جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 حکومت آلودگی سے پاک ہائیڈروجن کے فروغ کو آگے بڑھا رہی ہے اور صاف ستھری توانائی کی منتقلی کو مضبوط بنا رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 7:07PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند قومی آلودگی سے پاک ہائیڈروجن مشن (این جی ایچ ایم) نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد ہندوستان کو آلودگی سے پاک ہائیڈروجن اور اس کے مشتقات کی پیداوار، استعمال اور برآمد کا عالمی مرکز بنانا ہے۔

این جی ایچ ایم کے تحت منصوبوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

(1) الیکٹرولائزر مینوفیکچرنگ کے لیے ترغیبی اسکیم:

  • سالانہ 3000 میگاواٹ الیکٹرولائزر مینوفیکچرنگ صلاحیت 15 کمپنیوں کو تفویض کی گئی ہے۔

(2) آلودگی سے پاک ہائیڈروجن پیداوار کے لیے ترغیبی اسکیم:

  • سالانہ 8,62,000 میٹرک ٹن گرین ہائیڈروجن پیداوار کی صلاحیت 18 کمپنیوں کو دی گئی ہے۔

(3) آلودگی سے پاک امونیا کے لیے طلب کا انضمام:

  • بھارت کی شمسی توانائی کارپوریشن (سی ای سی آئی) کے ذریعے سالانہ 7,24,000 میٹرک ٹن گرین امونیا (گرین ہائیڈروجن کا مشتق) کی پیداوار اور فراہمی کے لیے قیمتیں طے کی گئی ہیں، جو ملک بھر کے 13 کھاد کارخانوں کو فراہم کی جائے گی۔

(4) ریفائنری شعبے میں گرین ہائیڈروجن کی طلب:

  • سالانہ 20,000 ٹن گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور فراہمی کی صلاحیت انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کی ریفائنریز کے لیے تفویض کی گئی ہے۔
  • اس کے علاوہ نمالی گڑھ ریفائنری لمیٹڈ، آسام کے لیے سالانہ 10,000 ٹن گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور فراہمی کے لیے قیمت بھی طے کی گئی ہے۔

(5) آزمائشی پروجیکٹس:

  • اسٹیل سیکٹر میں ہائیڈروجن کے استعمال کے لیے 5 پائلٹ پروجیکٹس کی منظوری دی گئی ہے۔
  • وی او چدمبرنار پورٹ اتھارٹی میں گرین میتھانول کے لیے بنکرنگ اور ری فیولنگ سہولت کے قیام کا منصوبہ دیا گیا ہے۔
  • ملک بھر میں 10 مختلف راستوں پر 37 ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں اور 9 ہائیڈروجن ری فیولنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے 5 پائلٹ پروجیکٹس منظور کیے گئے ہیں۔

منصوبہ ساز اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

حکومت نے ملک بھر میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورک کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • سی این جی اور پی این جی کے لیے گھریلو گیس کی ترجیحی بنیاد پر فراہمی۔
  • غیر ترجیحی شعبوں سے گیس کو منتقل کر کے سی این جی/پی این جی شعبے کی ضروریات پوری کرنا۔
  • سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع اور اسے عوامی افادیت کا درجہ دینا۔
  • قومی گیس گرڈ پائپ لائن کی توسیع اور دستیاب ذرائع (بشمول کیسکیڈ موڈ) کے ذریعے گیس کی فراہمی۔
  • ایل این جی ٹرمینلز کا قیام۔
  • سستی نقل و حمل کی سمت پائیدار متبادل  (ایس اے ٹی اے ٹی ) اقدام کے تحت بایو سی این جی کو فروغ دینا۔

مزید یہ کہ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ گہرے سمندر، انتہائی گہرے سمندر اور ہائی پریشر-ہائی ٹیمپریچر علاقوں سے حاصل ہونے والی گیس کی تقسیم کے دوران سی این جی/پی این جی شعبے کو ترجیح دی جائے گی۔

پی این جی آر بی نے ہائیڈروجن کی پائپ لائن کے ذریعے ترسیل اور قدرتی گیس کے ساتھ اس کے امتزاج کے لیے ایک روڈ میپ بھی جاری کیا ہے۔

یہ جانکاری نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے آج راجیہ سبھا میں دی۔

 

 

************

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :4833    )


(ریلیز آئی ڈی: 2244744) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी