وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
بہار میں مویشیوںاور ڈیری سیکٹر اسکیموں کی ترقی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAR 2026 11:46AM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ (اے)سے (سی )مویشیوں اور ڈیری کے شعبوں کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششوں کی تکمیل کے لیے محکمہ برائے مویشی پروری اور ڈیری ، حکومت ہند،بہار سمیت ملک بھر میں درج ذیل پروگراموں کو نافذ کر رہا ہے:
- راشٹریہ گوکل مشن کو مقامی مویشیوں کی نسلوں کی ترقی اور تحفظ ، مویشیوں کی آبادی کے جینیاتی جدید کاری اور دودھ کی پیداوار اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے نافذ کیا گیا ہے جس سے دودھ کی پیداوار کو کسانوں کے لیے زیادہ منافع بخش بنایا گیا ہے ۔راشٹریہ گوکل مشن مویشیوں اور بھینسوں کی مقامی نسلوں سمیت زیادہ بچہ دینے والے مویشیوں کی آبادی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔ ملک گیر مصنوعی حمل پروگرام کے تحت گزشتہ تین برسوں کے دوران 33.39 لاکھ ڈیری کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے ۔
- مویشیوں سے متعلق قومی مشن (این ایل ایم) کو وسیع اسکیم ترقیاتی پروگرام کے تحت روزگار پیدا کرنے ، کاروباری ترقی ، فی جانور پیداواری صلاحیت میں اضافے اور اس طرح گوشت ، بکری کے دودھ ، انڈے اور اون کی پیداوار میں اضافے کے مقصد سے نافذ کیا گیا ہے ۔ اس اسکیم میں درج ذیل تین ذیلی مشن ہیں :(اے)مویشیوں اور پولٹری کی نسل کی ترقی سے متعلق ذیلی مشن ؛ (بی) چارہ اور خوراک کی ترقی سے متعلق ذیلی مشن اور(سی)اختراع اور توسیع سے متعلق ذیلی مشن ۔مویشیوں سے متعلق قومی مشن کاروبار کی ترقی کے پروگرام کے تحت بہار کے لیے 70 لاکھ روپے کی پروجیکٹ لاگت والے 2 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے اور مستفیدین کو 14 لاکھ روپے کی سبسڈی کی رقم جاری کی گئی ہے ۔
چارہ اورخوراک سے متعلق ذیلی مشن میں درج ذیل اجزاء شامل ہیں:
- معیاری چارہ بیج کی پیداوار کے لیے تعاون
- خوراک اور چارہ کے شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ
- چارہ بیج کی پروسیسنگ کے لیے کاروباری افراد کا قیام (پروسیسنگ و گریڈنگ یونٹ / چارہ بیج ذخیرہ گودام)
- غیر جنگلاتی بنجر زمین / چراگاہ / غیر قابلِ کاشت زمین سے چارہ کی پیداوار اور جنگلاتی زمین سے چارہ کی پیداوار
- مویشیوں سے متعلق بیمہ پروگرام: مویشیوں کے لیے بیمہ کے لیے ریاستی حکومت کو پریمیم میں حصہ داری کی بنیاد پر 60:40 یا 90:10 کے تناسب سے مدد فراہم کی جاتی ہے۔ مستفید ہونے والا شخص پریمیم کا 15 فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔ سبسڈی کا فائدہ فی گھرانہ زیادہ سے زیادہ 10 مویشی یونٹ تک محدود ہے۔
2. مویشیوں کی پیداوار کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) اے ایچ آئی ڈی ایف مویشیوں کے پروڈکٹس کی پروسیسنگ اور تنوع کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر/مضبوطی کے لیے 3 فیصد سالانہ کی شرح سے سود کی رعایت فراہم کرتا ہے جس سے غیر منظم پروڈیوسر ممبران کو منظم مارکیٹ تک زیادہ رسائی فراہم ہوتی ہے ۔
3. ڈیری کی ترقی کے قومی پروگرام (این پی ڈی ڈی ): این پی ڈی ڈی کو درج ذیل 2 اجزاء کے ساتھ لاگو کیا جاتا ہے:
- این پی ڈی ڈی کا جزو ‘‘اے’’ معیاری دودھ کی جانچ کے آلات کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر/مضبوطی کے ساتھ ساتھ ریاستی کوآپریٹو ڈیری فیڈریشنز/ڈسٹرکٹ کوآپریٹو دودھ پروڈیوسرز یونین/اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جیز)/دودھ کی پیداوار کرنے والی کمپنیوں /کسان پروڈیوسر تنظیموں کے لیے بنیادی کولنگ سہولیات پر مرکوز ہے ۔
- این پی ڈی ڈی اسکیم ‘‘ امداد باہمی کے ذریعے ڈیری’’ کے جزو ‘‘بی’’ کا مقصد کسانوں کی منظم بازار تک رسائی میں اضافہ کرکے ، ڈیری پروسیسنگ کی سہولیات اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید تر بناکر اور پروڈیوسر کی ملکیت والے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرکے دودھ اور ڈیری مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنا ہے ۔
این پی ڈی ڈی اسکیم کے تحت ، پورے بہار میں 19 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے ، جن کی کل لاگت34601.85 لاکھ روپے ہے اور جس میں مرکز کی حصے داری25433.07 لاکھ ہے۔ اس میں سے 24124.29 لاکھ روپے کی رقم 28 فروری 2026 تک جاری کی جا چکی ہے ۔ اس اسکیم کا فائدہ ریاست کے تمام ڈیری کسانوں کو حاصل ہو رہا ہے ۔
5. ڈیری کوآپریٹیو اور کسان پروڈیوسر کی مدد کرنا:ڈیری سرگرمیوں میں مصروف تنظیمیں (ایس ڈی سی ایف پی او) مارکیٹ کے انتہائی خراب حالات یا قدرتی آفات کی وجہ سے بحران سے نمٹنے کے لیے سافٹ ورکنگ کیپٹل لون کے سلسلے میں سود کی رعایت (باقاعدہ 2فیصد اور فوری ادائیگی پر اضافی 2فیصد فراہم کرکے ریاستی ڈیری کوآپریٹو فیڈریشنوں کی مدد کرنا ہے۔
6. کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) مویشی پروری اور ڈیری کسانوں کو ورکنگ کیپٹل لون فراہم کرتا ہے ۔ بینکوں کو 1.5 فیصد سود کی رعایت اور فوری ادائیگی زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کی ‘‘ترمیم شدہ سود رعایت اسکیم (ایم آئی ایس ایس)’’ کے تحت کے سی سی کارڈ کے خلاف مویشی پروری ، ڈیری اور ماہی گیری کی سرگرمیوں کے لیے ورکنگ کیپٹل کی ضرورت پر کسانوں کو 3 فیصد کی ترغیبات2 لاکھ روپے تک فراہم کی جاتی ہیں ۔اس سے ڈیری کسانوں کو بہتر معیار کے چارہ ، ویٹرنری کیئر اور افزائش نسل کی جدید تکنیکوں میں سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملتی ہے ۔31 مارچ 2025 کی تاریخ تک بہار میں 1289.73 کروڑ روپے کی بقایا رقم کے ساتھ 2,54,408 کے سی سی کھاتے چل رہے ہیں ۔
7. مویشیوں کی صحت اور امراض کی روک تھام کے پروگرام (ایل ایچ ڈی سی پی) کو مویشیوں کی بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے ، ویٹرنری خدمات کی صلاحیت سازی ، بیماریوں کی نگرانی ، اور ویٹرنری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے ۔ نیز ، اس اسکیم کے تحت پشو اوشدھی کا ایک نیا جزو شامل کیا گیا ہے جو پردھان منتری کسان سمردھی کیندروں (پی ایم-کے ایس کے) اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے ذریعے ملک بھر میں سستی جینرک ویٹرنری ادویات کی دستیابی کو یقینی بناتا ہے ۔ اس سے جنیرک میڈیسن کے لیے ایک ایسا ایکو نظام فراہم ہوگا جو سستی اور اچھے معیار کا ہوگا۔بہار میں ایف ایم ڈی کے خلاف اب تک 8.09 کروڑ ٹیکے لگائے گئے ہیں جس سے 64.68 لاکھ ڈیری کاشتکار مستفید ہوئے ہیں اور بروسیلوسس کے خلاف 32.75 لاکھ ٹیکے لگائے گئے ہیں جس سے 15.18 لاکھ ڈیری کاشتکار مستفید ہوئے ہیں ۔
********
ش ح ۔م ع۔م ذ
UR No. 4320
(ریلیز آئی ڈی: 2241738)
وزیٹر کاؤنٹر : 10