نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

نیتی آیوگ کی جانب سے ’’ریئلائزنگ دی ایکسپورٹ پوٹینشل آف انڈیا ز اسپورٹس ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر‘‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAR 2026 7:56PM by PIB Delhi

نیتی آیوگ نے آج ’’ریئلائزنگ دی ایکسپورٹ پوٹینشل آف انڈیا ز اسپورٹس ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں ہندوستان کی پیداواری صلاحیت، عالمی منڈی کے مواقع اور ملک کو اسپورٹس سازوسامان کی عالمی صنعت میں مسابقتی بنانے کے لیے درکار پالیسی اقدامات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین جناب سمن بیری نے جاری کی، اس موقع پر نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر اروِند ورمانی، سی ای او محترمہ ندھی چھبر، وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل کے اعلیٰ افسران، ریاستی حکومتوں کے نمائندے اور صنعت سے وابستہ افراد بھی موجود تھے۔

"میک اِن انڈیا" کی پہل اور وکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق یہ رپورٹ ہندوستان کے کھیل کود کے سازوسامان کے شعبے کی برآمداتی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے شواہد پر مبنی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ یہ شعبہ برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی اور بڑے پیمانے پر خاص طور پر ایم ایس ایم ای کلسٹرس کے ذریعے  روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت کا حامل ہے۔

جناب سمن بیری نے  رسم اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان  کا عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بننے کا ہدف اس بات سے جڑا ہے کہ وہ بین الاقوامی منڈیوں میں کس حد تک مسابقت کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر  زور دیا کہ کھیل کود کے سازوسامان کا شعبہ اس حوالے سے اہم موقع فراہم کرتا ہے، جسے عالمی طلب میں اضافے اور بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے تسلسل سے تقویت مل رہی ہے۔ انہوں نے معیار، جدت اور عالمی روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہدف بند پالیسی تعاون، کلسٹر ڈیولپمنٹ اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہندوستان کی برآمداتی مسابقت کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر اروِند ورمانی نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان نے کرکٹ کے سازوسامان اور بال اسپورٹس جیسے چند شعبوں میں مضبوط مقام حاصل کیا ہے، تاہم عالمی برآمدات میں اس کا حصہ اب بھی تقریباً 0.5 فیصد تک محدود ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنوع اور توسیع کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بعض اہم خام مال پر ڈیوٹی کو معقول بنانے، مقامی سپلائی صلاحیت کو مضبوط کرنے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور معیار میں بہتری کے لیے مشترکہ سہولتی مراکز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط اور عالمی سطح پر مربوط مینوفیکچرنگ نظام قائم کرنے اور آئندہ عالمی کھیلوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

نیتی آیوگ کی سی ای او محترمہ ندھی چھبر نے کہا کہ اسپورٹس کے سازوسامان کا شعبہ ہندوستان کے مینوفیکچرنگ نظام کا اہم مگر اکثر نظر انداز کیا جانے والا حصہ ہے۔ انہوں نے اس شعبے کو روزگار کے مواقع، ایم ایس ایم ای کی ترقی اور برآمدات میں اضافے جیسے قومی اہداف سے ہم آہنگ قرار دیا۔ ان کے مطابق لاگت میں مسابقت، ٹیکنالوجی کے استعمال اور منڈی تک رسائی کو بہتر بنانا اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے کلیدی عوامل ہیں، جنہیں "میک اِن انڈیا" جیسے اقدامات اور ایم ایس ایم ای کے لیے ہدف بند تعاون کے ذریعے تقویت دی جا سکتی ہے۔

  1. عالمی منڈی کے مواقع

اسپورٹس سامان کی عالمی منڈی، جس میں اسپورٹس ملبوسات، جوتے، آلات اور دیگر لوازمات شامل ہیں، 2024 میں تقریباً 700 ارب  امریکی ڈالر کی مالیت رکھتی تھی اور اندازہ ہے کہ 2036 تک یہ  ایک  کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ اس پورے نظام میں صرف اسپورٹس کے آلات کا شعبہ تقریباً 140 ارب ڈالر پر مشتمل ہے، جس کی عالمی طلب 2036 تک بڑھ کر تقریباً 283 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ 2024 میں اسپورٹس آلات کی عالمی برآمدات تقریباً 52 ارب ڈالر درج کی گئیں، جو کھیلوں میں بڑھتی ہوئی شرکت، پیشہ ورانہ لیگز کے فروغ اور عالمی سطح پر فٹنس کے بڑھتے رجحان کے باعث مسلسل اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

  1. کھیل کود کے  آلات کی تیاری میں ہندوستان کی پوزیشن

عالمی سطح کے مقابلے میں ہندوستان کا اسپورٹس آلات تیار کرنے کا نظام ابھی نسبتاً چھوٹا ہے، تاہم اس میں مضبوط بنیادی امکانات موجود ہیں۔ اس وقت ہندوستان سالانہ تقریباً 275 ملین ڈالر کے اسپورٹس آلات برآمد کرتا ہے، جو عالمی برآمداتی منڈی کا تقریباً 0.5 فیصد بنتا ہے۔ یہ صنعت زیادہ تر جالندھر (پنجاب) اور میرٹھ (اتر پردیش) جیسے معروف کلسٹر میں مرکوز ہے، جہاں برآمد کنندگان، مقامی مینوفیکچرنگ یونٹس اور ہزاروں خورد سطح کے ادارے سرگرم ہیں۔

یہ شعبہ بڑی حد تک ایم ایس ایم ای پر مشتمل ہے، جہاں تقریباً 90 فیصد پیداوار چھوٹے اور خورد  اداروں کے ذریعے ہوتی ہے، جو روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کی ترقی میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ہندوستان کی مقامی اسپورٹس سامان کی منڈی کا حجم تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے، جس میں اسپورٹس کے  آلات کا حصہ قریباً 0.5 ارب ڈالر ہے، جو مقامی پیداوار اور برآمدات دونوں میں اضافے کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔

  1. برآمداتی مسابقت اثرانداز ہونے  والے اہم چیلنج

رپورٹ میں کئی ساختیاتی چیلنجوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس شعبے کی برآمدات بڑھانے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتے ہیں۔ ہندوستانی مینوفیکچررز کو چین اور پاکستان جیسے بڑے حریفوں کے مقابلے میں اندازاً 15 سے 20 فیصد لاگت کے نقصان کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں یہ عوامل شامل ہیں:

  • کاربن فائبر، ای وی اے فوم اور پولی یوریتھین جیسے اہم خام مال پر زیادہ کسٹم ڈیوٹی
  • بین الاقوامی اسپورٹس معیارات پر پورا اترنے کے لیے سرٹیفکیشن کی بلند لاگت
  • لاجسٹکس میں خامیاں اور پیداواری لاگت میں اضافہ
  • جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی تک محدود رسائی
  • عالمی اسپورٹس برانڈ اور خریداری کے نظام سے کمزور روابط
  • ہندوستانی اسپورٹس آلات کی عالمی سطح پر محدود پہچان اور برانڈنگ

ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہندوستان کی اسپورٹس آلات  کی عالمی ویلیو چین میں مؤثر شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت ضروری ہوگا۔

  1. اسٹریٹجک روڈمیپ اور پالیسی سفارشات

رپورٹ میں 2036 تک ہندوستان  کو کھیل کود کے آلات کا ایک مسابقتی عالمی سپلائر بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے۔

اہم سفارشات میں شامل یہ تجاویز ہیں:

  • اہم خام مال پر ڈیوٹی کو معقول بنانا
  • ایم ایس ایم ای کے لیے ٹیکنالوجی کی بہتری اور سرمایہ جاتی معاونت کی فراہمی
  • بندرگاہوں کے قریب واقع ریاستوں میں اسپورٹس مینوفیکچرنگ کے چار نئے گرین فیلڈ کلسٹرس کا قیام
  • میرٹھ اور جالندھر کے موجودہ کلسٹرزس کی جدید کاری
  • مشترکہ ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن سہولیات کا قیام
  • کھیل کود کے  آلات کے لیے عالمی سطح پر "برانڈ انڈیا" فریم ورک کی تیاری

اس روڈمیپ کے تحت 2027 سے 2031 کے درمیان تقریباً 7,500 کروڑ روپے کی مربوط سرمایہ کاری کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، برآمداتی مسابقت میں اضافہ کرنا اور مجموعی نظام کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

  1. برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع

اگر ان سفارشات پر مؤثر عمل کیا جائے تو عالمی اسپورٹس آلات کی صنعت میں ہندوستان کی  پوزیشن نمایاں طور پر مضبوط ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں 275 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2036 تک برآمدات تقریباً 8.1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے عالمی برآمدات میں ہندوستان  کا حصہ 0.5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 11 فیصد ہو جائے گا۔ اس توسیع کے نتیجے میں تقریباً 54 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایم ایس ایم ای کلسٹرز میں۔

  1. عالمی کھیلوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانا

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ آئندہ ایک دہائی میں ہونے والے عالمی کھیلوں کے بڑے ایونٹس—جن میں 2036 کے اولمپکس کی میزبانی کے لیے ہندوستانی کی ممکنہ بولی بھی شامل ہے—ہندوستانی مینوفیکچررزس کے لیے عالمی خریداری کے نظام کا حصہ بننے کا مسلسل موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان  نہ صرف طویل مدتی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ عالمی اسپورٹس آلات کی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن کو بھی مستحکم کر سکتا ہے۔

یہ رپورٹ وسیع ابتدائی و ثانوی تحقیق پر مبنی ہے، جس میں صنعت، حکومت اور متعلقہ شعبوں کے 50 سے زائد اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے نتائج  شامل ہیں۔

مکمل رپورٹ نیتی آیوگ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-03/Realising-the-Export-Potential-of-India-Sports-Equipment-Manufacturing-Sector.pdf

******

(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)

Urdu No-4504

 


(ریلیز آئی ڈی: 2242764) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati