نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے رتن ٹاٹا مہاراشٹر ریاستی اسکلز یونیورسٹی کے پہلے تقسیم اسناد تقریب سے خطاب کیا
ہنر مندی عالمی انسانی وسائل کے مرکز بننے کے سفر کی کلید ہے: نائب صدر جمہوریہ
ڈگریاں اسی وقت بامعنی ہوتی ہیں جب وہ روزگار کے مواقع میں تبدیل ہوں: نائب صدر جمہوریہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 MAR 2026 4:58PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج ممبئی میں رتن ٹاٹا مہاراشٹر ریاستی اسکلز یونیورسٹی کے پہلی تقسیم اسناد تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور فارغ التحصیل طلبہ سے ہنر مندی، روزگار کے مواقع اور نئی دور کی ٹیکنالوجیوں کی اہمیت پر خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ تقسیم اسناد تقریب صرف تعلیمی کامیابی کا جشن نہیں بلکہ ہندوستان کے ہنر مند انسانی وسائل کے عالمی مرکز بننے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے پہلے بیچ کے طور پر تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں کے گورنر کے طور پر اپنے سابقہ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے زور دیا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں کو جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے نصاب کو مسلسل اپڈیٹ کرنا چاہیے اور تعلیم کو صنعت کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگریاں اسی وقت بامعنی ہوتی ہیں جب وہ روزگار میں تبدیل ہوں، اور ہنر مندی اور نئی ٹیکنالوجیز پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ہنر مندی اور انسانی وسائل کی ترقی کے میدان میں نمایاں تبدیلی دیکھی ہے۔ انہوں نے اسکل انڈیا، پی ایم سیتو، اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب، ہنر سازی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت کے قیام اور پیشہ ورانہ تربیت میں اصلاحات جیسے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے طریقہ کار کو نئی شکل دی ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے وژن کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ریاست اب عالمی معیشتوں کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے۔
ہندوستان کی آبادی کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ملک کی نوجوان آبادی ایک بڑی طاقت بن سکتی ہے اگر اسے درست مہارتیں فراہم کی جائیں، ورنہ یہ ایک چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ سے اپیل کی کہ وہ جہاں بھی کام کریں، ہندوستان کی صلاحیت اور ہنر کے سفیر بنیں، کیونکہ ان کی محنت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو مضبوط کرے گا۔
رتن ٹاٹا کی میراث کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یونیورسٹی پر یہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تعلیم اور روزگار کے درمیان خلا کو پُر کرے اور سماجی طور پر ذمہ دار افراد تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کو بھی سماجی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، جو عظیم رہنماؤں کو قوم کے لیے مثالی بناتا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے “سَے نو ٹو ڈرگز” مہم کا بھی آغاز کیا اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) کے تحت صنعتی شراکت داروں کی جانب سے لگائی گئی نمائش کا دورہ کیا۔
اس تقسیم اسناد تقریب میں مہاراشٹر کے گورنر جِشنو دیو ورما، وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ سونیترہ اجیت پوار، وزیر برائے اسکلز، ایمپلائمنٹ، انٹرپرینیورشپ و انوویشن منگل پربھات لوڈھا، اعلیٰ حکام، اساتذہ، والدین اور طلبہ نے شرکت کی۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 4616)
(ریلیز آئی ڈی: 2243444)
وزیٹر کاؤنٹر : 12