شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
ماحولیات کے محاسبہ سے متعلق وضاحتی سیریز: ’افزائش سے متعلق خدمات‘
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAR 2026 12:15PM by PIB Delhi
- بھارت میں جمادات کی افزائش کا بھرپور تنوع موجود ہے، جس میں شہد کی مکھیوں کی 800 سے زائد اقسام کے ساتھ ساتھ تتلیاں، پتنگے، بھنورے، پرندے، چمگادڑیں اور مکھیاں شامل ہیں۔
- افزائش کی گنتی زرعی پیداوار میں ان جانداروں کے کردار کی مقدار اور مالیت کا تعین کرتی ہے، جس سے روایتی زرعی اعداد و شمار میں موجود خلاء کو پر کیا جاتا ہے۔
- سال 13-2012 سے 22-2021 کے دوران، فصلوں کی کل پیداواری مالیت میں افزائش سے متعلق خدمات کا حصہ تقریباً 8 سے 10 فیصد رہا۔
- فصلوں کی پیداوار میں افزائش کا حصہ13- 2012میں 115.41 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر 22-2021میں 266.33 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
- افزائش کی مالیت میں سب سے بڑا حصہ پھلوں اور سبزیوں کا رہا، جو ان کے بارآوری پر بہت زیادہ انحصار اور اہم مارکیٹ ویلیو کی عکاسی کرتا ہے۔
- افزائش سے متعلق خدمات کی معاشی قدر کا تعین ان جانداروں کے تحفظ، ان کے قدرتی مسکن کی حفاظت اور پائیدار زرعی طریقوں کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
- ماحولیاتی-معاشی اکاؤنٹنگ میں افزائش سے متعلق خدمات کو شامل کرنے سے زراعت، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے پالیسی سازی کو تقویت ملتی ہے۔
|
|
تعارف
شماریات اور پروگرام پر عمل درآمد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نے 2018 میں اقوام متحدہ کے ’ماحولیاتی معاشی اکاؤنٹس کے نظام‘ (ایس ای ای اے) کے فریم ورک کو اپنایا، جو ماحولیاتی معاشی کھاتوں کی ترتیب کے لیے ایک متفقہ بین الاقوامی ڈھانچہ ہے۔
18 مارچ 2026 کو پٹنہ، بہار میں ’پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے مانیٹرنگ فریم ورکس، ماحولیاتی اکاؤنٹس کی تالیف اور صنفی اعداد و شمار‘ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے دوران،ایم او ایس پی آئی نے ماحولیات کے محاسبہ سے متعلق وضاحتی سیریز: ’افزائش سے متعلق خدمات‘کے عنوان سے ایک کتابچہ جاری کیا۔ یہ افزائش سے متعلق خدمات پر پہلی مخصوص اشاعت ہے، جسے ایس ای ای اےفریم ورک کے مطابق قومی سطح پر جامع معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
افزائش سے متعلق خدمات کی اہمیت
افزائش سے متعلق خدمات ایک بنیادی حیاتیاتی عمل ہے جو زرعی پیداوار، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کے استحکام میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ فصلوں کی ایک بڑی تعداد جزوی یا مکمل طور پر جانوروں (حشرات وغیرہ) کے ذریعے ہونے والی بارآوری پر منحصر ہے۔ مؤثر بارآوری سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، پھلوں اور بیجوں کی ساخت بہتر ہوتی ہے اور زرعی مصنوعات کے معیار میں بہتری آتی ہے۔
اس کی انتہائی اہمیت کے باوجود، روایتی زرعی اعداد و شمار اور قومی کھاتوں میں فصلوں کی پیداوار کی قیمت تو درج کی جاتی ہے، لیکن افزائش سے متعلق خدمات کے ذریعے فراہم کردہ ماحولیاتی خدمات کی واضح گنتی نہیں کی جاتی۔ افزائش سے متعلق خدمات کی اکاؤنٹنگ زرعی پیداوار میں ان جانداروں کے معاشی حصے کا تعین کر کے اس کمی کو دور کرتی ہے، جس سے اس ضروری ماحولیاتی خدمت کی معاشی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ، ایم او ایس پی آئی نے ایس ای ای اے فریم ورک کے مطابق بارآوری کی خدمات کی اکاؤنٹنگ شروع کی ہے، جو ماحولیاتی نظام، زرعی پیداوار اور معاشی ترقی کے درمیان تعلق کو سمجھنے اور اسے اعداد و شمار میں ڈھالنے کے لیے ایک منظم طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
اشاعت کا جائزہ
یہ اشاعت افزائش کی خدمات کے حیاتیات، اس کے عمل اور پائیدار ترقی کے اہداف بشمول غذائی تحفظ، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، غربت میں کمی، اور موسمیاتی تبدیلی میں اس کے کردار کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھارت میں افزائش سے متعلق کام کرنے والے جانداروں کے تنوع اور پھیلاؤ پر روشنی ڈالتی ہے، جس میں شہد کی مکھیوں کی 800 سے زائد اقسام کے ساتھ ساتھ تتلیاں،پتنگے، بھونرے، پرندے، چمگادڑیں اور مکھیاں شامل ہیں۔ یہ تنوع افزائش پر منحصر بھارتی زراعت کی مضبوط ماحولیاتی بنیاد کی عکاسی کرتا ہے۔
اس رپورٹ میں فصلوں کی پیداوار میں افزائش سے متعلق خدمات کی مالیاتی قدر کا اندازہ لگانے کے لیے ’ بنیادی پیداوار‘ پرمبنی طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ اس میں مخصوص فصلوں کے افزائش پر انحصار کے تناسب کو استعمال کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فصل کی کل مالیت میں افزائش کا کتنا حصہ ہے۔ ایک شفاف اور قومی سطح پر مستقل طریقہ کار اپنا کر، جو موجودہ قومی اکاؤنٹس کے طریقوں سے ہم آہنگ ہے، یہ اشاعت حیاتیاتی عمل کو ایک معاشی اشاریے میں تبدیل کرتی ہے جسے ماحولیاتی-معاشی اکاؤنٹنگ، پالیسی تجزیہ اور باخبر فیصلہ سازی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اشاعت کے اہم نکات
- افزائش سے متعلق خدمات کی معاشی حیثیت: سال13- 2012سے22- 2021 کے درمیان، فصلوں کی کل پیداواری مالیت میں افزائش سے متعلق خدمات کا حصہ تقریباً 8 سے 10 فیصد رہا۔
- مالیاتی نمو: فصلوں کی مجموعی پیداوار میں افزائش کا مالیاتی حصہ جو13- 2012میں 115.41 ہزار کروڑ روپے تھا،22- 2021 میں بڑھ کر 266.33 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
تصویر 1: فصلوں کے زمرہ جات کا حصہ (دہائی میں آنے والی تبدیلی):

پھل اور سبزیاں: گزشتہ ایک دہائی کے دوران افزائش کی مجموعی مالیت میں پھلوں اور سبزیوں کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ان فصلوں کا انحصار افزائشی عمل پر بہت زیادہ ہے اور مارکیٹ میں ان کی معاشی قدر بھی کافی زیادہ ہے۔
تصویر 2: فصلوں کے زمرہ جات کے اندرافزائش سے منسوب پیداواری مالیت (پی وی او) کا فیصد (%)


مندرجہ بالا خاکے میں 13-2012سے 22-2021تک ہر فصل کے زمرے میں افزائش سے منسوب قیمت کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ ہر فصل کا زمرہ افزائش سے متعلق خدمات پر کس حد تک انحصار کرتا ہے۔ تیل دار بیج (تقریباً 27 تا 32 فیصد) اور ریشے دار فصلیں (تقریباً 22 تا 23 فیصد) مسلسل سب سے زیادہ انحصار ظاہر کرتی ہیں، جو مضبوط اور مستحکم افزائش سے متعلق روابط کی نشاندہی کرتا ہے۔
پالیسی کے مضمرات
افزائش سے متعلق خدمات کا معاشی تخمینہ، فصلوں کی پیداوار میں اس کے نمایاں کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ شہد کی مکھیوں کے پالنے اور افزائش سے متعلق خدمات کے معاون پروگراموں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک واضح پالیسی بنیاد فراہم کرتا ہے— جیسے کہ ملٹی منی مشن ڈیزائن کے ساتھ 'نیشنل بیکِیپنگ اینڈ ہنی مشن' (این بی ایچ ایم)، 'مشن فار انٹیگریٹڈ ڈویلپمنٹ آف ہارٹیکلچر (ایم آئی ڈی ایچ) اور کے وی آئی سی (کے وی آئی سی) ہنی مشن'— کیونکہ یہ اقدامات براہ راست معاش کے فوائد (شہد اور متعلقہ مصنوعات) پیدا کرتے ہیں اور ساتھ ہی بہتر افزائش کے ذریعے فصلوں کی پیداوری اور معیار کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔ افزائش سے منسلک مالیت کے پیمانے کو مدنظر رکھتے ہوئے، شہد کی مکھیوں کے پالنے، باغبانی، قدرتی مسکن کی بحالی، اور شجرکاری کے اقدامات کے ذریعے افزائش کرنے والے جانداروں کے انتظام اور مسکن کے حالات میں معمولی سی بہتری بھی اعلیٰ معاشی منافع دے سکتی ہے۔ چنانچہ، زرعی اسکیموں میں افزائش کے لیے سازگار طریقوں کو شامل کرنا اور جنگلات و زمین کے دیگر پروگراموں میں مسکن کی مدد کرنے والے اقدامات کو برقرار رکھنا، طویل مدتی پیداواری استحکام اور غذائی تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
|
یہ پبلیکیشن وزارت کی ویب سائٹ www.mospi.gov.in پر دستیاب ہے۔
|
پبلیکیشن تک رسائی کے لیے کیو آرکوڈ اسکین کریں۔

|
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –ع و–ص ج)
U. No. 4317
(ریلیز آئی ڈی: 2241720)
وزیٹر کاؤنٹر : 10