وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ملک میں ماہی گیروں کی فی کس آمدنی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAR 2026 2:26PM by PIB Delhi
ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت، حکومتِ ہند کے ماہی گیری کے محکمہ نے سال 2015 سے ملک میں ماہی گیری، ایکوا کلچر اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے جامع فروغ کے لیے، تمل ناڈو سمیت، تقریباً 39,272 کروڑ روپے کی مختلف اسکیموں کے ذریعے سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان اسکیموں میں شامل ہیں: (i) بلیو ریولوشن اسکیم (مالی سال 2015-16 سے 2019-20 تک)، (ii) فشریز اور ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) (مالی سال 2018-19 سے 2025-26 تک)، (iii) پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) (مالی سال 2020-21 سے 2024-25 تک)، (iv) پردھان منتری متسیہ کسان سمرِدھی سہ یوجنا (مالی سال 2023-24 سے 2026-27 تک) اور (v) ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی ورکنگ کیپیٹل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کی سہولت کی توسیع۔ یہ اسکیمیں بنیادی طور پر مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں موجود اہم خلا کو دور کرنے، معیار اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے، پوسٹ ہارویسٹ انفراسٹرکچر اور انتظام کو مضبوط بنانے، ویلیو چین کی جدید کاری و استحکام، ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنانے، ایک مضبوط ماہی گیری مینجمنٹ نظام قائم کرنے اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔
ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافے کے مقصد کے حصول کے لیے، ان اسکیموں کے تحت ایکوا کلچر، سمندری ماہی گیری، سرد پانی کی ماہی گیری، کھارے پانی کی ایکوا کلچر، آبی ذخائر کی ماہی گیری، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی کے فروغ، مچھلی کی مارکیٹنگ اور مارکیٹنگ انفراسٹرکچر کی مضبوطی، ویلیو ایڈیشن اور مؤثر کولڈ چین سہولیات کی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ محکمہ ماہی گیری، حکومتِ ہند نے گزشتہ پانچ برسوں (مالی سال 2020-21 سے 2024-25) کے دوران مختلف ریاستی حکومتوں، مرکز زیر انتظام علاقوں اور دیگر عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے پیش کیے گئے ماہی گیری ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن کی مجموعی مالیت 21,274.16 کروڑ روپے ہے (جس میں مرکزی حصہ 9,189.74 کروڑ روپے ہے)۔ ان میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت ریاست تمل ناڈو کے لیے 1,156.16 کروڑ روپے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کو کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کی سہولت فراہم کرنے کی اسکیم کے تحت گزشتہ تین برسوں (مالی سال 2022-23 سے 2024-25) کے دوران مجموعی طور پر 5,01,848 کے سی سی کارڈ کی منظوری دی گئی، جن میں سے 2,59,947 کارڈ صرف ریاست تمل ناڈو میں منظور کیے گئے۔ اسی طرح، فشریز اور ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت حکومتِ ہند کے محکمہ ماہی گیری نے مجموعی طور پر 228 منصوبوں کی منظوری دی ہے، جن کی مالیت 5,559.54 کروڑ روپے ہے، جن میں سے 108 منصوبے (مالیت 2,169.03 کروڑ روپے) ریاست تمل ناڈو کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔
ان اسکیموں کے نفاذ نے ملک میں ماہی پروری اور ایکوا کلچر کے شعبے کی مجموعی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خصوصاً: (i) سالانہ مچھلی کی پیداوار 2024-25 میں 197.75 لاکھ ٹن تک بڑھ گئی، (ii) ماہی پروری کی برآمدات 2024-25 میں 62,408 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، (iii) فی کس مچھلی کے استعمال میں اضافہ ہو کر 12-13 کلوگرام ہو گیا اور (iv) ایکوا کلچر کی پیداواریت بڑھ کر 4.7 ٹن فی ہیکٹر ہو گئی، جس کے نتیجے میں ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔ ریاست تمل ناڈو میں بھی ان اسکیموں کے نفاذ کے دوران 2024-25 تک سالانہ مچھلی کی پیداوار 9.48 لاکھ ٹن تک بڑھ گئی ہے۔
محکمہ ماہی گیری، حکومت ہند نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت تمام ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں بشمول تمل ناڈو میں گروپ ایکسیڈنٹ انشورنس اسکیم نافذ کی ہے، جس میں مکمل انشورنس پریمیم مرکزی اور ریاستی حکومتیں برداشت کرتی ہیں اور مستفیدین کو کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑتی۔ اس اسکیم کے تحت فراہم کردہ انشورنس کوریج میں شامل ہیں: (i) موت یا مکمل/ مستقل معذوری کی صورت میں 5,00,000 روپے، (ii) جزوی مستقل معذوری کی صورت میں 2,50,000 روپے، اور (iii) حادثے کی صورت میں ہسپتال کے اخراجات کے لیے 25,000 روپے۔ گزشتہ چار برسوں (2021-22 سے 2024-25) کے دوران اوسطاً ہر سال 34.49 لاکھ ماہی گیروں کو انشورنس کوریج فراہم کی گئی، جن میں سے مجموعی طور پر 21.99 لاکھ ماہی گیر تمل ناڈو سے تعلق رکھتے ہیں۔
ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر، جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔
*******
ش ح۔ ف ش ع
U: 4474
(ریلیز آئی ڈی: 2242718)
وزیٹر کاؤنٹر : 10