کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کوئلے کی گیس سازی بھارت کی توانائی کے تحفظ اور صنعتی ترقی کے لیے نہایت اہم: مرکزی وزیر جی کشن ریڈی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 MAR 2026 8:29PM by PIB Delhi

کوئلہ و کان کنی کے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے آج بھارت الیکٹرِسٹی سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئلے کی گیس سازی بھارت کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001N65H.jpg

صنعتی رہنماؤں، ماہرین، اسٹارٹ اَپس، محققین، طلبہ اور پالیسی سازوں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے کہا کہ بھارت کی تیزی سے پھیلتی ہوئی معیشت ایک متوازن توانائی حکمتِ عملی کی متقاضی ہے جو ترقی کو پائیداری کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیرِاعظم  نریدر مودی کی قیادت میں ملک میں مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور جدت طرازی کے شعبوں میں مضبوط ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

وزیر نے بھارت کے وسیع کوئلہ ذخائر پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا تخمینہ تقریباً 400 ارب ٹن ہے، جو دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے مجموعی نظام میں کوئلہ تقریباً 55 فیصد جبکہ بجلی کی پیداوار میں قریب 74 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ اس وقت سالانہ کوئلے کی طلب تقریباً ایک ارب ٹن ہے، جو 2047 تک نمایاں طور پر بڑھنے کی توقع ہے، جس سے کوئلے کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ اگرچہ بھارت 2070 تک خالص صفر اخراج (نیٹ زیرو) کے ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔

کوئلے کی گیس سازی کو ایک اہم تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجی قرار دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اس عمل کے ذریعے کوئلے کو سین گیس (مصنوعی گیس) میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے مزید صاف ایندھن، کیمیکلز، کھاد اور ہائیڈروجن تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ مقامی وسائل کے زیادہ مؤثر اور پائیدار استعمال کو ممکن بناتا ہے اور معاشی استحکام کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت اپنی ضروریات کے لیے درآمدات پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے، تقریباً 83 فیصد خام تیل، 50 فیصد قدرتی گیس اور 90 فیصد سے زائد میتھانول اور کھاد درآمد کی جاتی ہے، جس کے باعث توانائی کا تحفظ ایک اسٹریٹجک ترجیح بن جاتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002G4OP.jpg

اس عمل کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے نیشنل کول گیس سازی مشن کا آغاز کیا ہے، جس کا ہدف 2030 تک 100 ملین ٹن گیس سازی حاصل کرنا ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے منصوبوں کی معاونت کے لیے 8,500 کروڑ روپے کا ترغیبی فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ کئی بڑے پیمانے کے منصوبے پہلے ہی جاری ہیں اور 64,000 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری زیرِ غور ہے۔ زیرِ زمین کوئلہ گیس سازی (یو سی جی) جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو پہلے ناقابلِ رسائی ذخائر کو استعمال میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ساتھ ہی ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003RWK0.jpg

مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے صنعت، تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اَپس اور تحقیقی اداروں پر مشتمل ایک باہمی تعاون پر مبنی نظام قائم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ کوئلے کی گیس سازی توانائی، تیل و گیس اور کھاد سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت سادہ اور تیز تر منظوریوں، معاون پالیسیوں اور ترغیبات کے ذریعے ابتدائی شمولیت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جدت طرازی، مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی اور مربوط کوششوں کے ذریعے بھارت صاف کوئلہ ٹیکنالوجیز میں عالمی رہنما بن سکتا ہے، جبکہ توانائی کے تحفظ، پائیداری اور خود انحصاری کے اہداف کو بھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4639


(ریلیز آئی ڈی: 2243655) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu