سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کی بازآبادکاری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAR 2026 5:15PM by PIB Delhi

ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کا ایک نیا سروے جو کہ ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کے طور پر روزگار کی ممانعت اور ان کی بحالی ایکٹ ، 2013 کی دفعات کے مطابق ملک کے تمام اضلاع میں کیا گیا ہے، اس کے تحت کوئی ہاتھ سے صفائی کرنے والا (ایم ایس) نہیں ملا ہے ۔ تاہم 2013 اور 2018 میں کئے گئے دو سروے کے دوران 58,098 ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ تمام شناخت شدہ ایم ایس کو 40000 ہزار روپے فی کس کی شرح سے ایک مشت نقد امداد (او ٹی سی اے) کی ادائیگی کی گئی ہے، جس میں بہار کے 131 ایم ایس (0.22 فیصد) بھی شامل ہیں۔

سال2020-21 سے 2024-25 کے دوران 14,692 ایم ایس کو او ٹی سی اے ، 9,868 ایم ایس کو اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ اور 1,524 ایم ایس کو کیپٹل سبسڈی دی گئی ہے ۔جس کی تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں ۔

ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کے طور پر روزگار کی ممانعت اور ان کی بحالی ایکٹ ، 2013 اور ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کے طور پر روزگار کی ممانعت اور ان کی بحالی کے قواعد ، 2013 اور ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کی طرف سے جاری کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) کے تحت تجویز کردہ حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سیوروں اور سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک صفائی کے دوران ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کچھ اموات ہوئی ہیں ۔

سیوریج اور سیپٹک ٹینک ورکرز (ایس ایس ڈبلیو) کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے 2023-24 میں نیشنل ایکشن فار میکانائزڈ سینی ٹیشن ایکوسسٹم (نمستے)اسکیم شروع کی گئی ہے ۔ نمستے اسکیم کے تحت کارکنوں کی حفاظت کو بڑھانے اور میکانائزیشن کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے اقدامات درج ذیل ہیں:-

  1. ایس ایس ڈبلیو کے لیے ذاتی حفاظتی آلات کے کٹس ۔
  2. ایس ایس ڈبلیو کو پیشہ ورانہ حفاظتی تربیت ۔
  3. بڑے شہری بلدیاتی اداروں میں ایمرجنسی رسپانس سینی ٹیشن یونٹس (ای آر ایس یو) کے لیے حفاظتی آلات ۔
  4. صفائی ستھرائی کے کارکنوں ، ان کے زیادہ سے زیادہ پانچ افراد کے گروپوں اور پرائیویٹ سینی ٹیشن سروس آپریٹرز (پی ایس ایس اوز) کو صفائی سے متعلق مشینری کے لیے اپ فرنٹ کیپٹل سبسڈی۔
  5. سیوریج اور سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک صفائی کی روک تھام سے متعلق ورکشاپس ۔
  6. ذمہ دار صفائی اتھارٹی کی تقرری ۔

یکم اکتوبر 2021 کو شروع کیا گیا سوچھ بھارت مشن-شہری میں ایک نیا جزو یعنی استعمال شدہ پانی کا انتظام (یو ڈبلیو ایم) سیوروں اور سیپٹک ٹینکوں میں خطرناک داخلے کے خاتمے اور سیوریج اور سیپٹک ٹینک کی صفائی کی کارروائیوں کو میکانائزیشن کے ذریعے دستی صفائی کے خاتمے کو برقرار رکھنے کے مقاصد میں سے ایک ہے، شامل کیاگیا ہے۔

ضمیمہ

راجیہ سبھا کے حصہ (اے) کے جواب میں مذکور ضمیمہ غیر ستارہ سوال نمبر ۔ 3021 ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کی بازآبادکاری  سے متعلق 18مارچ2026 کو جواب دیا جانا تھا ۔

پچھلے 5 سالوں کے دوران 2013 اور 2018 میں کئے گئے سروے میں ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کو دی جانے والی ایک بار کی نقد امداد ، ہنر مندی کی تربیت اور سرمایہ سبسڈی کی ریاست وار تفصیلات درج ذیل ہیں:-

نمبر شمار

ریاست /مرکز کے زیر انتظام علاقہ کا نام

2013 اور 2018 کے سروے کے دوران شناخت شدہ ایم ایس کی تعداد

2020-21 سے 2024-25 کے دوران دستی صفائی کرنے والوں کی تعداد

او ٹی سی اے

ماہرانہ ترقی کے لئے ٹریننگ

سرمایہ جاتی سبسڈی

1

آندھرا پردیش

1793

330

72

0

2

آسام

3921

3051

198

2

3

بہار

131

0

0

0

4

چھتیس گڑھ

3

0

0

0

5

گجرات

105

0

0

0

6

جھارکھنڈ

192

68

0

0

7

کرناٹک

2927

1046

326

671

8

کیرالہ

518

0

12

0

9

مدھیہ پردیش

510

169

145

0

10

مہاراشٹر

6325

718

459

9

11

اڈیشہ

230

11

0

0

12

پنجاب

231

9

0

10

13

راجستھان

2673

232

1094

14

14

تمل ناڈو

398

14

0

3

15

اتر پردیش

32473

6267

6584

348

16

اتراکھنڈ

4988

2775

962

22

17

مغربی بنگال

680

2

16

445

 

کل

58098

14692

9868

1524

  1.  

یہ معلومات سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب رام داس اٹھاولے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

****

ش ح۔ ع و ۔ع د

UR No- 4429


(ریلیز آئی ڈی: 2242297) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी