بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سبانسیری لوئر ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں پیش رفت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAR 2026 4:41PM by PIB Delhi

توانائی کی وزارت میں ریاستی وزیر جناب پد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ سبانسیری لوئر ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ(ایچ ای پی) جو اروناچل پردیش اور آسام کی سرحد پر دریائے سبانسری پر واقع ہے۔ جس کی کل نصب صلاحیت 2000 میگاواٹ ہے (ہر ایک کے 250 میگاواٹ کے آٹھ یونٹ)این ایچ پی سی لمیٹڈ کے ذریعہ نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس  کےآٹھ یونٹس میں سے دو یونٹ شروع ہو چکے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے والوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ بقیہ یونٹس کو مرحلہ وار 26 دسمبر تک شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے سالانہ تقریباً 7,422 ملین یونٹ(ایم یو)بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس طرح یہ ملک کی قابل تجدید توانائی کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس پروجیکٹ کا تصور بھی برہم پتر وادی میں سیلاب کے اعتدال کے فوائد فراہم کرنے کے علاوہ وقفے وقفے سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے شمسی اور ہوا کی توانائی میں توازن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی گرڈ کو چوٹی کی طاقت فراہم کرکے گرڈ کے استحکام میں مدد فراہم کرنے کا بھی ہے۔

سبانسیری لوئر ایچ ای پی کو متعلقہ حکام کے ذریعہ ماحولیات اور جنگلات سے متعلق قانونی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ این ایچ پی سی لمیٹڈ کی طرف سے پروجیکٹ کے بہاو میں دریا کے کنارے کے تحفظ اور کٹاؤ پر قابو پانے کے اقدامات لاگو کیے گئے ہیں۔ مزید نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی(این ڈی ایس اے) کی رہنمائی اور سفارشات کے تحت ڈیم سیفٹی ایکٹ2021 کی دفعات کے مطابق ڈیم کی حفاظت کے پہلوؤں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

این ایچ پی سی لمیٹڈ کی جانب سے مقامی کمیونٹیز اور پروجیکٹ کے اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ تعمیراتی مرحلے کے دوران تقریباً 7000 مقامی کارکنوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔این ایچ پی سی لمیٹڈ مقامی کمیونٹیز کے فائدے کے لیے تعلیم، مہارت کی ترقی، صحت، صفائی اور دیہی ترقی جیسے شعبوں میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری(سی ایس آر)کے اقدامات کو بھی نافذ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ این ایچ پی سی نے ذریعۂ معاش کے مختلف پروگراموں کو نافذ کیا ہے۔ جس سے تقریباً 5,000 خواتین مستفید ہوئی ہیں۔ اس منصوبے نے سڑکوں اور پلوں سمیت مقامی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون کیا ہے۔ اس طرح قریبی دیہاتوں سے رابطے میں بھی بہتری آئی ہے۔

*****

ش ح۔ م ح ۔ ن ع

U. No-4159


(ریلیز آئی ڈی: 2240793) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी