جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے بایو توانائی منصوبوں کی پیش رفت کو اجاگر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 7:10PM by PIB Delhi

مورخہ 28.02.2026 تک بایو توانائی  منصوبوں کے تحت نصب شدہ صلاحیت اور گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سال بہ سال پیداوار کی تفصیلات ضمیمہ-اول میں دی گئی ہیں۔

مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) سے موصول معلومات کے مطابق:

تھرمل بجلی گھروں میں بایوماس کو فائرنگ سے ماحولیاتی اور عملی فوائد حاصل ہوتے ہیں، جن میں فوسل فیول کے استعمال میں کمی، زرعی باقیات کو جلانے سے بچاؤ اور فضائی آلودگی میں کمی شامل ہیں۔

مورخہ 28.02.2026 تک تھرمل بجلی گھروں میں کوئلے کے ساتھ کاربن نیوٹرل بایوماس پیلیٹس کے استعمال سے مالی سال 2019-20 سے اب تک تقریباً 5.7 ملین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو روکا گیا ہے۔

(ج) بایو انرجی منصوبوں کو وسعت دینے میں اہم رکاوٹیں درج ذیل ہیں:

فیڈ اسٹاک کی دستیابی: بایوماس کے ذخیرے کو اکٹھا کرنے اور سال بھر محفوظ رکھنے میں مشکلات۔

زیادہ سرمایہ لاگت فی میگاواٹ: بجلی کی پیداوار کے لیے بایو انرجی منصوبوں میں شمسی اور ہوا سے توانائی کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ درکار ہوتا ہے۔

حکومت نے فضائی آلودگی میں کمی اور فضلے کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے بایو انرجی کے فروغ کے حوالے سے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیلات ضمیمہ-دوم میں دی گئی ہیں۔

الف: بایو انرجی کے تحت موجودہ نصب شدہ صلاحیت اور سالانہ پیداوار کی تفصیلات درج ذیل ہیں:الف: بایو انرجی کے تحت موجودہ نصب شدہ صلاحیت اور سالانہ پیداوار کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

Sl No

 

Year

 

Installed Capacity

Annual Generation (in Million Units) *

 

Biomass

 

WtE

 

Biogas

(MW)

(MWe)

(Nos.)

Biomass

Bagasse

1

2020-21

7.05

41.75

23019

3512.978

11302.84846

2

2021-22

60

80.16

0

3482.697

12573.88221

3

2022-23

42.4

75.69

9627

3161.323

12863.15931

4

2023-24

107.3

35.37

13219

3417.188

10825.59055

5

2024-25

387.8

254.41

12067

3738.674

9335.316625

 

ماخذ: سنٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی (سی ای اے)

فضائی آلودگی میں کمی اور فضلے کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے بایو انرجی کے فروغ کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات درج ذیل ہیں:

(1) وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی (ایم این آر ای) ، نیشنل بایو انرجی پروگرام (این بی پی) کے مختلف اجزاء کے تحت بایو انرجی پلانٹس کے قیام میں مرکزی مالی معاونت (سی ایف اے) فراہم کرتی ہے۔ اس میں بایوماس پر مبنی (نان بیگاس) بجلی گھروں، بریکیٹس/پیلیٹس بنانے والے پلانٹس اور کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی/بایو سی این جی) پلانٹس شامل ہیں۔

(2) وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود (ایم او اے ایف اینڈ ڈبلیو) ، کراپ ریزیڈیو مینجمنٹ (سی آر ایم) اسکیم کے تحت فصلوں کی باقیات کے بہتر انتظام کے لیے مراعات فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت کسانوں کو مشینری خریدنے پر 50 فیصد اور دیہی نوجوانوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں، اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جیز)، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) اور پنچایتوں کو 80 فیصد تک مالی مدد دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دھان سپلائی چین منصوبوں کے لیے مشینری کی لاگت پر 65 فیصد (زیادہ سے زیادہ 1.50 کروڑ روپے) تک امداد دی جاتی ہے۔ یہ اسکیم مہاراشٹر میں نافذ نہیں ہے۔

(3)  آلودگی کنٹرول کرنے کے مرکزی بورڈ (سی پی سی بی) ماحولیات کے تحفظ کے فنڈ کے تحت پیلیٹائزیشن اور ٹوریفیکشن پلانٹس کے قیام کے لیے ایک مرتبہ مالی مدد فراہم کرتا ہے تاکہ دھان کی باقیات کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

(4) وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس بایوماس ایگریگیشن مشینری (بی اے ایم) اسکیم کے تحت کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) پیدا کرنے والوں کو بایوماس جمع کرنے والی مشینری کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے، تاکہ زرعی باقیات کا مؤثر استعمال ہو اور کھلے میدان میں جلانے سے بچاؤ ممکن ہو۔

(5) وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور (ایم او ایچ یو اے) کے مطابق سوچھ بھارت مشن-اربن 2.0 کے تحت مختلف فضلے کی صفائی کی سہولیات جیسے میٹریل ریکوری فیسلٹیز (ایم آر ایف) ، ویسٹ ٹو کمپوسٹ پلانٹس، بایو میتھینیشن پلانٹس، آر ڈی ایف پروسیسنگ، ویسٹ ٹو الیکٹرکٹی پلانٹس، تعمیراتی ملبے کے پلانٹس اور لینڈ فل سمیت سی بی جی پلانٹس کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

یہ جانکاری نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے آج راجیہ سبھا میں دی۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 4834   )


(ریلیز آئی ڈی: 2244734) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , Urdu , हिन्दी