ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: تحقیق اور صلاحیت سازی کا فروغ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAR 2026 12:53PM by PIB Delhi
حکومت نے ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلی کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ حکومتِ ہند کی ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ای ایس) نے "ہندوستانی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کی تشخص(https://link.springer.com/book/10.1007/978-981-15-4327-2,) " کے عنوان سے اپنی رپورٹ کے ذریعے ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ بیسویں صدی کے وسط سے ہندوستان میں اوسط درجۂ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا ہے؛ مانسون کی بارش میں کمی، انتہائی درجۂ حرارت اور بارش کے واقعات میں اضافہ، خشک سالی، سمندر کی سطح میں اضافہ، اور شدید طوفانوں کی شدت میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ ہندوستان کا محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) ہر سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہر ریاست کے لیے سالانہ آب و ہوا کا خلاصہ شائع کرتا ہے، جو آئی ایم ڈی پونے کی ویب سائٹ( imdpune.gov.in ) پر عوامی طور پر دستیاب ہے۔
حکومت نے ملک بھر میں ارضیاتی سائنس کی تحقیق، صلاحیت سازی اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ایم او ای ایس کے تحت ادارے، مثلاً: آئی ایم ڈی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم)، نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف)، انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز (آئی این سی او آئی ایس)، نیشنل سینٹر فار کوسٹل ریسرچ (این سی سی آر)، نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس)، نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ (این سی پی او آر)، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی (این آئی او ٹی)، سینٹر فار میرین لیونگ ریسورسز اینڈ ایکولوجی (سی ایم ایل آر ای)، اور نیشنل سینٹر فار ارتھ سسٹم سائنسز (این سی ای ایس ایس) ماحول، سمندروں اور قطبی نظاموں کے درمیان تعاملات پر تحقیق کو فروغ دے رہے ہیں، خاص طور پر علاقائی آب و ہوا کی حرکیات اور انتہائی موسمی نمونوں میں ان کے کردار پر توجہ دی جا رہی ہے۔
آئی آئی ٹی ایم، ایم او ای ایس کے ڈیولپمنٹ آف اسکلڈ مین پاور ان ارتھ سسٹم سائنسز (ڈی ای ایس کے) پروگرام کے تحت صلاحیت سازی کے فلیگ شپ اقدام کی قیادت کر رہا ہے، جس کا مقصد ارتھ سائنسز میں ہدفی شعبوں اور سمسٹر پر مبنی کورس ورک کے ذریعے تربیت فراہم کرنا ہے۔ تربیتی پروگراموں، ورکشاپس اور علم کے تبادلے کے ذریعے آب و ہوا کی سائنس اور تشخیص میں سائنسی برادری کی صلاحیت کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے، تاکہ ملک آب و ہوا کے پیچیدہ چیلنجوں کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکے۔
ارضیاتی سائنس کی وزارت نے شدید موسمی واقعات جیسے طوفان، بھاری بارش، خشک سالی اور دیگر انتہائی حالات کے لیے جدید ابتدائی انتباہی نظام تیار کیا ہے۔ یہ نظام جدید مشاہداتی نیٹ ورک سے تقویت پاتا ہے، جس میں سطحی اور بالائی فضائی مشاہدات، ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن متحرک ماڈلز پر مبنی ہموار پیش گوئی کا نظام، اور جی آئی ایس پر مبنی ٹولز شامل ہیں، جو بروقت انتباہات جاری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ معلومات کی بروقت اور مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے یہ نظام جدید ٹیلی مواصلاتی ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط ہے۔
حال ہی میں، ہندوستان کے محکمۂ موسمیات نے ایم او ای ایس کے دیگر مراکز کے ساتھ مل کر اینڈ ٹو اینڈ جی آئی ایس پر مبنی فیصلہ ساز معاون نظام (ڈی ایس ایس) تیار کیا ہے، جو ملک بھر میں موسمی خطرات کی بروقت نشاندہی اور نگرانی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام کے فرنٹ اینڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ نظام طوفان، شدید بارش، خشک سالی وغیرہ جیسے موسمی خطرات کے لیے اثر پر مبنی بروقت انتباہات فراہم کرتا ہے، جو انسانی جانوں، معاش اور بنیادی ڈھانچے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ نظام تاریخی ڈیٹا کے ساتھ ساتھ حقیقی وقت کے سطحی اور بالائی فضائی مشاہدات کو بھی استعمال کرتا ہے۔ اس میں ریڈار مشاہدات شامل ہیں، جو ہر 10 منٹ پر دستیاب ہوتے ہیں، جبکہ سیٹلائٹ مصنوعات ہر 15 منٹ پر فراہم کی جاتی ہیں۔ مزید برآں، یہ ایم او ای ایس اداروں میں چلنے والے مختلف عددی موسمی ماڈلز—ہائپر لوکل، علاقائی اور عالمی ماڈلز—سے حاصل شدہ پیش گوئیوں کو بھی شامل کرتا ہے۔
مزید برآں، آئی ایم ڈی اپنے جدید مشاہداتی نیٹ ورک اور پیش گوئی کے نظام کے ذریعے جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ساتھ قریبی تعاون میں بروقت تیاری اور ردعمل کو یقینی بناتا ہے۔ یہ مربوط نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ درست اور بروقت موسمی معلومات حکام اور عوام تک پہنچیں، جس سے ملک بھر میں آفات کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کانوں کی وزارت کے تحت جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) کو بارش کی حد (رین فال تھریش ہولڈ) کی بنیاد پر علاقائی لینڈ سلائیڈنگ کی پیش گوئی/ابتدائی انتباہات جاری کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ فی الحال جی ایس آئی مانسون کے دوران 8 (آٹھ) ریاستوں کے 21 اضلاع کے لیے روزانہ آپریشنل/تجرباتی علاقائی لینڈ سلائیڈنگ پیش گوئی بلیٹن جاری کرتا ہے۔ جی ایس آئی کا لینڈ سلائیڈنگ پیش گوئی ماڈل بنیادی طور پر وزارتِ ارضیاتی سائنس کے تحت اداروں سے موصول ہونے والے روزانہ بارش کے پیش گوئی شدہ اعداد و شمار کے ساتھ تاریخی بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات کے ڈیٹا سے اخذ کردہ بارش کی حد پر مبنی ہے۔ یہ بلیٹن اگلے 48 گھنٹوں کے لیے روزانہ تعلقہ/سب ڈویژنل سطح تک لینڈ سلائیڈنگ کے امکان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔
ہندوستان کے محکمۂ موسمیات نے وقتاً فوقتاً نئی تکنیکیں اور ٹیکنالوجیز اپنائی ہیں تاکہ پورے ملک میں موسمی حالات کی بروقت نشاندہی، نگرانی اور ابتدائی انتباہات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ اس میں وہ ریاستیں بھی شامل ہیں جو طوفان، بھاری بارش، خشک سالی وغیرہ جیسے شدید موسمی واقعات سے مسلسل متاثر ہوتی ہیں، جن کے انسانی زندگی، معاش اور بنیادی ڈھانچے پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سمت میں درج ذیل نمایاں پیش رفت ہوئی ہے:
- اضافی اے ڈبلیو ایس، اے آر جی اور ڈی ڈبلیو آر کی تنصیب کے ذریعے مشاہداتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔
- ڈیٹا انضمام میں بہتری اور جی آئی ایس پر مبنی فیصلہ ساز معاون نظام (ڈی ایس ایس) کی ترقی۔
- این ڈبلیو پی ماڈلز اور آب و ہوا کے ماڈلز میں بہتری کے ساتھ حقیقی وقت میں ہموار نگرانی، پیش گوئی اور ابتدائی انتباہی نظام۔
- روایتی موسم کی پیش گوئی سے آگے بڑھتے ہوئے سیکٹر مخصوص، رنگ کوڈڈ اثرات پر مبنی پیش گوئی (آئی بی ایف) اور رسک پر مبنی انتباہات (آر بی ڈبلیو) کو متحرک اثرات اور رسک میٹرکس کے ساتھ ضلع/ذیلی شہر کی سطح تک لے جانا۔
- اے آئی/ایم ایل کا استعمال۔
- بلیٹن اور انتباہات کو حسبِ ضرورت (کَسٹمائز) بنانا۔
- بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے انضمام اور ماڈل فزکس میں بہتری کے ذریعے مزید اعلیٰ ریزولوشن پر میسو اسکیل، علاقائی اور عالمی ماڈلز چلانے کے لیے کمپیوٹیشنل طاقت میں نمایاں اضافہ؛ اس مقصد کے لیے سپر کمپیوٹرز (ارکا اور ارونیکا) استعمال کیے جا رہے ہیں۔
- پنچایت موسم سیوا کا آغاز۔
- موبائل ایپس، کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی)، واٹس ایپ گروپس وغیرہ کے ذریعے جدید ترین تشہیری نظام۔
- آئی ایم ڈی نے موسم کی پیش گوئی کے لیے "موسم"، زرعی موسمی مشوروں کی تشہیر کے لیے "میگھدوت"، اور بجلی کے انتباہات کے لیے "دامنی" نامی موبائل ایپس تیار کی ہیں۔
آئی ایم ڈی نے ایک ویب پر مبنی "کلائمیٹ ہیزارڈ اینڈ ولنریبلٹی اٹلس آف انڈیا" بھی تیار کیا ہے، جو 13 انتہائی خطرناک موسمی واقعات کے تجزیے پر مبنی ہے، جو بڑے پیمانے پر معاشی، انسانی اور حیوانی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ اس تک رسائی اس لنک کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے:
https://imdpune.gov.in/hazardatlas/abouthazard.html
یہ اٹلس ریاستی حکومتوں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسیوں کو ممکنہ ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی اور مناسب حکمتِ عملی بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے، اور آب و ہوا سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے لیے ایک اہم حوالہ بھی ہے۔
آئی ایم ڈی نے حالیہ برسوں میں جدید ٹولز اور ٹیکنالوجیز کے ذریعے ڈیٹا کے حصول، پیش گوئی، اور انتباہی خدمات کے پھیلاؤ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس میں ویب سائٹ، ای میل، ایس ایم ایس، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، اور انسٹاگرام کے ذریعے معلومات کی ترسیل شامل ہے۔
ہندوستان کے محکمۂ موسمیات نے مختلف موبائل ایپس بھی تیار کی ہیں، جیسے:
- موسم ایپ — موسم کی پیش گوئی اور انتباہات کے لیے
- میگھدوت ایپ — زرعی موسمی خدمات کے لیے
- دامنی ایپ — بجلی (لائٹننگ) کے انتباہات کے لیے (آئی آئی ٹی ایم کے ذریعے تیار کردہ)
- اُمنگ ایپ — موسم کی پیش گوئی اور انتباہات کے لیے (ایم ای آئی ٹی وائی کے ذریعے تیار کردہ)
مزید برآں، آئی ایم ڈی انتباہات کی مؤثر ترسیل کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ٹیلیمیٹکس (سی-ڈاٹ) کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے۔ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کے تحت، آئی ایم ڈی شدید موسمی واقعات جیسے بھاری بارش، بجلی گرنا، گرج چمک اور دھول کے طوفان کے لیے ساچیت (SACHET) پلیٹ فارم کے ذریعے کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) الرٹس جاری کرتا ہے۔
یہ انتباہات اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے ذریعے جیو-ٹارگیٹڈ صارفین تک ایس ایم ایس کے ذریعے پہنچائے جاتے ہیں، جبکہ یہ الرٹس (ساجیت) SACHET ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ مزید برآں، آئی ایم ڈی کے سی اے پی فیڈز کو گلوبل ملٹی ہیزرڈ الرٹ سسٹم (جی ایم اے ایس)، گوگل، ایکیو ویدر، اور ایپل جیسے پلیٹ فارمز پر بھی پھیلایا جاتا ہے۔
آئی ایم ڈی نے ایک اے پی آئی (ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس) تیار کیا ہے، جسے مختلف نجی اور سرکاری تنظیمیں آئی ایم ڈی کی پیش گوئیوں اور انتباہات کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام تک پہنچانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، بشمول مختلف اسٹیک ہولڈرز کے تیار کردہ موبائل ایپس۔ یہ اے پی آئی تمام شدید موسمی پیش گوئیوں اور انتباہات کا تبادلہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، درمیانی مدت کی پیش گوئیاں اور انتباہات باقاعدگی سے ای میل کے ذریعے ریاستی انتظامیہ—چیف سکریٹری، اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، اور میڈیا—تک پہنچائے جاتے ہیں۔ مزید برآں، انتباہات انتظامیہ کے واٹس ایپ گروپس (ریاستی سطح کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ گروپس) کے ذریعے بھی شیئر کیے جاتے ہیں۔
یہ معلومات ارتھ سائنسز اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 19 مارچ 2026 کو راجیہ سبھا میں پیش کیں۔
***
UR-4479
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2242684)
وزیٹر کاؤنٹر : 17