وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ماہی گیر برادری کے لیے قومی مربوط پالیسی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 MAR 2026 3:22PM by PIB Delhi

محکمہ ماہی پروری، وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری، حکومتِ ہند کی ایک اہم اسکیم “پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی )نافذ کر رہا ہے، جس کا مقصد ماہی گیری کے شعبے کی پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کے ذریعے بلیو ریولوشن لانا اور ملک میں ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 20,750 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔اس اسکیم میں ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے مختلف فلاحی اقدامات شامل ہیں، جن میں (i) گروپ حادثاتی انشورنس کوریج  ،موت یا مکمل مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے، جزوی مستقل معذوری پر 2.5 لاکھ روپے، اور حادثاتی ہسپتال میں داخلے پر 25,000 روپے اور (ii) سماجی و معاشی طور پر پسماندہ روایتی ماہی گیر خاندانوں کے لیے ماہی گیری پر پابندی یا کم سرگرمی کے دوران روزگار اور غذائی مدد، جس کے تحت ہر ماہی گیر کو 3,000 روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، حکومتِ ہند نے 2019 سے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی ) کی سہولت بھی فراہم کی ہے تاکہ وہ اپنی ورکنگ کیپیٹل ضروریات پوری کر سکیں۔ ماہی گیری کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2018-19 میں فشریز اینڈ ایکواکلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ(ایف آئی ڈی اے)قائم کیا گیا، جس کا کل حجم 7,522.48 کروڑ روپے ہے۔اگرچہ گزشتہ پانچ برسوں میں ماہی گیروں کی اوسط آمدنی کا کوئی مخصوص سروے نہیں کیا گیا، تاہم حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے مچھلی کی پیداوار، پیداواری صلاحیت اور معیار میں اضافہ کیا ہے، جس سے صارفین کی طلب پوری کرنے اور برآمدات بڑھانے میں مدد ملی ہے، اور نتیجتاً ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ پانچ برسوں (2020-21 سے 2024-25) کے دوران مچھلی کی پیداوار 2019-20 کے 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی ہے۔ اسی طرح سی فوڈ برآمدات بھی 2019-20 کے 46,666 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 62,408 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔

(د): پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی ) کے تحت دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ تربیت، مہارت کی ترقی، مہارت میں بہتری اور صلاحیت سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تربیتی پروگرام، آگاہی مہمات اور مطالعاتی دوروں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن سے ماہی گیر، مچھلی پالنے والے، ماہی گیری سے وابستہ کارکنان، مچھلی فروش، صنعت کار، افسران، ماہی گیری کوآپریٹو سوسائٹیز اور ایف ایف پی اوز کے اراکین مستفید ہوتے ہیں۔

اس جزو کے تحت سمندری ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں ماہی گیری اور کشتی پر مچھلی کو سنبھالنے کے حوالے سے خصوصی تربیت سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز ناٹیکل اینڈ انجینئرنگ ٹریننگ(سی آئی ایف این ای ٹی) کے ذریعے دی جاتی ہے۔ ان پروگراموں کے تحت اب تک مجموعی طور پر 8,040 ماہی گیروں کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے، جس سے گہرے سمندر میں ماہی گیری کے شعبے میں بھارت کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

محکمہ ماہی پروری کے تحت فشری سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) بھی جامع تربیتی اور صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کرتا ہے تاکہ گہرے سمندر میں ماہی گیری کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کو فروغ دیا جا سکے، خاص طور پر ٹونا کی لانگ لائننگ اور سشیمی معیار کی ٹونا کو سنبھالنے پر توجہ کے ساتھ۔ ایف ایس آئی مونوفلامنٹ لانگ لائن آپریشنز (جال ڈالنے اور نکالنے)، آلات کی ترتیب اور مؤثر ڈیک مینجمنٹ کی عملی تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز پوسٹ ہارویسٹ ٹیکنالوجی اینڈ ٹریننگ (این آئی ایف پی ایچ اے ٹی ٹی )بھی بعد از برداشت مچھلی کے بہترین استعمال اور کھپت سے متعلق تربیت فراہم کرتا ہے، تاکہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور اعلیٰ معیار کی مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات صارفین تک پہنچائی جا سکیں۔

(ہ): محکمہ ماہی پروری، حکومتِ ہند، ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی )فروغ دینے کے لیے فعال طور پر کام کر رہا ہے، خصوصاً جب سے اس اسکیم کو ماہی گیری کے شعبے تک توسیع دی گئی ہے۔ کے سی سی کے تحت مکمل کوریج کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے فیلڈ افسران، اہلکاروں اور مقامی وسائل سے وابستہ افراد کو نامزد کیا ہے، جن میں ریاستی محکمہ ماہی پروری اور ماہی گیری کوآپریٹو ادارے شامل ہیں۔ یہ افراد مستحق ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی نشاندہی، دستاویزی کارروائی اور قرض کے حصول میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

ریاستوں اور یوٹیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کے سی سی کی پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی کریں، بینکوں کے ساتھ رابطہ رکھ کر مسائل حل کریں اور اہل مستفیدین کو جلد از جلد کے سی سی کی منظوری کو یقینی بنائیں۔

تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کے سی سی مہم کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ محکمہ ماہی پروری ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے خصوصی مہمات، بیداری پروگرام اور انفرادی و اجتماعی توسیعی سرگرمیوں جیسے پمفلٹس کی تقسیم، مقامی زبانوں میں آگاہی مہمات، اخباری مضامین، اشتہارات اور دیگر ذرائع کے ذریعے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

***

ش ح۔ م م ۔ م ذ

(U N.4230)                                    


(ریلیز آئی ڈی: 2241310) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी