ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: این ٹی پی سی کے جوہری منصوبوں میں حفاظتی معیارات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAR 2026 4:55PM by PIB Delhi
راجیہ سبھا میں جمعرات کے روز ایک سوال کےتحریری جواب کے دوران مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی علوم اور دفتر وزیر اعظم ، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ نے ہندوستان میں قائم کیے جانے والے ہر قسم کے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے لیے جوہری اور تابکاری تحفظ سے متعلق ضابطہ جاتی لوازمات طے کیے ہیں۔ یہ لوازمات عموماً ٹیکنالوجی اور ادارے کے لحاظ سے غیر جانب دار ہوتے ہیں اور بین الاقوامی معیارات، خصوصاً عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹس کی سائٹ کے انتخاب، ڈیزائن، تعمیر، کمیشننگ اور آپریشن تمام متعلقہ حفاظتی تقاضوں، بشمول ماحولیاتی تحفظ کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں۔ سائٹنگ، تعمیر اور کمیشننگ کے مراحل کے تسلی بخش جائزے کے بعد اے ای آر بی آپریشن کا لائسنس جاری کرتا ہے۔ لائسنس کی مدت کے دوران پلانٹس کی حفاظتی کارکردگی کا مسلسل جائزہ حفاظتی معائنے اور ریگولیٹری نگرانی کے ذریعے لیا جاتا ہے۔ ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق، ہر پلانٹ کو تقریباً ہر دس سال بعد جامع دورانیہ جاتی حفاظتی جائزہ سے بھی گزرنا ہوتا ہے، جس میں موجودہ معیارات کے مطابق حفاظتی اقدامات کا ازسرِنو جائزہ لے کر ضروری تبدیلیاں نافذ کی جاتی ہیں۔
اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ نے جامع ریگولیٹری معائنہ کا پروگرام بھی نافذ کیا ہے تاکہ لائسنس یافتہ نیوکلیئر تنصیبات ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق کام کریں اور حفاظتی اہداف پورے کریں۔ اس پروگرام کے تحت ہر تنصیب کے لیے معمول کے معائنوں کی کم از کم تعدد، دائرہ کار اور نوعیت متعین کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مخصوص واقعات یا سرگرمیوں کی بنیاد پر خصوصی یا فوری معائنے بھی کیے جاتے ہیں، جو نوٹس کے ساتھ یا بغیر نوٹس کے بھی ہو سکتے ہیں۔ معائنوں کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو ان کی حفاظتی اہمیت کے مطابق درجہ بندی کیا جاتا ہے، جیسے کم اہمیت، درمیانی اہمیت اور زیادہ اہمیت کے زمرے۔ ان خامیوں پر بروقت اصلاحی اقدامات یقینی بنانے کے لیے عمل درآمد کی نگرانی کی جاتی ہے اور تصدیق کے بعد ہی انہیں بند کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ معائنہ اور تعمیلی نظام ٹیکنالوجی سے غیر وابستہ ہے اور تمام نیوکلیئر پاور پلانٹس، بشمول نئے منصوبوں پر یکساں طور پر ان کا اطلاق ہوتا ہے، تاکہ سبھی تنصیبات قومی ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت مقررہ سخت حفاظتی معیارات، معائنہ جاتی نظام اور تعمیل کے تقاضوں کی پابندی کریں۔
محکمۂ جوہری توانائی عوام میں جوہری توانائی کے فروغ کی بیداری اور رابطہ پروگرام منعقد کرتا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لیے خصوصی اسکیمیں بھی چلاتا ہے تاکہ طلبہ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں دلچسپی اور آگاہی بڑھائی جا سکے، جس میں "پرمانو جیوتی پروگرام" کے تحت اسکولوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ محکمہ کے افسران پیشہ ورانہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا دورہ کر کے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کریئر کے مواقع سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔
جوہری تنصیبات کے اطراف میں بھی وقتاً فوقتاً عوامی بیدار ی کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ عوام، بالخصوص طلبہ کے لیے پلانٹس کے دورے کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ جوہری توانائی کے بارے میں شعور اجاگر ہو اور غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔ مقامی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ماحولیاتی سروے کی لیبارٹریز میں سائنسی منصوبے انجام دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، محکمۂ جوہری توانائی ٹیکنالوجی نمائشوں میں شرکت، تابکاری تحفظ سے متعلق لٹریچر اور بروشر کی اشاعت، آگاہی مہمات، صحافیوں سے ملاقاتیں، متعلقہ فریقوں کے لیے نمائشیں اور تعلیمی دوروں کے ذریعے بھی خصوصاً قومی یومِ سائنس اور قومی یومِ ٹیکنالوجی جیسے مواقع پر باقاعدگی سے عوامی بیداری مہم چلاتا ہے۔
جوہری توانائی کے منصوبوں سے مقامی معیشت کو بھی تقویت ملتی ہے۔ نئے جوہری پلانٹس کے قیام سے مقامی صنعتوں کو فائدہ ہوتا ہے، تعمیر اور کمیشننگ کے مراحل میں مقامی ہنر مند نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے سے مقامی معیشت کو فروغ ملتا ہے۔
محکمۂ جوہری توانائی کے تحت قائم سرکاری ادارہ این پی سی آئی ایل ملک بھر میں بھی جوہری توانائی کے بارے میں مؤثر اور مستند بیداری پیدا کرنے کے لیے منظم عوامی آگاہی پروگرام چلا رہا ہے۔ اس مہم کا مرکز طلبہ و اساتذہ، مقامی برادری، پالیسی ساز، عوامی نمائندے، ذرائع ابلاغ اور رائے عامہ ہموار کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ عوام الناس بھی ہیں۔ فی الحال عوامی رابطہ کی سرگرمیاں مسلسل اور کثیر جہتی حکمتِ عملی کے تحت جاری ہیں، جن میں اسکولوں اور کالجوں کے دورے، این سی سی کیمپ، سائٹ وزٹس، سائنسی مراکز کے دورے، نمائشیں، لیکچر و سیمینار اور دیگر مختلف اقدامات شامل ہیں۔ ان کوششوں میں مناسب آگاہی کے مواد کی تیاری اور اسے تمام متعلقہ طبقات تک پہنچانا بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ این پی سی آئی ایل ٹریڈ اپرنٹس ایکٹ 1961 کے تحت اپنے مختلف پلانٹس اور پاور اسٹیشن پر ہنر مندی کی تربیت بھی فراہم کرتا ہے، جبکہ کارپوریٹ کی سماجی ذمہ داری کے تحت مختلف اسکیموں کے ذریعے تربیتی اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔
******
(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)
Urdu No-4492
(ریلیز آئی ڈی: 2242678)
وزیٹر کاؤنٹر : 20