دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نمو ڈرون د یدی اسکیم دیہی خواتین کو نئے مواقع اور بااختیار بنانے کے مواقع فراہم کرے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 6:35PM by PIB Delhi

حکومت نے ’نمو ڈرون دیدی‘ اسکیم کو سنٹرل سیکٹر اسکیم کے طور پر منظور کیا ہے، جس کے لیے 2023-24 سے 2025-26 تک 1261 کروڑ روپے کے فنڈ کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت منتخب خواتین سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کو زراعت کے مقاصد (کھاد اور کیڑے مار ادویات کی سپرے وغیرہ) کے لیے کسانوں کو ڈرون کرایہ پر فراہم کرنے کے لیے ڈرونز دیے جائیں گے۔خواتین ایس ایچ جی کو ڈرون اور متعلقہ لوازمات کی خریداری کے لیے مرکزی مالی معاونت کے طور پر لاگت کا 80 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 8 لاکھ روپے تک سبسڈی دی جائے گی۔ ایس ایچ جی  کی کلسٹر لیول فیڈریشن(سی ایل ایف) باقی رقم (کل خریداری کی لاگت مائنس سبسڈی) کو نیشنل ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنانسنگ فیسلٹی (اے آئی ایف) کے تحت قرض کے طور پر حاصل کر سکتی ہیں، جس پر 3 فیصد سود کی رعایت فراہم کی جائے گی۔

نمو ڈرون دیدی اسکیم کے تحت ڈرونز ایک پیکج کے طور پر فراہم کیے جاتے ہیں، جس میں بنیادی ڈرون اور اسپرے اسمبلی شامل ہوتی ہے جو مائع کھاد اور کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پیکج میں اضافی 4 اسپئر بیٹری سیٹس، ایک اسپئر پروپیلر سیٹ، نوزل سیٹ، ڈوئل چینل فاسٹ بیٹری چارجر، بیٹری چارجر ہب، 15 دن کی ڈرون پائلٹ تربیت، ڈرون اسسٹنٹ تربیت، ایک سال کی جامع انشورنس، 2 سال کا سالانہ مرمت کا معاہدہ اور قابل اطلاق جی ایس ٹی شامل ہیں۔۱۵ دن کے ڈرون پائلٹ تربیتی پروگرام میں ڈرون پائلٹ لائسنس حاصل کرنے کے لیے لازمی تربیت، پرواز کی تیاری، معمولی مرمت اور دیکھ بھال، اور مائع کھاد اور کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے لیے ڈرون سنبھالنے کی عملی مشق شامل ہے۔

کھادوں کے محکمے کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق لیڈ فرٹیلائزر کمپنیوں (ایل ایف سی) نے نمو ڈرون دیدی اسکیم کے تحت 2023-24 میں ایس ایچ جی کی ڈرون دیدیوں کو 500 ڈرون تقسیم کیے ہیں ۔  ان تمام ڈرون دیدوں کو ڈی جی سی اے کے ذریعے مجاز کردہ ریموٹ پائلٹ آرگنائزیشن(آر پی ٹی او) میں تربیت فراہم کی گئی ہے ۔  ریاست کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں ۔

زرعی ترقی اور دیہی تبدیلی مرکز (اے ڈی آر ٹی سی) بنگلور نے نمو ڈرون دی دی اسکیم کے تحت ایل ایف سی کی جانب سے فراہم کیے گئے 500 ڈرونز پر ڈرون آپریشنز کی اقتصادی اور کاروباری صلاحیت کا مطالعہ کیا۔ مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے ایس ایچ جی  بنیادی طور پر زراعت اور متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث تھیں، لیکن فراہم کردہ ڈرونز نے انہیں جدید زرعی طریقوں میں متعارف کروا کر ان کی مہارت اور پیداواریت کو بڑھایا۔ مجموعی طور پر، ڈرونز کے استعمال سے ایس ایچ جی  کی سرگرمیاں متنوع ہوئی، زرعی طریقے بہتر ہوئے، اور دیہی برادریوں  میں خواتین کے لیے آمدنی کے مواقع میں اضافہ ہوا۔

ایل ایف سی کے ذریعے ڈرون فراہم کرنے والے ایس ایچ جی کی ریاست وار تفصیلات

نمبر شمار

ریاست کا نام

ایس جی ایچ کی تعداد

1

آندھرا پردیش

96

2

آسام

9

3

بہار

5

4

چھتیس گڑھ

12

5

گجرات

18

6

ہریانہ

22

7

ہماچل پردیش

4

8

جھارکھنڈ

1

9

کرناٹک

82

10

کیرالہ

2

11

مدھیہ پردیش

34

12

مہاراشٹر

30

13

اڈیشہ

12

14

پنجاب

23

15

راجستھان

19

16

تمل ناڈو

17

17

تلنگانہ

72

18

اتر پردیش

32

19

اتراکھنڈ

3

20

مغربی بنگال

7

 

مجموعی تعداد

500

 

یہ معلومات دیہی ترقی کے وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی ۔

***

)ش ح۔ش آ)

UN No: 4823


(ریلیز آئی ڈی: 2244766) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , Telugu