
|
منی پور
|
4
|
0
|
4
|
1.15
|
0.90
|
|
12
|
میزورم
|
1
|
0
|
1
|
4.14
|
3.30
|
|
13
|
اوڈیشہ
|
1
|
7
|
8
|
120.17
|
59.48
|
|
14
|
پڈوچیری
|
2
|
0
|
2
|
3.08
|
2.46
|
|
15
|
تمل ناڈو
|
7
|
101
|
108
|
2169.03
|
1955.98
|
|
16
|
تلنگانہ
|
1
|
0
|
1
|
4.70
|
2.31
|
|
17
|
اتر پردیش
|
2
|
0
|
2
|
75.22
|
60.09
|
|
18
|
مغربی بنگال
|
4
|
6
|
10
|
71.78
|
49.60
|
|
19
|
اتراکھنڈ
|
0
|
1
|
1
|
170.00
|
133.00
|
|
20
|
مدھیہ پردیش
|
4
|
1
|
5
|
6.90
|
5.52
|
|
21
|
جھارکھنڈ
|
7
|
0
|
7
|
24.51
|
16.67
|
|
22
|
بہار
|
2
|
0
|
2
|
20.29
|
19.61
|
|
|
کل
|
95
|
133
|
228
|
5559.54
|
4351.86
|
تکنیکی مالی تجاویز کی وصولی کی بنیاد پر حکومت ہند کے محکمہ ماہی پروری نے تمل ناڈو حکومت کی 2404.03 کروڑ روپے کی کل لاگت والی کل 108 تجاویز کومنظوری دے دی ہے ، جس میں ایف آئی ڈی ایف کے تحت 2129.84 کروڑ روپے کی سود کی رعایت کے لیے پروجیکٹ کی لاگت کو محدود کیا گیا ہے ۔ منظور شدہ 108 پروجیکٹوں میں سے 60 پروجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں اور باقی پروجیکٹ نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں ۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایف آئی ڈی ایف کے تحت امداد یافتہ منصوبوں میں بنیادی طور پر ماہی پروری کی بندرگاہیں، مچھلی اُتارنے کے مراکز، آئس پلانٹس، کولڈ اسٹوریج، مچھلی کی نقل و حمل کی سہولیات، مربوط کولڈ چین (سمندری اور اندرون ملک شعبہ)، مچھلی کے جدید بازار، بروڈ بینکس، ہیچریز، مچھلی کی افزائش کے لیے ریاستی فارموں کی جدید کاری، ماہی پروری کے تربیتی مراکز، مچھلی کی پروسیسنگ یونٹس، مچھلی کی خوراک تیار کرنے والے ادارے، آبی ذخائر میں کیج کلچر (پنجرہے میں ماہی پروری) اور سمندری ماہی پروری وغیرہ شامل ہیں۔
منظور شدہ 228 منصوبوں میں سے مجموعی طور پر 68 منصوبے (جن میں 60 سرکاری اور 8 نجی منصوبے شامل ہیں) مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی منصوبے مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں۔ ایف آئی ڈی ایف کے تحت تیار کیے گئے بنیادی ڈھانچے، جیسے بندرگاہیں، کولڈ چین اور ہیچریز (مچھلی کے انڈے کا رکھ رکھاؤ )وغیرہ کی شعبہ وار تفصیلات ذیل میں پیش کی گئی ہیں۔
(رقم کروڑ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
سرگرمی کا نام
|
منظور شدہ منصوبوں کی تعداد
|
منصوبوں کی کل لاگت
|
سود میں رعایت کے لیے محدود کردہ منصوبہ لاگت
|
|
1
|
بروڈ بینکس(مچھلی کی افزائش کے مراکز)
|
2
|
14.20
|
11.36
|
|
2
|
آئس پلانٹس/کولڈ اسٹوریج
|
5
|
11.25
|
7.56
|
|
3
|
ذخائر میں کیج کلچر اور میری کلچر سمیت آبی زرعات کی ترقی
|
8
|
12.55
|
7.32
|
|
4
|
مچھلی کو اتارنے کے مراکز
|
60
|
343.46
|
298.39
|
|
5
|
مچھلی کی پروسیسنگ کےیونٹس
|
15
|
370.17
|
224.23
|
|
6
|
مچھلی کی افزائش کے جدید فارم
|
34
|
144.43
|
127.33
|
|
7
|
ماہی گیری کی بندرگاہ اور ماہی گیری کی بندرگاہ سمیت اضافی سہولیات
|
28
|
3803.86
|
3053.04
|
|
8
|
ہیچریوں کی ترقی
|
4
|
7.86
|
2.10
|
|
9
|
فش فیڈ ملز(مچھلی کی خوراک تیار کرنے والے ادارے)
|
3
|
3.57
|
2.86
|
|
10
|
ٹریننگ سنٹر/ٹیکنالوجی ڈفیوژن سنٹر
|
11
|
60.78
|
49.51
|
|
11
|
گہرے سمندر میں ماہی گیری کا جہاز
|
2
|
4.96
|
1.92
|
|
12
|
جدید منصوبے/ سرگرمیاں
|
55
|
782.18
|
566.03
|
|
13
|
امراض کی تشخیصی لیبارٹری کا قیام
|
1
|
0.27
|
0.21
|
|
|
کل
|
228
|
5559.54
|
4351.86
|
مرکزی حکومت کی دیگراسکیموں جیسے پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی) اور ریاستی حکومت کی اپنی اسکیموں کی کوششوں کی تکمیل اور تقویت کے لیے ایف آئی ڈی ایف بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک مؤثر مالیاتی نظام کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ پی ایم ایم ایس وائی ترقیاتی معاونت فراہم کرتا ہے۔ یہ دونوں مل کر پائیدار ترقی، مچھلی کی پیداوار میں اضافہ، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ماہی پروری کی برآمدات میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں ماہی گیروں اور مچھلی فارمرز کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔گزشتہ پانچ برسوں (21-2020سے25-2024) کے دوران مچھلی کی پیداوار20-2019 میں 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 25-2024میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی۔ اسی طرح سمندری خوراک کی برآمدات بھی 20-2019میں 46,666 کروڑ روپے سے بڑھ کر 25-2024میں 62,408 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرب لالن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کی۔
***
ش ح ۔ م ع ن۔ م ش
U. No.4853
(ریلیز آئی ڈی: 2244945)
وزیٹر کاؤنٹر : 6