قبائیلی امور کی وزارت
ای ایم آر ایس کی حیثیت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 MAR 2026 2:13PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے مرکزی وزیردُرگاداس اُئکے نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ 15 مارچ 2026 تک 723 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے 499 اسکول ریاستی حکومتوں کے ذریعے چلائے جا چکے ہیں۔ باقی ای ایم آر ایس مختلف تعمیراتی مراحل میں ہیں۔ ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دستیاب سرکاری یا کرایہ پر حاصل شدہ عمارتوں میں یہ اسکول چلائیں۔ ای ایم آر ایس کی تعمیر میں تاخیر کی بنیادی وجوہات میں زمین کی دستیابی نہ ہونا، مناسب رسائی کے راستوں کی کمی اور جغرافیائی چیلنجز ہیں۔
ہر ای ایم آر ایس کی زیادہ سے زیادہ گنجائش 480 طلبہ (بارہویں کلاس تک) کے لیے 31 تدریسی اور 21 غیر تدریسی عہدے منظور کیے گئے ہیں۔ تاہم، 15 مارچ 2026 تک، مختلف سطحوں کی کلاسوں کے ساتھ 499 ای ایم آر ایس فعال ہیں۔ کسی بھی ای ایم آر ایس میں عہدوں کی تعداد طلبہ کی تعداد، کلاسوں کی تعداد اور اعلیٰ سطح کی فعال کلاس پر منحصر ہوتی ہے۔
قومی تعلیم سوسائٹی برائے قبائلی طلباء (این ای ایس ٹی ایس) نے 10391 عہدوں پر براہِ راست بھرتی کے لیے اپنا پہلا کیمپین چلایا اور منتخب عملے کو مختلف ای ایم آر ایس میں تعینات کیا ہے۔ ای ایس ایس ای-2023 کے ذریعے کل 9111 تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تقرری کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ای ایس ایس ای-2025 کے تحت 7267 تدریسی اور غیر تدریسی عہدوں کے لیے بھرتی کا دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں میں خلل نہ پڑے، اس کے لیے ریاستی حکومتیں خالی عہدوں کے لئے گیسٹ ٹیچر اور غیر تدریسی عملے کو آؤٹ سورسنگ یا مقامی تقرری کی بنیاد پر مقرر کر رہی ہیں۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.4697
(ریلیز آئی ڈی: 2244056)
وزیٹر کاؤنٹر : 11