زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے پیداواری صلاحیت، پائیداری اور کسانوں کی بہبود کو بڑھاوا دینے کے لیے دو اقدامات ڈی ڈی کے وائی اور نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ کا آغاز کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 6:13PM by PIB Delhi

مرکزی کابینہ نے 25 نومبر 2024 کو نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ (این ایم این ایف) کو ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے طور پر 2481 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ منظوری دی۔ اس مشن کا مقصد سائنسی بنیادوں پر مبنی طریقوں کے ذریعے زرعی عمل کو مضبوط بنانا ہے تاکہ پائیداری، موسمیاتی لچک اور محفوظ خوراک کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ مشن مٹی کی صحت میں بہتری، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور کسانوں کے لیے لاگت میں کمی پر مرکوز ہے۔

اس مشن کے تحت 18,786 کلسٹر تشکیل دیے گئے ہیں جو 8.80 لاکھ ہیکٹر رقبے پر محیط ہیں، اور 05.03.2026 تک 18.19 لاکھ کسانوں کو قدرتی کاشتکاری کے فروغ کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ اسکیم کے تحت کسانوں کو قدرتی کاشتکاری اپنانے، تربیت، مویشیوں کی دیکھ بھال اور قدرتی زرعی ان پٹ کی تیاری کے لیے فی ایکڑ فی سال 4000 روپے (زیادہ سے زیادہ ایک ایکڑ فی کسان) دو سال کے لیے نتائج پر مبنی ترغیب فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو مارکیٹ تک بہتر رسائی کے لیے ایک سادہ سرٹیفکیشن نظام کے ذریعے بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ این ایم این ایف کے نفاذ کے تحت کمیونٹی ریسورس پرسن جیسے کرشی سکھیاں تعینات کی گئی ہیں، جو دیہی سطح پر کسانوں کو رہنمائی اور تربیت فراہم کرتی ہیں۔ 33,676 سی آر پی کو کرشی وگیان کیندروں، زرعی یونیورسٹیوں اور مقامی قدرتی کاشتکاری کے اداروں میں تربیت دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، بایو اِن پٹ ریسورس سینٹر ایک کلسٹر سطح کا ادارہ ہے جو مقامی کسانوں کو تیار شدہ قدرتی زرعی بایو اِن پٹ جیسے بیج امرت، جیو امرت وغیرہ فراہم کرتا ہے، خاص طور پر ان کسانوں کے لیے جو خود اپنے کھیت پر یہ ان پٹ تیار نہیں کر سکتے، تاکہ کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے متبادل فراہم کیے جا سکیں۔ بی آر سیز کسانوں کو ان قدرتی زرعی بایو اِن پٹ کے بارے میں معلومات، تربیت اور عملی مظاہرے بھی فراہم کرتے ہیں۔

انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ آل انڈیا نیٹ ورک آن نیچرل فارمنگ کے ذریعے 16 ریاستوں میں قائم 20 اشتراکی مراکز کے ساتھ ایک تحقیقی پروگرام چلا رہی ہے، جس کا مقصد قدرتی کاشتکاری کے لیے عملی طریقہ کار (پیکیج آف پریکٹسز) تیار کرنا ہے۔ اس پروگرام میں 11 ریاستی زرعی یونیورسٹیاں، 8 آئی سی اے آر ادارے/مراکز اور ایک ڈییمڈ یونیورسٹی شامل ہیں۔ مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی کاشتکاری کی کارکردگی سیاق و سباق کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے اور یہ فصل، خطے اور مٹی کے عبوری مرحلے پر منحصر ہوتی ہے۔ سویا بین + مکئی – سبزی مٹر + دھنیا (سبز پتے) کے نظام نے مکمل قدرتی کاشتکاری کے تحت بجاورہ (ہماچل پردیش)، الموڑہ (اتراکھنڈ) اور گنگتوک (سکم) میں اوسط نظامی پیداوار (سویا بین کے مساوی) 6475 کلوگرام فی ہیکٹر فی سال ریکارڈ کی۔ قدرتی کاشتکاری کے تحت پیداوار میں نامیاتی کاشتکاری/مربوط فصل انتظام کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

تحقیقی نتائج سے مٹی کی صحت کے اشاریوں میں قابلِ پیمائش بہتری ظاہر ہوتی ہے۔ 2–3 سال کے دوران قدرتی کاشتکاری والے کھیتوں میں مٹی کے نامیاتی کاربن کی سطح میں اضافہ ہوا—مثلاً ہمالیائی تجربات میں یہ تقریباً 0.90 فیصد سے بڑھ کر 1.15 فیصد ہو گئی۔ قدرتی کاشتکاری کی مٹی میں کیمیائی کھادوں سے پرورش پانے والی مٹی کے مقابلے میں خرد حیاتیات (مائیکروبیل) کی تعداد اور تنوع نمایاں طور پر زیادہ تھا۔ زیادہ متنوع خرد حیاتیاتی کمیونٹیز (جیسے مفید بیکٹیریا، فنگس اور ایکٹینو مائسیٹس) اور بہتر توازن قدرتی کاشتکاری میں دیکھنے میں آیا، جو وقت کے ساتھ ایک صحت مند مٹی کے ماحولیاتی نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔ مٹی کے جانداروں اور نامیاتی مادے میں یہ اضافہ غذائی اجزا کی گردش اور مٹی کی ساخت کو بہتر بناتا ہے، جس سے دیرپا زرخیزی اور پیداوار کے استحکام کی بنیاد پڑتی ہے۔

قدرتی کاشتکاری میں بیرونی خریدی گئی کیمیائی اشیا جیسے کھاد، کیڑے مار ادویات اور جڑی بوٹی مار ادویات (مثلاً یوریا، ڈائی امونیم فاسفیٹ، کاربوفیوران، پینڈیمتھالین وغیرہ) استعمال نہیں کی جاتیں، جس کے باعث کاشت کی لاگت کم ہو جاتی ہے۔ قدرتی کاشتکاری کے اِن پٹس کھیت ہی میں گائے کے گوبر، گائے کے پیشاب، پودوں کے پتے اور گھریلو اجزا سے تیار کیے جاتے ہیں، جو مقامی طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح نقل و حمل کے اخراجات اور مارکیٹ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے وابستہ لاگت میں بھی کمی آتی ہے۔

نیتی آیوگ کی حتمی رپورٹ ”مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں (سی ایس ایس) کی تشخیص—پیکیج 1: زراعت و متعلقہ شعبہ“ کے مطابق تقریباً 91.2 فیصد کسانوں نے بتایا کہ قدرتی کاشتکاری کو اپنانے اور مسلسل بہتر بنانے سے فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور مٹی کی صحت میں نمایاں بہتری آئی۔ 90.1 فیصد کسانوں نے کہا کہ قدرتی کاشتکاری سے اِن پٹ لاگت (پیداواری لاگت) میں کمی آئی ہے، جبکہ 68.5 فیصد کسانوں کے مطابق اس سے مٹی کی صحت میں بہتری ہوئی ہے۔

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم  کیں۔

********

ش ح۔ ف ش ع

U: 4810


(ریلیز آئی ڈی: 2244801) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada