وزارت آیوش
آیوش کے نظاموں کا جدید طب کے ساتھ انضمام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 MAR 2026 5:37PM by PIB Delhi
وزارتِ آیوش کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومتِ ہند نے مقررہ حکمتِ عملی کے تحت پرائمری ہیلتھ سینٹر، کمیونٹی ہیلتھ سینٹراور ضلعی اسپتالوں میں واقع آیوش کی سہولیات کو ایک ہی مقام پر فراہم کرنے کا طریقہ اپنایا ہے، تاکہ مریضوں کو ایک ہی جگہ مختلف نظامِ علاج میں سے انتخاب کی سہولت حاصل ہو سکے۔ آیوش کے ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی تعیناتی اور تربیت کی ذمہ داری وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت نیشنل ہیلتھ مشن کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے، جبکہ آیوش کے بنیادی ڈھانچے، آلات، فرنیچر اور ادویات کی فراہمی وزارتِ آیوش کے تحت نیشنل آیوش مشن کے ذریعے کی جا رہی ہے، جو مشترکہ ذمہ داریوں کے طور پر انجام پاتی ہیں۔مزید برآں، وزارتِ آیوش متوازن اور عملی نقطۂ نظر کے ساتھ مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہر آیوش نظامِ علاج کو اس کی اپنی خصوصیات کے مطابق فروغ دیا جا سکے اور جدید طب کے ساتھ اس کا مؤثر انضمام ممکن بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
- وزارتِ آیوش اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے اشتراک سے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے تحت آیوش ونگ قائم کی گئی ہے، جو آیوش سے متعلق عوامی صحت کے پروگراموں کی منصوبہ بندی، نگرانی اور عمل آوری کے لیے ایک مخصوص ادارہ جاتی نظام فراہم کرتی ہے۔ یہ ونگ دونوں وزارتوں کو عوامی صحت، طبی خدمات، آیوش کی تعلیم اور تربیت کے میدان میں حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرتی ہے۔
- وزارتِ آیوش اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے مشترکہ طور پر مرکزی سرکاری اسپتالوں میں مربوط آیوش شعبے قائم کیے ہیں تاکہ مربوط نظامِ علاج کو فروغ دیا جا سکے۔ اس اقدام کے تحت نئی دہلی کے وردھمان مہاویر میڈیکل کالج و صفدرجنگ اسپتال اور لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج میں مربوط طب کے شعبے قائم کیے جا چکے ہیں اور فعال ہیں۔
- آیوش کو جدید طبی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے وزارتِ آیوش کے تحت تحقیقی کونسلوں اور قومی اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔
(ب) وزارتِ آیوش ملک بھر میں آیوش کے نظاموں کی مجموعی ترقی اور فروغ کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں کے ذریعے نیشنل آیوش مشن (این اے ایم) نامی مرکزی معاونت یافتہ اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ اس کے تحت وزارتِ آیوش ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ان کے سالانہ ریاستی ایکشن پلان کے مطابق مختلف سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس مشن کے تحت درج ذیل سرگرمیاں شامل ہیں:
-
- موجودہ آیوش ڈسپنسریوں اور ذیلی صحت مراکز کو ترقی دے کر آیوش ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹرز کو فعال بنانا، جنہیں اب آیوشمان آروگیہ مندر (آیوش) کا نام دیا گیا ہے۔
- پرائمری ہیلتھ سینٹر، کمیونٹی ہیلتھ سینٹر اور ضلعی اسپتالوں میں آیوش کی سہولیات ایک ہی جگہ پر فراہم کرنا۔
- موجودہ علیحدہ سرکاری آیوش اسپتالوں کی بہتری اور ترقی۔
- موجودہ سرکاری/پنچایت/سرکاری امداد یافتہ آیوش ڈسپنسریوں کی اپ گریڈیشن، کرائے یا خستہ حال عمارتوں میں قائم ڈسپنسریوں کے لیے نئی عمارتوں کی تعمیر، اور ایسے علاقوں میں نئی آیوش ڈسپنسریوں کا قیام جہاں یہ سہولت موجود نہ ہو۔
- 10، 30 اور 50 بستروں پر مشتمل مربوط آیوش اسپتالوں کا قیام۔
- سرکاری آیوش اسپتالوں، ڈسپنسریوں اور تدریسی اداروں کے لیے ضروری ادویات کی فراہمی۔
- آیوش سے متعلق عوامی صحت کے پروگرام۔
- ان ریاستوں میں نئے آیوش کالجوں کا قیام جہاں سرکاری سطح پر آیوش تعلیمی اداروں کی کمی ہے۔
- آیوش کے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ اداروں، فارمیسی اور پیرا میڈیکل کورسز کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی۔
مزید یہ کہ این اے ایم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو طریقہ جاتی تبدیلی کے ابلاغ (بی سی سی) اور معلوماتی، تعلیمی و ابلاغی سرگرمیوں کے نفاذ کے لیے بھی معاونت دی جا رہی ہے، تاکہ عوام میں آیوش نظام کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے۔ ان اقدامات کے ذریعے ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہوئے آیوش پر مبنی احتیاطی صحت کے طریقوں کو فروغ دیا جاتا ہے اور لوگوں کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
(ج) اور (د) جی ہاں، وزارتِ آیوش آیوش کے لیے بین الاقوامی تعاون کے فروغ کی مرکزی اسکیم پر بھی عمل درآمد کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت وزارت آیوش ادویات بنانے والوں اور آیوش خدمات فراہم کرنے والوں کو معاونت فراہم کرتی ہے تاکہ آیوش مصنوعات اور خدمات کی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ آیوش نظامِ طب کی بین الاقوامی سطح پر ترویج، ترقی اور پہچان کو فروغ دیا جاتا ہے، مختلف فریقین کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا جاتا ہے، عالمی سطح پر مارکیٹ کی ترقی کی جاتی ہے، اور غیر ملکی ممالک میں آیوش تعلیمی چیئرز کے قیام اور تربیتی ورکشاپس و سمپوزیم کے انعقاد کے ذریعے تعلیم و تحقیق کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 27 ملکوں کے ساتھ باہمی مفاہمت نامے، 16 آیوش چیئر سے متعلق معاہدے اور 54 ادارہ جاتی سطح کے معاہدے کیے جا چکے ہیں۔
ضمیمہ
وزارت آیوش کی جانب سے اپنی تحقیقی کونسل اور قومی اداروں کے ذریعے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات
|
نمبرشمار
|
تحقیقی کونسل/قومی ادارے
|
اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات
|
|
1.
|
سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان آیورویدک سائنسز (سی سی آر اے ایس)
|
سی سی آر اے ایس نے متعدد تحقیقی مطالعات انجام دیے ہیں، جیسے تیسرے درجے کے اسپتال (صفدرجنگ اسپتال، نئی دہلی) میں گھٹنے کے اوسٹیو آرتھرائٹس کے علاج کے لیے آیوروید کو جدید طبی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کی عملی تحقیق، ہماچل پردیش میں بنیادی صحت کے مراکز کی سطح پر قومی تولیدی و صحت اطفال کی خدمات میں آیوروید کو شامل کرنے کی امکانیت کا جائزہ، اور کینسر، ذیابیطس، امراض قلب اور فالج کی روک تھام و کنٹرول کے قومی پروگرام میں آیوش کے نظاموں کے انضمام کا مطالعہ۔اسی طرح مہاراشٹر کے ضلع گڑچیرولی کے منتخب بنیادی صحت مراکز میں تولیدی و صحت اطفال کے شعبے میں آیوروید معالجے کے نفاذ کی امکانیت اور قبل از زچگی نگہداشت (گربھنی پریچریا) کے لیے آیورویدک طریقۂ علاج کی افادیت پر کثیر مراکزی عملی تحقیق بھی کی گئی ہے۔مزید برآں، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور سی سی آر اے ایس نے مشترکہ طور پر ایمس میں آیوش-آئی سی ایم آر ایڈوانسڈ سینٹر فار انٹیگریٹو ہیلتھ ریسرچ قائم کرنے کا اقدام کیا ہے، تاکہ منتخب شعبوں میں مربوط صحت کے نظام پر تحقیق کی جا سکے، جو آئی سی ایم آر کی ایکسٹرا میورل ریسرچ اسکیم کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔
|
|
2.
|
سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن (سی سی آر یو ایم)
|
سی سی آر یو ایم نے ڈاکٹر آر ایم ایل اسپتال، ڈاکٹر ڈی ڈی یو اسپتال، صفدرجنگ اسپتال نئی دہلی اور جے جے اسپتال ممبئی میں چار ری لوکیشن مراکز قائم کیے ہیں۔کونسل نے یونانی طب کے فروغ اور اسے جدید طبی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے جدید تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔
|
|
3.
|
سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان ہومیوپیتھی (سی سی آر ایچ)
|
سی سی آر ایچ ہومیوپیتھی کو مرکزی نظامِ صحت کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے مربوط طب کے میدان میں باہمی اشتراک اور تعاون کے ساتھ تحقیق کر رہا ہے۔ کونسل نے مختلف طبی حالتوں کے علاج کے لیے ایلوپیتھک اسپتالوں میں ہومیوپیتھی مراکز قائم کیے ہیں، جن میں صفدرجنگ اسپتال، نئی دہلی، لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج و اسپتال، نئی دہلی، دہلی کینٹونمنٹ جنرل اسپتال، نئی دہلی، بی آر ڈی میڈیکل کالج و اسپتال گورکھپور (اتر پردیش)، سول اسپتال آئیزول (میزورم) اور ضلع اسپتال دیماپور (ناگالینڈ) شامل ہیں۔کونسل نے ہومیوپیتھی کو مرکزی نظامِ صحت کے ساتھ جوڑنے کے لیے مختلف عوامی صحت کے پروگرام بھی شروع کیے ہیں، جیسے این پی سی ڈی سی ایس پروگرام میں ہومیوپیتھی کا انضمام، سوستھیا رکشن پروگرام، "صحت مند دانت نکلنے کے لیے ہومیوپیتھی" پروگرام، اور "صحت مند بچہ" و درج فہرست ذات (ایس سی) جزو منصوبہ کے تحت ہومیوپیتھی پروگرام۔
|
|
4.
|
سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان سدھا (سی سی آر ایس)
|
سی سی آر ایس نے سِدّھا طریقۂ علاج کو جدید طبی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں سائنسی تحقیق اور کلینیکل آزمائشوں کی حوصلہ افزائی شامل ہے تاکہ آیوش علاج کی افادیت اور حفاظت کو جدید علاج کے ساتھ ثابت کیا جا سکے۔سِدّھا مربوط کینسر او پی ڈی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کے کیمپس میں فعال ہے، جبکہ صفدرجنگ اسپتال میں بھی سِدّھا کینسر او پی ڈی قائم ہے، جو سی سی آر ایس کے تحت سِدّھا کلینیکل ریسرچ یونٹ، صفدرجنگ، نئی دہلی کے ذریعے کینسر کے مریضوں کو سِدّھا نظام کے تحت تسکینی نگہداشت فراہم کر رہی ہے۔مزید برآں، سی سی آر ایس نے کینسر کے علاج، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال اور تجدیدی طب کے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کے آغاز کے لیے ایمس رشی کیش کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
|
|
5.
|
سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یوگا اینڈ نیچروپیتھی (سی سی آر وائی این)
|
سی سی آر وائی این ملک بھر میں دل کی ناکامی سے متعلق کثیر مراکزی مطالعہ منصوبے کے لیے آئی سی ایم آر کی ٹاسک فورس کا حصہ ہے۔
|
|
6.
|
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے ایل اے)
|
اے آئی آئی اے، نئی دہلی میں مربوط طبی خدمات مختلف مراکز کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں مرکز برائے مربوط آیوش تھراپی (یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی)، مرکز برائے مربوط کینسر تھراپی، مرکز برائے مربوط دندان سازی، مرکز برائے مربوط ایمرجنسی و نگہداشتِ شدید، مرکز برائے مربوط ہڈیوں کے امراض، مرکز برائے مربوط غذائیت و ڈائٹٹکس، اور حادثاتی او پی ڈی سیکشن شامل ہیں۔اسی طرح مربوط خدمات سیٹلائٹ کلینیکل سروسز یونٹس کے ذریعے بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جو صفدرجنگ اسپتال، نئی دہلی میں قائم مربوط طبی خدمات یونٹ، ایمس جھجھر کے مربوط طبی خدمات یونٹ، اور نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ، ایمس جھجھر میں قائم مرکز برائے مربوط آنکولوجی کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔مزید برآں، اے آئی آئی اے نئی دہلی میں مرکز برائے مربوط آنکولوجی قائم کیا گیا ہے، جو اے آئی آئی اے اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کینسر پریوینشن اینڈ ریسرچ کے مشترکہ اشتراک سے چل رہا ہے۔ اسی مرکز سے "آیوش جرنل آف انٹیگریٹو آنکولوجی" بھی شائع کیا جا رہا ہے۔یہ ادارہ عالمی سطح پر آیوروید کے فروغ اور تحقیق کے لیے ایک بین الاقوامی اشتراکی مرکز بھی رکھتا ہے۔
|
|
7.
|
انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ان آیوروید (آئی ٹی آر اے)
|
آئی ٹی آر اے جدید طبی نظام کے ساتھ مل کر مربوط تحقیق انجام دیتا ہے۔
|
|
8.
|
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سدھا (این آئی ایس)
|
سِدّھا نظامِ طب میں مربوط تحقیق کو فروغ دینے اور چیٹّیناد ہسپتال اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آنے والے مریضوں کو سِدّھا علاج فراہم کرنے کے لیے این آئی ایس نے کیلَمباکم میں چیٹّیناد اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ ایجوکیشن کے اشتراک سے ایک جدید سِدّھا خصوصی او پی ڈی کا افتتاح کیا ہے۔این آئی ایس منی پال، کرناٹک میں منی پال اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کے مرکز برائے مربوط طب تحقیق میں سِدّھا مربوط روایتی طب کی خصوصی او پی ڈی بھی چلا رہا ہے۔مزید برآں، این آئی ایس نے کینسر کے مریضوں کو مربوط علاج فراہم کرنے کے لیے سِدّھا انٹیگریٹڈ کینسر کیئر سینٹر بھی قائم کیا ہے۔
|
|
9.
|
مرارجی دیسائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوگا (ایم ڈی این آئی وائی)
|
ایم ڈی این آئی وائی سن 2013 سے مسلسل چوتھی مدت کے لیے یوگا (روایتی طب) کے شعبے میں عالمی ادارۂ صحت کا تعاون کرنے والا مرکز ہے۔ ایم ڈی این آئی وائی دہلی میں سرکاری جدید طبی اسپتالوں میں 4 یوگا مراکز چلا رہا ہے، جبکہ دہلی این سی آر کے 20 سی جی ایچ ایس تندرستیحح مراکز میں یوگا کے ذریعے احتیاطی صحت کی نگہداشت کی اکائیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔
|
******
(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)
Urdu No-4570
(ریلیز آئی ڈی: 2243219)
وزیٹر کاؤنٹر : 6