وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
سفید انقلاب 2.0
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAR 2026 11:43AM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سفید انقلاب 2.0 کا آغاز 19 ستمبر 2024 کو امداد باہمی کی وزارت اور وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کے اشتراک سے کیا گیا، جو حکومت کے غیر احاطہ شدہ پنچایتوں کو کوآپریٹو ماڈل کے ذریعے بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کوآپریٹو دائرہ کار کو بڑھانا، منڈی تک رسائی کو بہتر بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور خواتین کو بااختیار بنانا ہے، تاکہ آئندہ پانچ برسوں میں ڈیری سے متعلق امداد باہمی کے اداروں کے ذریعے دودھ کی خریداری میں 50 فیصد اضافہ کیا جا سکے۔ اس کے تحت پانچ سال میں 75,000 نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
جی ہاں، بھارت 1998 سے دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس وقت عالمی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔ یہ کامیابی دانشمندانہ پالیسی اقدامات اور ملک بھر میں ڈیری ترقیاتی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہے، جنہیں محکمہ مویشی پروری و ڈیری(ڈی اے ایچ ڈی ) حکومتِ ہند ریاستی حکومتوں کی کوششوں کے ساتھ مل کر نافذ کرتا ہے، تاکہ دودھ کی پیداوار اور پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
محکمہ برائے مویشی پروری اور ڈیری دسمبر 2014 سے راشٹریہ گوکل مشن(آر جی ایم)نافذ کر رہا ہے، جس میں جنس کے تعین شدہ منی اور آئی وی ایف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ اس مشن اور دیگر اقدامات کے نتیجے میں مویشیوں کی اوسط پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 14-2013 میں 1648.17 کلوگرام فی مویشی سالانہ سے بڑھ کر 25-2024 میں 2251 کلوگرام ہو گئی، یعنی 36.63 فیصد کا اضافہ ہوا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرحِ نمو ہے۔ مقامی اور غیر مخصوص نسل کے مویشیوں کی پیداوار 15-2014 میں 927 کلوگرام سے بڑھ کر 25-2024 میں 1343.2 کلوگرام ہو گئی (44.89 فیصد کااضافہ)، جبکہ بھینسوں کی پیداوار 1880 کلوگرام سے بڑھ کر 2365.2 کلوگرام ہو گئی (25.80 فیصد کااضافہ)۔
دودھ کی پیداوار میں 5.8 فیصد کی شرحِ نمو نہ صرف قومی ڈیری ترقیاتی پروگرام (این پی ڈی ڈی ) کی افادیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ محکمہ برائے مویشی پروری او رڈیری کی تمام اسکیموں کے مثبت اثرات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
جی ہاں، بھارت میں ڈیری کوآپریٹوز نے دودھ کی خریداری اور ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل نظام تیزی سے اپنایا ہے۔ ڈیٹا پروسیسر ملک کلیکشن یونٹس(ڈی پی ایم سی یو)اور آٹومیٹڈ ملک کلیکشن یونٹس(اے ایم سی یو)، جو قومی ڈیری ترقیاتی پروگرام (این پی ڈی ڈی )کے تحت قائم کیے گئے ہیں، ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے اور کسانوں کے بینک کھاتوں میں براہِ راست ادائیگی کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ نظام بہار، گجرات اور مدھیہ پردیش سمیت مختلف ریاستوں میں نافذ ہیں، جو شفافیت، درست جانچ اور بروقت ادائیگی کو یقینی بناتے ہیں۔
بھارت میں ڈیری کوآپریٹوز کسانوں سے مناسب قیمت پر دودھ خرید کر صارفین کو معیاری دودھ اور دودھ سےمنسلک مصنوعات مناسب قیمتوں پر فراہم کرتے ہیں، جس سے کسان خاندانوں کی سماجی و معاشی ترقی میں مدد ملتی ہے۔ ڈیری شعبہ مستقل آمدنی کا ذریعہ فراہم کرتا ہے جبکہ کوآپریٹوز کسانوں کو منڈی سے جوڑ کر قومی اور بین الاقوامی ویلیو چین کا حصہ بناتے ہیں۔ بھارت میں فی کس دودھ کی دستیابی 485 گرام یومیہ ہے، جو آئی سی ایم آر کی تجویز کردہ 300 ملی لیٹر یومیہ سے زیادہ ہے۔ اس وقت تقریباً 1.7 کروڑ کسان ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز کے رکن ہیں، جن میں تقریباً 38 فیصد خواتین شامل ہیں۔ غیر احاطہ شدہ علاقوں میں کوآپریٹوز کی توسیع، خوراک کی یقینی فراہمی اور دیہی کسانوں، خصوصاً خواتین، کے لیے مستحکم آمدنی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ضمیمہ -1
سفید انقلاب 2.0 کے تحت پانچ سال کے دوران نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز (ڈی سی ایس)کے قیام کے لیے ریاست وار اہداف درج ذیل ہیں:
|
ریاست
|
2024-25
|
2025-26
|
2026-27
|
2027-28
|
2028-29
|
Total
|
|
آندھرا پردیش
|
3,091
|
1,066
|
1,028
|
963
|
894
|
7,042
|
|
آسام
|
135
|
680
|
460
|
540
|
585
|
2,400
|
|
بہار
|
2,320
|
1,980
|
748
|
748
|
748
|
6,544
|
|
چھتیس گڑھ
|
500
|
1,070
|
910
|
910
|
910
|
4,300
|
|
گوا
|
2
|
13
|
8
|
9
|
9
|
41
|
|
گجرات
|
238
|
245
|
240
|
228
|
222
|
1,173
|
|
ہریانہ
|
149
|
213
|
166
|
171
|
171
|
870
|
|
ہماچل پردیش
|
90
|
478
|
259
|
249
|
244
|
1,320
|
|
جموں و کشمیر
|
150
|
254
|
202
|
202
|
152
|
960
|
|
جھارکھنڈ
|
100
|
698
|
374
|
364
|
364
|
1,900
|
|
کرناٹک
|
669
|
777
|
639
|
603
|
623
|
3,311
|
|
کیرالہ
|
34
|
34
|
34
|
34
|
34
|
170
|
|
مدھیہ پردیش
|
512
|
1,424
|
1,043
|
1,043
|
1,043
|
5,064
|
|
مہاراشٹر
|
133
|
781
|
506
|
516
|
492
|
2,428
|
|
منی پور
|
26
|
97
|
61
|
61
|
61
|
306
|
|
میگھالیہ
|
10
|
165
|
100
|
70
|
70
|
415
|
|
میزورم
|
15
|
31
|
23
|
18
|
18
|
105
|
|
ناگالینڈ
|
1
|
35
|
19
|
20
|
21
|
96
|
|
اوڈیشہ
|
1,209
|
1,554
|
1,243
|
2,815
|
1,726
|
8,547
|
|
پڈوچیری
|
1
|
3
|
1
|
1
|
1
|
7
|
|
پنجاب
|
476
|
530
|
488
|
447
|
437
|
2,378
|
|
راجستھان
|
1,300
|
1,808
|
1,599
|
1,634
|
1,671
|
8,012
|
|
سکم
|
15
|
12
|
10
|
10
|
10
|
57
|
|
تمل ناڈو
|
227
|
386
|
323
|
334
|
346
|
1,616
|
|
تلنگانہ
|
372
|
435
|
306
|
208
|
204
|
1,525
|
|
تریپورہ
|
15
|
31
|
28
|
28
|
28
|
130
|
|
اتر پردیش
|
1,666
|
2,101
|
2,026
|
2,121
|
2,216
|
10,130
|
|
اتراکھنڈ
|
222
|
473
|
333
|
328
|
306
|
1,662
|
|
مغربی بنگال
|
295
|
741
|
530
|
461
|
464
|
2,491
|
| |
13,973
|
18,115
|
13,707
|
15,136
|
14,070
|
75,000
|
ضمیمہ -2
ملک میں مویشی پروری اور ڈیری ترقی کے لیے حکومتِ ہند کے محکمہ برائے مویشی پروری اور ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) کی اسکیمیں درج ذیل ہیں:
- راشٹریہ گوکل مشن (آرجی ایم):یہ مشن مقامی نسلوں کے تحفظ و فروغ، مویشیوں کی نسل کی جینیاتی بہتری، اور دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
- قومی ڈیری ترقیاتی پروگرام(این پی ڈی ڈی ):یہ پروگرام درج ذیل دو اجزاء پر مشتمل ہے:
- جزو ‘‘اے’’:معیاری دودھ کی جانچ کے آلات اور بنیادی کولنگ سہولیات کے قیام/استحکام پر مرکوز ہے، جو ریاستی کوآپریٹو ڈیری فیڈریشنز، دودھ پیدا کرنے والوں کی ضلعی انجمنوں ، اپنی مدد آپ گروپوں ، ملک پروڈیوسر کمپنیوں اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کے لیے ہے۔
- جزو ‘‘بی’’: کوآپریٹوز کے ذریعے ڈیری” کے تحت کسانوں کی منظم منڈی تک رسائی بڑھا کر دودھ اور ڈیری مصنوعات کی فروخت میں اضافہ، ڈیری پروسیسنگ سہولیات اور مارکیٹنگ ڈھانچے کی بہتری، اور پروڈیوسر اداروں کی صلاحیت میں اضافہ مقصود ہے۔
- ڈیری کوآپریٹوز اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز(ایس ڈی سی ایف پی او) کی مدد:ریاستی ڈیری کوآپریٹو فیڈریشنز کوکاروبار کے روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سافٹ قرض کی فراہمی، قرض پر سود میں رعایت (باقاعدہ 2فیصد اور بروقت ادائیگی پر اضافی 2 فیصد) فراہم کی جاتی ہے تاکہ منڈی کی خراب صورتحال یا قدرتی آفات کے دوران مدد مل سکے۔
- مویشی پالنے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ترقیاتی فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف):یہ فنڈ مویشی مصنوعات کی پروسیسنگ اور تنوع کے ڈھانچے کے قیام/استحکام کے لیے 3 فیصد سالانہ سودی رعایت فراہم کرتا ہے، جس سے غیر منظم شعبے کے پروڈیوسرز کو منظم منڈی تک بہتر رسائی ملتی ہے۔
- مویشیوں سے متعلق قومی مشن(این ایل ایم):یہ مشن پولٹری، بھیڑ، بکری، سور اور چارہ کے شعبوں میں کاروباری ترقی اور نسلوں کی بہتری پر توجہ دیتا ہے، اور افراد، ایف پی اوز، ایس ایچ جیز اور سیکشن 8 کمپنیوں کو ترغیبات فراہم کرتا ہے، نیز ریاستی حکومتوں کو بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تعاون فراہم کرتا ہے۔
- مویشیوں کی صحت اور امراض کی روک تھام کے پروگرام(ایل ایچ ڈی سی پی):اس کے تحت مویشیوں کی بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکہ کاری، ویٹرنری خدمات کی صلاحیت میں اضافہ، بیماریوں کی نگرانی اور ویٹرنری انفراسٹرکچر کی مضبوطی شامل ہے۔ اس اسکیم میں “پشو اوشدھی” کا نیا جزو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت پردھان منتری کسان سمرِدھی کیندروں(پی ایم-کے ایس کے)اور کوآپریٹو سوسائٹیز کے ذریعے سستی اور معیاری جینرک ویٹرنری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جاتی ہے۔
یہ تمام اسکیمیں مویشیوں کی دودھ دینے کی صلاحیت میں اضافہ، ڈیری کوآپریٹوز کے نیٹ ورک کی توسیع، ڈیری بنیادی ڈھانچہ کی مضبوطی، کاروبار کے روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قرض کی فراہمی، چارہ کی دستیابی میں بہتری اور جانوروں کی صحت کی خدمات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ ان اقدامات سے دودھ کی پیداوار کی لاگت کم ہوتی ہے اور ڈیری کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔
*******
ش ح ۔م ع۔م ذ
UR No. 4321
(ریلیز آئی ڈی: 2241826)
وزیٹر کاؤنٹر : 7