صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
قبائلی صحت پروگرام کے تحت قبائلی آبادی کے لیے کئے گئے اقدامات
قبائلی، پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات تک آخری حد تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے این ایچ ایم کے قواعد میں نرمی کی گئی
این ایچ ایم کے تحت 1,453 موبائل میڈیکل یونٹس (ایم ایم یوز) فعال ہیں جو دور دراز اور مشکل علاقوں میں صحت کی سہولیات کو فروغ دے رہی ہیں
178 قبائلی اضلاع میں 31,023 آیوشمان آروگیہ مندر فعال ہیں جو ابتدائی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنا رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 MAR 2026 12:48PM by PIB Delhi
قومی صحت مشن (این ایچ ایم) ملک بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، صحت کی سہولیات میں مناسب انسانی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے اور معیاری صحت کی سہولیات تک رسائی آسان بنانے کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے، خاص طور پر قبائلی اکثریتی اضلاع میں۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹیز) کو عوامی صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے فنی اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے، جو این ایچ ایم کے تحت پروگرام امپلی منٹیشن پلانز (پی آئی پیز) کی شکل میں موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ منظوری موجودہ قواعد و ضوابط اور دستیاب وسائل کے مطابق ریکارڈ آف پروسیڈنگز (آر او پیز) کی صورت میں دی جاتی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری شدہ آر او پیز کی تفصیلات ویب لنک https://nhm.gov.in/index1.php?lang=1&level=1&sublinkid=1377&lid=744 پر دستیاب ہیں۔
قبائلی صحت کے حوالے سے ڈیٹا جمع کرنے کے مختلف طریقے اور سروے ایجنسیاں موجود ہیں جو باقاعدگی سے معلومات فراہم کرتی ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ( این ایف ایچ ایس) ملک کے تمام زیادہ بوجھ والے قبائلی اضلاع میں غذائی قلت، خون کی کمی (اینیمیا) اور ماں کی صحت کے اہم اشاریوں میں بڑے تغیرات کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ مردم شماریٔ ہند (سینس آف انڈیا) آبادی اور گھریلو تفصیلات، بشمول قبائلی علاقوں کی معلومات، فراہم کرتی ہے۔ نیشنل سیمپل سروے مختلف سماجی و اقتصادی موضوعات پر گھریلو سروے فراہم کرتا ہے۔ ریاست بہ ریاست این ایف ایچ ایس-5 کے اہم اشاریوں کی فہرست لنک https://www.nfhsiips.in/nfhsuser/publication.php سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے تحت قبائلی، پہاڑی اور مشکل رسائی والے علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے قواعد و ضوابط میں نرمی کی گئی ہے۔ سب ہیلتھ سینٹرز (ایس ایچ سیز)، پرائمری ہیلتھ سینٹرز ( پی ایچ سیز) اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز (سی ایچ سیز) قائم کرنے کے لیے آبادی کی حد بالترتیب 3,000، 20,000 اور 80,000 کر دی گئی ہے۔ ایک اسناد یافتہ سماجی صحت کارکن (اے ایس ایچ اے) ہر بساوٹ میں تعینات ہو سکتا ہے، بجائے اس کے کہ ہر 1,000 افراد کے لیے ایک ہو اور قبائلی و مشکل رسائی والے علاقوں میں ہر ضلع میں 4 موبائل میڈیکل یونٹس (ایم ایم یوز) کی اجازت ہے، جبکہ سادہ علاقوں میں یہ تعداد 2 ہے۔
15 نومبر 2023 کو قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے) کی جانب سے شروع کیے گئے وزیر اعظم جنجاتی آدیواسی نیاۓ مہا ابھیان (پی ایم-جے اے این ایم اے این) کے تحت این ایچ ایم کے قواعد میں مزید نرمی کی گئی ہے، جس کے مطابق خاص طور پر کمزور قبائلی گروپ (پی وی ٹی جی) والے علاقوں میں ہر ضلع میں 10 ایم ایم یوز تک کی اجازت دی گئی ہے۔ ہر ملٹی پرپز سینٹر (ایم پی سی) کے لیے ایک اضافی معاون نرس مڈوائف (اے این ایم) بھی مقرر کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ ایم ایم یو پورٹل کے مطابق، پی ایم-جے اے این ایم اے این کے تحت 815 اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان (ڈی اے-جے جی یو اے) کے تحت 320 ایم ایم یوز ملک بھر میں قبائلی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جو 18 فروری 2026 تک فعال ہیں۔
این ایچ ایم کے تحت ایم ایم یوز دور دراز اور مشکل راستوں والے دیہاتوں میں آؤٹ ریچ خدمات فراہم کرنے کے لیے معاونت حاصل کرتے ہیں، جہاں صحت کی خدمات کم دستیاب یا ناقابل رسائی ہیں۔ این ایچ ایم- ایم آئی ایس رپورٹ کے مطابق قبائلی اکثریتی اضلاع سمیت ملک بھر میں کل 1,453ایم ایم یوز تعینات کیے گئے ہیں۔
ملک بھر میں سب ہیلتھ سینٹرز (ایس ایچ سیز) اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سیز) کو مضبوط بنانے کے ذریعے کل 1.84 لاکھ آیوشمان آروگیہ مندر (اے اے ایمز) قائم اور فعال کیے جا چکے ہیں، جن میں 178 قبائلی اضلاع میں 31,023اے اے ایمز شامل ہیں۔ یہ مراکز ابتدائی صحت کی جامع خدمات کی وسیع رینج فراہم کرتے ہیں، جس میں روک تھام کرنے والی، فروغ دینے والی، علاج کرنے والی، بازآبادکاری والی اور علاج ودیکھ بھال کرنے والی خدمات شامل ہیں۔
قبائلی علاقوں سمیت ملک کے تمام فعال اے اے ایمز میں دستیاب ٹیلی کنسلٹیشن خدمات لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب ماہرین کی خدمات تک رسائی فراہم کرتی ہیں، جس سے جسمانی رسائی کے مسائل، سروس فراہم کرنے والوں کی کمی اور مسلسل دیکھ بھال کی سہولت کے مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔ 28 فروری 2026 تک اے اے ایز پر کل ٹیلی کنسلٹیشن کی تعداد 44.08 کروڑ رہی ہے۔
این ایچ ایم کے تحت دور دراز، پہاڑی اور قبائلی علاقوں سمیت ملک میں مختلف صحت کے پروگراموں کی کارکردگی باقاعدگی سے جانچی جاتی ہے، جس کے لیے جائزہ میٹنگز، کلیدی ہدفوں کے مڈ ٹرم جائزے، سینئر افسران کے فیلڈ وزٹس، خدمات کی فراہمی کے معیار کے قیام کے ذریعے کارکردگی کو فروغ دینا اور کامیابیوں کو نوازنا وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف اسکیموں کی پیش رفت اور نفاذ کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ہر سال کامن ریویو مشنز (سی آر ایم) منعقد کیے جاتے ہیں۔
یہ جانکاری وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبودجناب پرتپ راؤ جادھو نے آج لوک سبھا میں تحریری جواب میں دی۔
******
ش ح۔م م ۔ ع ر
U-N- 4658
(ریلیز آئی ڈی: 2243802)
وزیٹر کاؤنٹر : 18