خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
سی اے آر اے نے بھوپال میں وسطی علاقے کے لیے اپنی تیسری علاقائی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا
یہ ورکشاپ سی اے آر اے کی ملک گیر گود لینے سے متعلق آگاہی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد معذور بچوں کی غیر ادارہ جاتی بحالی کو فروغ دینا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 3:24PM by PIB Delhi
سنٹرل ایڈپشن ریسورس اتھارٹی (سی اے آراے)، وزارت برائے خواتین اور بچوں کی ترقی، حکومت ہند نے، 17 مارچ 2026 کو مدھیہ پردیش میں مرکزی علاقہ کے لیے اپنی تیسری علاقائی مشاورتی ورکشاپ کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا۔ ورکشاپ کا انعقاد روندر بھون، بھوپال میں حکومت مدھیہ پردیش اور ریاستی وسائل کی ایجنسی (ایڈپشن ایس اے آر اے) کے اشتراک سے کیا گیا۔
حکومت مدھیہ پردیش کی خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر محترمہ نرملا بھوریا اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور خصوصی ضروریات والے بچوں کو خاندانی بنیاد پر دیکھ بھال فراہم کرنے میں زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت کی حوصلہ افزائی کی۔
یہ ورکشاپ سی اے آر اے کی ملک گیر گود لینے سے متعلق آگاہی مہم کا حصہ تھی، جس کا عنوان تھا‘‘خصوصی ضروریات والے بچوں (دیویانگ بچوں)کی غیر ادارہ جاتی بحالی کو فروغ دینا ’’۔ اس کا مقصد گود لینے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بچے طویل مدتی ادارہ جاتی نگہداشت کے بجائے معاون خاندانی ماحول میں پروان چڑھیں۔
مدھیہ پردیش، اتر پردیش، چھتیس گڑھ اور اتراکھنڈ پر مشتمل مرکزی خطہ ملک کے کسی بھی دوسرے خطہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضلاع رکھتا ہے۔ اس وسعت کی عکاسی کرتے ہوئے، ورکشاپ میں 170 سے زائد اضلاع سے تقریباً 200 شرکاء نے شرکت کی، جو اسے خطے میں گود لینے اور بچوں کی بحالی پر بات چیت اور ہم آہنگی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بنا۔
ورکشاپ میں اسٹیٹ ایڈپشن ریسورس ایجنسیز (ایس اے آر ایس ایس)، اسپیشل ایڈپشن ایجنسیز ( ایس اے اے ایس)، چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشنز (سی سی آئی ایس)، ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (ڈی سی پی یو ایس)، طبی پیشہ ور افراد، چیف میڈیکل آفیسرز (سی ایم او ایس)، اور چائلڈ پروٹیکشن ماہرین نے شرکت کی، جنہوں نے بچوں کو گود لینے کے عمل کو مضبوط بنانے اور نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت میں حصہ لیا۔
ورکشاپ کے دوران، بات چیت میں مختلف ریاستوں میں خصوصی ضروریات والے بچوں کو گود لینے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ، کامیاب کیس اسٹڈیز کا اشتراک، طبی تشخیص اور قانونی عمل میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور بچوں کے تحفظ اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے درمیان بہتر تال میل کے لیے عملی حل کی نشاندہی کرنا شامل تھا۔ شرکاء نے معذور بچوں کو گود لینے کے لیے خاندانوں تک رسائی بڑھانے اور ان کی تیزی سے بحالی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی سفارشات تیار کرنے کے لیے گروپ مباحثوں میں بھی حصہ لیا۔
ورکشاپ کے دوران خصوصی ضروریات والے بچے کو کامیاب گود لینے کی عکاسی کرنے والی ایک مختصر فلم بھی ریلیز کی گئی، جس میں خاندان کی بنیاد پر دیکھ بھال کے مثبت اثرات اور گود لینے کے فروغ میں بیداری اور کمیونٹی کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
*****
ش ح – ظ الف –ن ع
UR No. 4242
(ریلیز آئی ڈی: 2241319)
وزیٹر کاؤنٹر : 17