خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ملک میں مرکزی اسپانسر شدہ اسکیموں کو نافذ کررہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAR 2026 3:28PM by PIB Delhi

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت ملک میں خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کو نافذ کر رہی ہے، جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، یعنی (1) مشن شکتی — خواتین کی حفاظت، تحفظ اور عطائے اختیار کے لیے؛ (2) سکشم آنگن واڑی و پوشن 2.0 — خواتین اور بچوں کی غذائیت اور صحت کے اشاریوں میں بہتری کے لیے اور (3) مشن واتسلیہ — مشکل حالات میں بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے۔

مشن شکتی کا مقصد خواتین کی حفاظت، سلامتی اور عطائے اختیار کے لیے اقدامات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت مختلف وزارتوں/ محکموں اور حکمرانی کی مختلف سطحوں پر ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ مشن شکتی دو ذیلی اسکیموں پر مشتمل ہے: ’سمبل‘ اور ’سامرتھ‘ — جن کا تعلق بالترتیب خواتین کی حفاظت و سلامتی اور خواتین کے عطائے اختیار سے ہے۔

’سمبل‘ ذیلی اسکیم خواتین کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ہے، جس میں ون اسٹاپ سینٹر (او ایس سی)، ویمن ہیلپ لائن (ڈبلیو ایچ ایل)، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اور ناری عدالت جیسے اجزا شامل ہیں۔

’سامرتھ‘ ذیلی اسکیم خواتین کے عطائے اختیار کے لیے ہے۔ اس کے تحت پردھان منتری ماتر وندنا یوجنا، شکتی سدن، سکھی نواس، پالنا اور سنکلپ: ہب فار امپاورمنٹ آف ویمن جیسے اجزا شامل ہیں۔ یہ ایک طلب پر مبنی مرکزی معاونت یافتہ ذیلی اسکیم ہے، جس کے تحت مختلف اجزا کے نفاذ کے لیے ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کو فنڈ جاری کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، سنکلپ: ایچ ای ڈبلیو (ہب فار امپاورمنٹ آف ویمن) مشن شکتی کے تمام اجزا کے لیے ایک پروجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ (پی ایم یو) کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک سنگل ونڈو نظام کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے، جو خواتین کے لیے دستیاب اسکیموں اور سہولیات سے متعلق معلومات اور آگاہی کے خلا کو پُر کرتا ہے اور انہیں ان فوائد اور مراعات حاصل کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

ہب فار امپاورمنٹ آف ویمن (ایچ ای ڈبلیو) جسے سنکلپ: ایچ ای ڈبلیو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، خواتین کے عطائے اختیار کے لیے قومی، ریاستی اور ضلعی سطح پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مرکزی، ریاستی/ مرکز زیر انتظام علاقوں اور ضلع سطح پر خواتین سے متعلق اسکیموں اور پروگراموں کے درمیان بین شعبہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ اس کا مینڈیٹ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں خواتین اپنی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کر سکیں، خواتین سے متعلق ریاستی اقدامات میں موجود خلا کو پُر کیا جا سکے اور بین وزارتی و بین شعبہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ ادارہ ایسے عمل کو مضبوط بنانے پر زور دیتا ہے جو خواتین کے ہمہ جہتی عطائے اختیار کو فروغ دیں، سماجی تبدیلی کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں اور سرکاری اسکیموں تک رسائی اور ان کے مؤثر استعمال کو بہتر بنائیں۔

محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی ملک میں خواتین کو سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مختلف مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اسکیم ”ویمن اِن سائنس اینڈ انجینئرنگ-کرن“ نافذ کر رہا ہے۔ اس کے تحت مختلف پروگرام شامل ہیں، جیسے: وائز-پی ایچ ڈی فیلوشپ جو بنیادی اور اطلاقی سائنس میں ڈاکٹریٹ تحقیق کے لیے ہے؛ وائز-پوسٹ ڈاکٹیرل فیلوشپ جو بنیادی اور اطلاقی سائنس میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کے لیے ہے؛ وائز-اسکوپ جو سائنس و ٹیکنالوجی کی مداخلت کے ذریعے سماجی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہے اور ودوشی جو سینیئر خواتین سائنسدانوں کو اپنی سائنسی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ایک اور پروگرام وائز-آئی پی آر“ ہے، جو املاک دانش کے حقوق کے شعبے میں تربیت فراہم کرتا ہے۔ ایک منفرد پہل ”وگیان جیوتی“ ہے، جس کا مقصد باصلاحیت طالبات کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی کے کم نمائندگی والے شعبوں میں کیریئر اختیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس کے تحت سال بھر مختلف سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، جیسے والدین و طالب علم مشاورت، کیریئر کونسلنگ، خصوصی تعلیمی کلاسیں، عملی سرگرمیاں، رول ماڈل سے ملاقات، لیب/انڈسٹری اور سائنس کیمپس کے دورے وغیرہ۔

مالی سال 2025-2026 کے دوران وائز-کرن کے مختلف پروگراموں کے تحت تقریباً 900 خواتین کو معاونت فراہم کی گئی ہے۔

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر مملکت، محترمہ ساوتری ٹھاکر نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

*********

ش ح۔ ف ش ع

U: 4377

 


(ریلیز آئی ڈی: 2242151) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी