ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیرِ ماحولیات نے دہرادون میں جنگلی حیات کے قومی بورڈ کی قائمہ کمیٹی کے 90ویں اجلاس کی صدارت کی؛ جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق اہم پالیسی امور پر غور
ایف ایس آئی اور بی آئی سی اے جی-این نے جنگلاتی آگ کے انتظام اور جنگلی حیات کے تحفظ میں جیو اسپیشل ٹیکنالوجی، ریموٹ سینسنگ اور اے آئی/ایم ایل پر مبنی آلات کے استعمال کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 MAR 2026 5:16PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات و آب و ہوا میں تبدیلی کے مرکزی جناب بھوپیندر یادو نے آج دہرادون میں نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف (ایس سی-این بی ڈبلیو ایل) کی قائمہ کمیٹی کے 90ویں اجلاس کی صدارت کی۔ اس کمیٹی نے سڑکوں، پینے کے پانی کی فراہمی، ٹرانسمیشن لائنز، دفاع، آبپاشی اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق تجاویز پر غور کیا۔

اجلاس کے دوران بھارت کے جنگلاتی سروے (فارسٹ سروے آف انڈیا) (ایف ایس آئی) اور بھاسکراچاریہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس ایپلیکیشنز اینڈ جیو انفارمیٹکس (بی آئی ایس اے جی-این) کے درمیان ایک مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے گئے، جس کا مقصد جنگلاتی آگ کے انتظام، جنگلی حیات کے تحفظ اور فیصلہ سازی کے نظام میں جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز، ریموٹ سینسنگ اور اے آئی/ایم ایل پر مبنی آلات کے استعمال کو مضبوط بنانا ہے۔

کمیٹی نے نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف کے ساتویں اجلاس میں لیے گئے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور انواع کی بحالی، مسکن کے انتظام اور ادارہ جاتی مضبوطی سے متعلق اہم قومی اقدامات کی صورتحال کا نوٹ لیا۔
کمیٹی نے دریائے چمبل میں ماحولیاتی بہاؤ کے مسائل پر بھی غور کیا تاکہ ڈولفن، گھڑیال اور دیگر آبی حیات جیسے دریائی جانداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، خاص طور پر کم پانی کے موسم میں۔
کمیٹی نے گھاس کے میدانوں اور چراگاہوں کے تحفظ پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور حیاتیاتی تنوع، کاربن ذخیرہ کرنے، خشک علاقوں کی مضبوطی اور چرواہوں کی معیشت کے لیے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ یہ ماحولیاتی نظام منصوبہ بندی کے فریم ورک میں ابھی تک مناسب اہمیت حاصل نہیں کر سکے ہیں اور ان کے لیے مخصوص بحالی کے طریقوں، بہتر نقشہ سازی اور لینڈ ڈیگریڈیشن نیوٹرلٹی جیسے قومی اہداف کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

کمیٹی نے محفوظ علاقوں پر خانہ بدوش اور چرواہا برادریوں کے انحصار کے مسئلے پر بھی غور کیا۔ کمیٹی نے چرواہا نظام کے ماحولیاتی اور معاشی روابط کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تحفظ کے اہداف حاصل کرتے وقت روایتی طریقوں اور سماجی و معاشی انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
اجلاس کے دوران جنگلی آبی بھینسے کے تحفظ کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، اور کمیٹی نے اس کے لیے ایک جامع تحفظی عملی منصوبہ تیار کرنے کی سفارش کی۔
نیشنل بورڈ فار وائلڈ لائف کی قائمہ کمیٹی ایک قانونی ادارہ ہے جو وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ 1972 کے تحت قائم کیا گیا ہے، اور یہ حکومت کو جنگلی حیات اور جنگلات کے تحفظ و نگہداشت سے متعلق امور پر مشورہ دیتا ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :4617 )
(ریلیز آئی ڈی: 2243445)
وزیٹر کاؤنٹر : 10