جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 محفوظ شدہ پانی کے دوبارہ استعمال کو فروغ، اتراکھنڈ میں پالیسی نافذ

 
شہری سطح پر عمل درآمد میں تیزی، صنعتی شعبے میں کامیاب استعمال ثابت

  

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 MAR 2026 4:06PM by PIB Delhi

ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور تازہ پانی کے وسائل پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر صاف شدہ پانی کے محفوظ دوبارہ استعمال (ایس آر ٹی ڈبلیو) کو قومی ترجیح کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ پانی کی بچت کو یقینی بنانے، دریاؤں میں آلودگی کے بوجھ کو کم کرنے اور شہری آبی انتظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے اس فریم ورک کو ریاستوں اور شہروں میں پائیدار ترقی اور ماحولیاتی توازن کی ایک اہم اصلاح کے طور پر ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے۔

اس شعبے کو مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل کی جانب سے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جو ایمپاورڈ ٹاسک فورس کی میٹنگوں میں اس معاملے کا باقاعدہ جائزہ لیتے رہے ہیں۔ وزارت جل شکتی نے ایک کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں قومی اور ریاستی سطح پر پالیسی ہم آہنگی، شہروں کے لئے ایکشن پلان کی تیاری اور بجلی، زراعت اور صنعتی شعبوں میں پانی کے دوبارہ استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔

ریاستی سطح پر پالیسی پیش رفت

ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومت اتراکھنڈ نے ایس آر ٹی ڈبلیو پالیسی کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت صاف شدہ گندے پانی کے دوبارہ استعمال کے لئے باقاعدہ ضابطہ جاتی ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت صنعتی عمل، تعمیراتی سرگرمیوں، پارکوں اور سبزہ زاروں کی آبپاشی، فلشنگ اور دیگر شہری مقاصد کے لئے صاف شدہ پانی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ اس میں متعلقہ محکموں، شہری بلدیاتی اداروں اور صنعتوں کے کردار اور ذمہ داریوں کو بھی واضح کیا گیا ہے تاکہ مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال میں بھی ایسی پالیسیوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

صنعتی شعبے میں کامیاب استعمال کی مثال

گندے پانی کے مؤثر علاج اور دوبارہ استعمال کی ایک نمایاں مثال کانپور کے بنگواں میں قائم 30 ایم ایل ڈی صلاحیت کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ہے، جو نمامی گنگا مشن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ یہ شہر کا پہلا جدید ہائبرڈ اینوئٹی ماڈل پر مبنی پلانٹ ہے، جو جون 2023 سے فعال ہے اور سیکوینشل بیچ ری ایکٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس کے ذریعے محدود جگہ میں خودکار نظام کے ساتھ مؤثر صفائی ممکن بنائی گئی ہے۔

یہ پلانٹ روزانہ تقریباً 30 ایم ایل ڈی گندے پانی کو صاف کرتا ہے اور معیارات کے مطابق صاف شدہ پانی کو پانڈو ندی میں چھوڑا جاتا ہے، جس سے دریائے گنگا پر آلودگی کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ مزید برآں، اس صاف شدہ پانی کو نچلے علاقوں میں پمپنگ کے ذریعے زراعت کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جو اسے ایک قیمتی وسیلہ ثابت کرتا ہے۔

اسی طرح بنگواں میں واقع پانکی تھرمل پاور پلانٹ روزانہ تقریباً 40 ایم ایل ڈی صاف شدہ پانی استعمال کر رہا ہے، جس سے تازہ پانی پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے اور صنعتی شعبے میں پانی کے دوبارہ استعمال کا ایک قابل تقلید ماڈل سامنے آیا ہے۔

 

 

 

 

ج

اسی نوعیت کے پانی کے دوبارہ استعمال کے طریقے ملک بھر میں دیگر بڑے صنعتی اور پاور یونٹس میں بھی اپنائے جا رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • جھارکھنڈ کا جوجوبیرا پاور پلانٹ – 4 ایم ایل ڈی
  • پراگتی پاور اسٹیشن-اوّل – 20 ایم ایل ڈی (ڈاکٹر سین نالہ سے)
  • پراگتی پاور اسٹیشن-سوم – 120 ایم ایل ڈی
  • آئی او سی ایل متھرا ریفائنری – 8 ایم ایل ڈی (ٹرانس یمنا پلانٹ سے)

شہری سطح کے ایکشن پلان سے عمل درآمد میں تیزی

پالیسی کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لئے تفصیلی شہری سطح کے دوبارہ استعمال ایکشن پلان (سی ایل آر اے پیز) تیار کئے جا رہے ہیں۔ آگرہ اور پریاگ راج کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ وارانسی کا منصوبہ آخری مرحلے میں ہے اور کانپور میں اس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ ایکشن پلان صاف شدہ پانی کی دستیابی، تقسیم کے نظام، استعمال کے مراکز کی نشاندہی، ادارہ جاتی تال میل اور نگرانی کے طریقہ کار پر مشتمل ایک جامع فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صاف شدہ پانی کے منظم اور محفوظ استعمال کو یقینی بنانا، تازہ پانی پر انحصار کم کرنا اور دریاؤں کی صحت کو بہتر بنانا ہے۔

پریاگ راج: چکروی آبی انتظام کی جانب پیش رفت

پریاگ راج میں تیزی سے شہری ترقی اور زیر زمین پانی کے زیادہ استعمال کے باعث بڑھتے آبی دباؤ سے نمٹنے کے لئے صاف شدہ استعمال شدہ پانی (ٹی یو ڈبلیو) کے دوبارہ استعمال کے لئے ایک منظم حکمت عملی نافذ کی جا رہی ہے۔

شہر میں اس وقت 10 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کام کر رہے ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 340 ایم ایل ڈی ہے، جو بڑھ کر 595 ایم ایل ڈی ہو جائے گی۔ تاہم فی الحال صاف شدہ پانی کا زیادہ تر حصہ دریاؤں میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کا دوبارہ استعمال محدود ہے۔

سی ایل آر اے پی کے تحت بجلی گھروں، ریلوے، زراعت اور شہری ہریالی جیسے شعبوں میں پانی کے دوبارہ استعمال کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اہم منصوبوں میں شامل ہیں:

  • نینی ایس ٹی پی سوم سے پریاگ راج پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ – 50 ایم ایل ڈی
  • نینی اوّل و دوم ایس ٹی پیز سے میجا اُرجا نگم پرائیویٹ لمیٹڈ – 72 ایم ایل ڈی
  • راجا پور ایس ٹی پی سے پریاگ راج جنکشن – 3.32 ایم ایل ڈی
  • کودرا ایس ٹی پی سے صوبیدار گنج ریلوے اسٹیشن – 1.13 ایم ایل ڈی

یہ تمام منصوبے مجموعی طور پر 126.45 ایم ایل ڈی پانی کے دوبارہ استعمال کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن پر تقریباً 1,625 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے۔

 

 

 

 

 

اس منصوبے پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا، جس کے لئے ایک خصوصی شہری سطح کا ری یوز سیل (سی ایل آر سی) قائم کیا جائے گا، جو تال میل، نگرانی اور مالی معاونت کو یقینی بنائے گا۔ اس منصوبے میں پالیسی اصلاحات، ٹیرف ڈھانچے اور جوابدہی کے نظام پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر پانی کے دوبارہ استعمال کو ممکن بنایا جا سکے۔

آگرہ: یمنا اور زیرِ زمین پانی پر دباؤ میں کمی

آگرہ، جہاں یمنا ندی میں آلودگی اور پانی کی شدید قلت جیسے مسائل درپیش ہیں، اپنے ری یوز ایکشن پلان کے تحت چکروی آبی معیشت کے ماڈل کو اختیار کر رہا ہے۔

شہر میں روزانہ 286 ایم ایل ڈی سیوریج پیدا ہوتا ہے، جس میں سے تقریباً 21 فیصد اب بھی بغیر صفائی کے رہ جاتا ہے۔ موجودہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی صلاحیت 221 ایم ایل ڈی ہے، جسے بڑھا کر 398 ایم ایل ڈی کیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت اہم ری یوز پروجیکٹس کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں شامل ہیں:

  • دھندھوپورا ایس ٹی پی سے آگرہ کینٹ، آگرہ فورٹ اور ادگاہ ریلوے اسٹیشن – 5 ایم ایل ڈی
  • جگن پور ایس ٹی پی سے میڈیکل کالج میٹرو کوریڈور – 2 ایم ایل ڈی
  • بچھپوری ایس ٹی پی سے کیتھم جھیل – 21 ایم ایل ڈی

یہ منصوبے مجموعی طور پر 28 ایم ایل ڈی پانی کے دوبارہ استعمال کی صلاحیت کو عملی شکل دیں گے، جن پر تقریباً 93 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے۔

 

 

 

 

 

اس منصوبے میں ادارہ جاتی مضبوطی، نگرانی کے مؤثر نظام، ٹیرف ڈھانچے اور ڈیجیٹل رپورٹنگ کے طریقہ کار کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پانی کی بچت کی جانب ایک انقلابی قدم

صاف شدہ پانی کے محفوظ دوبارہ استعمال (ایس آر ٹی ڈبلیو) کا اقدام گندے پانی کے محض اخراج سے وسائل کی بازیافت کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ صاف شدہ پانی کے منظم اور محفوظ استعمال کو فروغ دے کر یہ ماحولیاتی دباؤ کو کم کرتا ہے، تازہ پانی کے وسائل کا تحفظ کرتا ہے اور طویل مدتی پائیداری کو تقویت دیتا ہے۔

پالیسی، شہری منصوبہ بندی اور عملی سطح پر ہونے والی پیش رفت — جسے صنعتی شعبے میں کامیاب استعمال کی مثالوں کی حمایت حاصل ہے — ایک مضبوط اور چکروی آبی انتظامی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں ایس آر ٹی ڈبلیو ملک کے آبی مسائل، خاص طور پر گنگا طاس اور دیگر پانی کی قلت والے علاقوں میں، ایک مؤثر اور قابلِ تقلید ماڈل کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

************

ش ح ۔   ام     ۔  م  ص

(U :  4256  )


(ریلیز آئی ڈی: 2241445) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी