تعاون کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت ٹیکسی کا آغاز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 MAR 2026 4:40PM by PIB Delhi

امداد باہمی کی وزارت کوآپریٹو اداروں کو روزگار کی فراہمی، سماجی تحفظ اور نچلی سطح پر معاشی شمولیت کے مؤثر ذریعہ کے طور پر بااختیار بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ اسی تناظر میں بھارت ٹیکسیکو نقل و حرکت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جہاں ڈرائیورز، جنہیں ’سارَتھی‘ کہا جاتا ہے، کو ملکیت، نظم و نسق اور قدر کی تخلیق کے مرکز میں رکھا گیا ہے، تاکہ ایگریگیٹر ماڈلز کے مقابلے میں ایک باوقار اور پائیدار متبادل فراہم کیا جا سکے۔

بھارت ٹیکسی‘ ملک کا پہلا امداد باہمی نظام پر مبنی رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارم ہے، جو ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کے مطابق جامع اور عوام دوست نقل و حرکت کے حل کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسے کثیر ریاستی امداد باہمی سوسائٹیز ایکٹ 2002 کے تحت رجسٹر کیا گیا اور 6 جون 2025 کو آٹھ قومی سطح کے امداد باہمی اداروں نے قائم کیا، جبکہ اس کا باضابطہ آغاز 5 فروری 2026 کو ہوا۔

یہ پلیٹ فارم روایتی ’ڈرائیور پارٹنر‘ ماڈل سے ہٹ کر ’سارَتھی مالک‘ ماڈل کی طرف منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں ڈرائیورز کو سوسائٹی کی ملکیت حاصل کرنے، بورڈ آف مینجمنٹ میں نمائندگی اور منافع میں حصہ لینے کا حق دیا گیا ہے۔ ’بھارت ٹیکسی‘ زیرو کمیشن ماڈل پر کام کرتا ہے، جس کے تحت منافع براہ راست ڈرائیورز میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور یہ سرمایہ کاروں پر مبنی پلیٹ فارمز کے مقابلے میں ایک دیسی اور خود انحصار متبادل پیش کرتا ہے۔

اس پلیٹ فارم میں شفاف کرایہ نظام، آسان موبائل ایپ کے ذریعے بکنگ، حقیقی وقت میں گاڑیوں کی نگرانی، کثیر لسانی سہولت اور 24 گھنٹے صارفین کی مدد جیسی خصوصیات شامل ہیں، جو نہ صرف صارفین کے لئے سہولت فراہم کرتی ہیں بلکہ سارَتھیوں کو بھی امداد باہمی ملکیت میں مؤثر شرکت کا موقع دیتی ہیں۔

خواتین کے لئے روزگار کے مواقع بڑھانے اور خواتین مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ’سارَتھی دیدی‘ فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے خواتین ڈرائیورز کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ایس او ایس، لائیو لوکیشن ٹریکنگ اور 24 گھنٹے کسٹمر سپورٹ جیسے حفاظتی اقدامات بھی شامل ہیں۔

فی الحال ’بھارت ٹیکسی‘ کی خدمات دہلی این سی آر (دہلی، گروگرام، نوئیڈا، فرید آباد، غازی آباد) کے علاوہ گجرات کے احمد آباد، راجکوٹ، سومناتھ اور دوارکا میں دستیاب ہیں۔ آئندہ تین برسوں میں اس سروس کو مرحلہ وار ملک کے ٹئیر 2 اور ٹئیر 3 شہروں اور تحصیل سطح تک وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یکم مارچ 2026 تک ’بھارت ٹیکسی‘ کے 21.34 لاکھ رجسٹرڈ صارفین اور 2.31 لاکھ رجسٹرڈ سارَتھی موجود ہیں۔

ڈرائیوروں کی فلاح کے لئے پلیٹ فارم پر رضاکارانہ ٹِپنگ جیسے فیچرز متعارف کرانے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر برائے داخلہ و امداد باہمی جناب امت شاہ نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

************

ش ح ۔    ا م   ۔  م  ص

(U :4260    )


(ریلیز آئی ڈی: 2241449) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी