|
پنچایتی راج کی وزارت
او ایس آر کی صورتحال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 3:10PM by PIB Delhi
وزارتِ پنچایتی راج نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ احمد آباد کے اشتراک سے پنچایتوں کی اپنی آمدنی (او ایس آر) پیدا کرنے سے متعلق خصوصی تربیتی ماڈیول تیار کیے ہیں۔ ان ماڈیولز کی بنیاد پر 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 170 اسٹیٹ لیول ماسٹر ٹرینرز (ایس ایل ایم ٹیز) کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ احمد آباد کی ٹیم نے تربیت دی ہے۔ ان ٹرینرز نے ریاستی اور ضلعی سطح پر 2,39,943 شرکاء کو تربیت فراہم کی ہے۔ مزید برآں، وزارتِ پنچایتی راج نے پنچایتوں کی اپنی آمدنی میں اضافے سے متعلق چیلنجز کی نشاندہی کے لئے مطالعات بھی کئے ہیں، جن کی رپورٹیں ریاستوں کے ساتھ عمل درآمد کے لئے شیئر کی گئی ہیں۔ وزارت نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے جو پنچایتوں کی اپنی آمدنی کے لئے ماڈل قواعد تیار کر رہی ہے، تاکہ ریاستوں کو اپنے قواعد و ضوابط بنانے یا ان میں ترمیم کے لئے رہنمائی مل سکے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران صلاحیت سازی کے پروگراموں کے تحت تربیت یافتہ منتخب نمائندوں کی ریاست وار تعداد ضمیمہ میں دی گئی ہے، جبکہ پنچایت وار تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
وزارتِ پنچایتی راج نے پنچایتوں کی اپنی آمدنی کے حصول کو ڈیجیٹل بنانے کے لئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے “سمرتھ پنچایت پورٹل” تیار کیا ہے، جو ایک مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے ٹیکس اور غیر ٹیکس مطالبات کی تیاری، ٹیکس رجسٹروں کی دیکھ بھال، ادائیگی گیٹ وے کے ذریعے آن لائن ادائیگی اور آمدنی کی آن لائن نگرانی ممکن ہو گئی ہے۔ اس ڈیجیٹل نظام کا مقصد مقامی مالیاتی انتظام میں شفافیت، کارکردگی اور وسعت پیدا کرنا ہے۔ فی الحال یہ پورٹل ملک بھر میں گرام پنچایت سطح پر حاصل ہونے والی مختلف اقسام کی ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی کو ریکارڈ کرنے کے لئے اپنایا جا رہا ہے، تاہم پنچایتوں کی مجموعی آمدنی اور اس میں اضافے کے فیصد سے متعلق اعداد و شمار مرکزی سطح پر محفوظ نہیں کیے جاتے۔
وزارتِ پنچایتی راج نے پنچایتوں کی مجموعی ترقی اور کارکردگی کے جائزے کے لئے پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس (پی اے آئی) پورٹل بھی تیار کیا ہے۔ اس میں پائیدار ترقی کے مقامی اہداف کے تحت سماجی و معاشی اشاریوں کا استعمال کرتے ہوئے کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور ترقی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ پی اے آئی اسکور مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تقابلی تصویر پیش کرتے ہیں، جو کم کارکردگی دکھانے والے علاقوں کے لئے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی تحریک کا ذریعہ بنتے ہیں۔
Annexure
The number of elected representatives trained under capacity-building programmes during the last three years
|
S.No.
|
States/UT
|
Total Participants Trained
|
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
|
1
|
Andaman And Nicobar Islands
|
1,874
|
2,865
|
5,221
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
6,49,156
|
1,65,001
|
3,25,643
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
3,711
|
6,138
|
12,344
|
|
4
|
Assam
|
2,27,733
|
3,48,183
|
1,44,936
|
|
5
|
Bihar
|
4,04,406
|
1,63,809
|
4,35,896
|
|
6
|
Chhattisgarh
|
1,21,099
|
1,63,292
|
90,559
|
|
7
|
Goa
|
1,777
|
3,548
|
4,519
|
|
8
|
Gujarat
|
250
|
1,938
|
90,368
|
|
9
|
Haryana
|
4,859
|
12,431
|
11,909
|
|
10
|
Himachal Pradesh
|
9,531
|
92,458
|
1,20,455
|
|
11
|
Jammu And Kashmir
|
2,84,138
|
3,50,026
|
82,534
|
|
12
|
Jharkhand
|
8,302
|
54,056
|
1,35,817
|
|
13
|
Karnataka
|
2,13,467
|
3,63,317
|
3,21,380
|
|
14
|
Kerala
|
1,79,478
|
1,49,153
|
1,29,632
|
|
15
|
Ladakh
|
0
|
0
|
26
|
|
16
|
Madhya Pradesh
|
2,81,610
|
86,884
|
2,42,279
|
|
17
|
Maharashtra
|
10,41,165
|
9,84,321
|
3,63,111
|
|
18
|
Manipur
|
894
|
5,591
|
195
|
|
19
|
Meghalaya
|
11,588
|
74,410
|
78,537
|
|
20
|
Mizoram
|
2,659
|
9,800
|
9,841
|
|
21
|
Nagaland
|
1,832
|
3,435
|
4,725
|
|
22
|
CENTER (NIRDPR/MOPR/IIMs)
|
5,229
|
1,438
|
1,941
|
|
23
|
Odisha
|
79,116
|
1,60,774
|
2,79,505
|
|
24
|
Puducherry
|
0
|
0
|
0
|
|
25
|
Punjab
|
36,378
|
13,359
|
1,22,848
|
|
26
|
Rajasthan
|
2,481
|
96,389
|
71,795
|
|
27
|
Sikkim
|
13,552
|
11,249
|
6,709
|
|
28
|
Tamil Nadu
|
1,06,560
|
1,01,513
|
78,490
|
|
29
|
Telangana
|
14,506
|
2,441
|
1,701
|
|
30
|
The Dadra and Nagar Haveli and Daman And Diu
|
575
|
1,000
|
1,073
|
|
31
|
Tripura
|
7,743
|
63,715
|
54,228
|
|
32
|
Uttar Pradesh
|
48,241
|
1,44,374
|
76,302
|
|
33
|
Uttarakhand
|
2,63,409
|
82,712
|
22,342
|
|
34
|
West Bengal
|
1,74,974
|
2,72,762
|
2,28,081
|
|
|
TOTAL
|
42,02,293
|
39,92,382
|
35,54,942
|
یہ معلومات مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے 17 مارچ 2026 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
************
ش ح ۔ ا م ۔ م ص
(U :4254 )
(ریلیز آئی ڈی: 2241441)
|