مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈاکٹر پیمسانی نے ای ٹی ٹیلی کام 5G سمٹ میں بھارت میں 5G کی تیز رفتار توسیع اور 6G قیادت کے وژن کو اجاگر کیا
نجی شعبے کی کارکردگی کے ساتھ نتائج پر مبنی حکمرانی کی جانب ثقافتی تبدیلی پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 MAR 2026 5:58PM by PIB Delhi
ڈاکٹر پیمسانی چندر شیکھر، وزیر مملکت برائے مواصلات، نے نئی دہلی میں ای ٹی ٹیلی کام 5G سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے ٹیلی کام کے شعبے میں قابل ذکر ترقی دیکھی ہے اور 5G اور آنے والی 6G ٹیکنالوجیز میں عالمی رہنما کے طور پر ابھرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

ڈاکٹر پیمسانی نے کہا کہ بھارت 2031 تک ایک بلین 5G صارفین تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نئی نسل کی کنیکٹیویٹی ملک بھر کے شہریوں کے لیے غیر معمولی مواقع پیدا کرنے میں کس قدر انقلابی کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ تیز رفتار پیش رفت مضبوط قیادت اور مؤثر پالیسی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ ایڈجسٹڈ گراس ریونیو (اے جی آر) کی نئی تعریف، اسپیکٹرم یوزج چارج (ایس یو سی) کا خاتمہ اور بینک گارنٹی کو معقول بنانا جیسے اقدامات نے ٹیلی کام سروس فراہم کنندگان کے لیے مالی اور آپریشنل ماحول کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 5G انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ممکن ہوئی ہے۔

وسیع تر ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کو فروغ دینے کے حوالے سے انہوں نے رائٹ آف وے کی سہولت کاری، اسپیکٹرم مینجمنٹ میں بہتری، ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے تحفظ اور وائرلیس لائسنسنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانے جیسے اقدامات کا ذکر کیا، جنہوں نے نیٹ ورک کی توسیع کو تیز کیا اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا۔
نتائج پر مبنی حکمرانی اور نجی شعبے جیسی کارکردگی کی جانب پیش رفت
ڈاکٹر پیمسانی نے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے اندر ایک بنیادی ثقافتی تبدیلی پر زور دیا، جہاں واضح طور پر نتائج پر مبنی طرزِ حکمرانی اپنایا جا رہا ہے اور انتظامی امور میں نجی شعبے جیسی کارکردگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت اب رفتار، جوابدہی اور مؤثر عمل درآمد پر زیادہ توجہ دے رہی ہے، ساتھ ہی ٹیلی کام سروس فراہم کنندگان، اسٹارٹ اپ، وینڈر، ٹھیکیداروں اور ریاستی حکومتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ انفراسٹرکچر کی تنصیب، اجازت ناموں یا آخری مرحلے کی کنیکٹیویٹی جیسے مسائل کو بروقت اور حل پر مبنی انداز میں نمٹایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ باقاعدہ جائزے، حقیقی وقت (ریئل ٹائم) نگرانی اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی نے زمینی سطح پر کارکردگی کو مضبوط بنایا ہے، جو ایک ایسے طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے جس میں پالیسی وژن اور عملی حکمت دونوں شامل ہیں۔
دیہی رابطہ کاری کے حوالے سے ڈاکٹر پیمسانی نے بتایا کہ تقریباً 35,000 دور دراز دیہات کو 4G انفراسٹرکچر کے ذریعے جوڑا جا رہا ہے، جس کے لیے متعدد اسٹیک ہولڈروں کے درمیان وسیع ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس این ایل نے دیہی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس میں پاور سسٹم کی اپ گریڈیشن اور کئی علاقوں میں نیٹ ورک اپ ٹائم کو 90 تا 95 فیصد تک بہتر بنانا شامل ہے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
20-03-2026
U: 4577
(ریلیز آئی ڈی: 2243191)
وزیٹر کاؤنٹر : 6