وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف)

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAR 2026 2:25PM by PIB Delhi

ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے تحت ماہی گیری کا محکمہ مالی سال 2018-19 سے فشریز اور ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کا نفاذ کر رہا ہے، جس کا کل فنڈ سائز 7,522.48 کروڑ روپے ہے۔ اس کا مقصد ملک میں ماہی گیری اور ایکوا کلچر کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اور مضبوطی ہے۔ ایف آئی ڈی ایف کے تحت، دیگر امور کے ساتھ، اہل اداروں بشمول ریاستی حکومتوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں، ریاستی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈروں کو مختلف ماہی گیری انفراسٹرکچر سہولیات کی ترقی کے لیے رعایتی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت، حکومت ہند کا ماہی گیری کا محکمہ نامزد قرض فراہم کرنے والے اداروں کے ذریعے فراہم کی جانے والی رعایتی مالی معاونت پر سالانہ 3 فیصد تک شرحِ سود میں رعایت دیتا ہے، بشرطیکہ قرض کی شرحِ سود 5 فیصد سالانہ سے کم نہ ہو۔ ایف آئی ڈی ایف اسکیم کے تحت اب تک مختلف ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کے لیے مجموعی طور پر 228 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کی کل لاگت 5,559.54 کروڑ روپے ہے، جبکہ سود میں رعایت کے لیے قابل اطلاق منصوبہ لاگت کو 4,351.86 کروڑ روپے تک محدود رکھا گیا ہے۔

ان میں سے، نامزد قرض فراہم کرنے والے اداروں نے اب تک 111 منصوبوں کے لیے 4,212.05 کروڑ روپے کے قرض کی منظوری دی ہے، جبکہ 1,600.56 کروڑ روپے کی رقم مستفید ریاستوں اور دیگر اداروں کو جاری کی جا چکی ہے۔ ماہی گیری کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے، ایف آئی ڈی ایف کے تحت اب تک منظور شدہ منصوبوں کی ریاست/ مرکز زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات ذیل میں فراہم کی گئی ہیں:

 

نمبر شمار

ریاست کا نام

نجی منصوبوں کی تعداد

سرکاری منصوبوں کی تعداد

منظور شدہ منصوبوں کی کل تعداد

پروجیکٹ کی کل لاگت

سود کی رعایت کے لیے اہل رقم

1

آندھرا پردیش

8

0

8

211.88

124.42

2

اروناچل پردیش

1

0

1

0.68

0.54

3

آسام

1

0

1

0.41

0.18

4

گوا

1

4

5

38.05

36.58

5

گجرات

1

4

5

984.74

617.45

6

ہماچل پردیش

0

1

1

5.17

5.00

7

جموں و کشمیر

3

0

3

130.21

100.78

8

کرناٹک

2

2

4

43.44

42.79

9

کیرالا

6

1

7

262.90

234.97

10

مہاراشٹر

36

6

42

1230.901

941.17

11

منی پور

4

0

4

1.15

0.90

12

میزورم

1

0

1

4.14

3.3

13

اوڈیشہ

1

7

8

120.17

59.48

14

پڈوچیری

2

0

2

3.08

2.46

15

تمل ناڈو

7

101

108

2169.03

1955.98

16

تلنگانہ

1

0

1

4.70

2.31

17

اتر پردیش

2

0

2

75.22

60.09

18

مغربی بنگال

4

6

10

71.78

49.6

19

اتراکھنڈ

0

1

1

170.00

133.00

20

مدھیہ پردیش

4

1

5

6.90

5.52

21

جھارکھنڈ

7

0

7

24.51

16.67

22

بہار

2

0

2

20.29

19.61

 

کُل

95

133

228

5559.54

4351.86

 

ایف آئی ڈی ایف کے تحت ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں میں جن منصوبوں کی معاونت کی گئی ہے، ان میں فشنگ ہاربر، فش لینڈنگ سینٹر، آئس پلانٹ، کولڈ اسٹوریج، مچھلی کی نقل و حمل کی سہولیات، مربوط کولڈ چین (سمندری و اندرونی شعبہ)، جدید فش مارکیٹ، بروڈ بینک، ہیچریز، ریاستی فش سیڈ فارم کی جدید کاری، فشریز ٹریننگ سینٹر، فش پروسیسنگ یونٹ، فش فیڈ مل/پلانٹ، آبی ذخائر میں کیج کلچر، میری کلچر وغیرہ شامل ہیں۔ عمل درآمد کے لیے منظور شدہ فعال 228 منصوبوں میں سے اب تک مجموعی طور پر 68 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جن میں 60 سرکاری اور 8 نجی منصوبے شامل ہیں، جبکہ باقی منصوبے مختلف مراحل میں زیر تکمیل ہیں۔

ایف آئی ڈی ایف کے تحت قائم کیے گئے بنیادی ڈھانچے جیسے ہاربر، کولڈ چین، ہیچری وغیرہ کی شعبہ وار تفصیلات ذیل میں فراہم کی گئی ہیں:

 

نمبر شمار

سرگرمی کا نام

منظور شدہ منصوبوں کی تعداد

پروجیکٹ کی کل لاگت

سود کی امداد کے لیے محدود پروجیکٹ کی لاگت

1

بروڈ بینک

2

14.2

11.36

2

آئس پلانٹ/کولڈ اسٹوریج

5

11.25

7.56

3

آبی زراعت کی ترقی بشمول کیج کلچر ان ریزروائر اور میری کلچر میں

8

12.55

7.32

4

فش لینڈنگ سینٹر

60

343.46

298.39

5

فش پراسیسنگ یونٹ

15

370.17

224.23

6

ماڈرنائزیشن فش سیڈ فارم

34

144.43

127.33

7

فشنگ ہاربر اور فشنگ ہاربر میں اضافی سہولیات کی شمولیت

28

3803.86

3053.04

8

ہیچری کی ترقی

4

7.86

2.1

9

فش سیڈ مل

3

3.57

2.86

10

ٹریننگ سنٹر/ٹیکنالوجی ڈفیوژن سنٹر

11

60.78

49.51

11

گہرے سمندر میں ماہی گیری کا جہاز

2

4.96

1.92

12

جدید منصوبے/ سرگرمیاں

55

782.18

566.03

13

امراض کی تشخیصی لیبارٹری کا قیام

1

0.27

0.21

 

کُل

228

5559.54

4351.86

 

دیگر مرکزی حکومتی اسکیموں جیسے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا اور ریاستی حکومتوں کی اپنی اسکیموں کی کوششوں کو تقویت دینے اور ان کی تکمیل کے لیے، ایف آئی ڈی ایف ایک معاون مالیاتی طریقہ کار کے طور پر کام کرتا ہے جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ پی ایم ایم ایس وائی ترقیاتی معاونت فراہم کرتی ہے۔ دونوں مل کر پائیدار ترقی، سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے میں کردار ادا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں (2020-21 سے 2024-25) کے دوران مچھلی کی پیداوار 2019-20 میں 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی ہے۔ اسی طرح، سمندری خوراک کی برآمدات بھی 46,666 کروڑ روپے (2019-20) سے بڑھ کر 62,408 کروڑ روپے (2024-25) تک پہنچ گئی ہیں۔

ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر، جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

**********

ش ح۔ ف ش ع

  U: 4473

 


(ریلیز آئی ڈی: 2242709) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी