ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت نے حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کو ساتویں قومی رپورٹ پیش کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 MAR 2026 1:46PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی )  نے حیاتیاتی تنوع کے کنونشن(سی بی ڈی) کو بھارت کی ساتویں قومی رپورٹ (این آر-7)  جمع کرا دی ہے، جس کے ذریعے کنونشن کے تین بنیادی مقاصد کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا گیا ہے: حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، اس کے اجزاء کا پائیدار استعمال اور جینیاتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم۔

قومی رپورٹس جمع کرانا، حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن (سی بی ڈی) کے رکن ممالک کے لیے ایک لازمی ذمہ داری ہے۔ ایک ذمہ دار ملک کے طور پر بھارت نے مسلسل اپنے بین الاقوامی وعدوں کا احترام کیا ہے اور آرٹیکل26 کے تحت درکار تمام سابقہ قومی رپورٹس بروقت سی بی ڈی کو جمع کرائی ہیں۔ کانفرنس آف پارٹیز (سی او پی)  کے فیصلہ6/15کے مطابق بھارت نے اپنی ساتویں قومی رپورٹ (این آر -7)  26فروری 2026 کو جمع کرائی، جو کہ مقررہ آخری تاریخ 28 فروری 2026 سے پہلے تھی۔

این آر–7 میں ایک جامع، اشاریہ جاتی قومی جائزہ پیش کیا گیا ہے جو بھارت کی تازہ  ترین قومی حیاتیاتی تنوع سے متعلق حکمت عملی اور عملی منصوبہ ( این بی ایس اے پی 2030-2024) اور کنمنگ–مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک ( کےایم جی بی ایف) کے مطابق ہے۔ یہ رپورٹ 142 قومی اشاریوں پر مبنی ہے جو 23 قومی حیاتیاتی تنوع اہداف (این بی ٹیز)  کے ساتھ مربوط کیے گئے ہیں۔ اس جائزے میں 33 مرکزی وزارتوں/محکموں، ریاستی حکومتوں، قانونی اداروں، تحقیقی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کی مشترکہ شراکت شامل ہے۔

بھارت کی این آر–7 رپورٹ کے مطابق تمام 23 قومی حیاتیاتی تنوع اہداف (این بی ٹیز) اس وقت “حاصل ہونے کی راہ پر گامزن” ہیں، جو قومی ترجیحات اور عالمی حیاتیاتی تنوع کے وعدوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں “مکمل حکومت” اور “مکمل معاشرے” کے نقطۂ نظر پر زور دیا گیا ہے، جو بھارت کی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی کوششوں میں طویل عرصے سے اپنائے جانے والے طریقہ کار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں33 مرکزی وزارتوں اور محکموں کی شمولیت کو نمایاں کیا گیا ہے، جنہوں نے بنیادی ڈھانچے، زراعت، جنگلات اور ساحلی شعبوں کی پالیسیوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو شامل کیا ہے۔

بھارت نے حیاتیاتی تنوع کو شامل کرتے ہوئے زمینی اور سمندری مناظر کی منصوبہ بندی کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔ ریکارڈ شدہ جنگلاتی رقبہ 7,75,377 مربع کلومیٹر ہے جو ملک کے کل جغرافیائی رقبے کا 23.59 فیصد بنتا ہے، جس میں سے 5,20,365 مربع کلومیٹر (15.83 فیصد) حقیقی جنگلاتی رقبے پر مشتمل ہے۔کل جنگلات اور درختوں کا احاطہ بڑھ کر 8,27,356.95 مربع کلومیٹر (25.17 فیصد) تک پہنچ گیا ہے، جو مسلسل اور مربوط علاقائی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔بین الاقوامی اہمیت کے حامل رامسر ویٹ لینڈز (دلدلی علاقوں) کی تعداد 2014 میں 26 سے بڑھ کر 2026 تک 98 ہو گئی ہے۔

بھارت کا تحفظاتی نیٹ ورک اب 58 ٹائیگر ریزروز، 33 ہاتھی ریزروز، 18 بایوسفئیر ریزروز، 106 قومی پارکس اور 574 جنگلی حیات کی پناہ گاہوں پر مشتمل ہے۔بھارت میں3,682 شیر پائے جاتے ہیں جو دنیا کی مجموعی شیروں کی آبادی کا 70 فیصد سے زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ 4,014 بڑے سینگ والے گینڈے،22,446 جنگلی ہاتھی،891 ایشیائی شیر اور پہلی سنو لیپرڈ آبادی کے جائزے (ایس ایل پی اے آئی)  کے مطابق تقریباً718 برفانی تیندوے موجود ہیں۔پروجیکٹ ڈولفن کے تحت ملک میں پہلی بار دریائی ڈولفن کی آبادی کا تخمینہ مکمل کیا گیا اور اس کی رپورٹ جاری کی گئی، جس کے مطابق بھارت میں6,327 دریائی ڈولفن موجود ہیں۔

بھارت نے 22 زرعی حیاتیاتی تنوع کے اہم مقامات  کی نشاندہی کی ہے اور تنوع، انفرادیت اور زرعی ورثے کی بنیاد پر 171 مقامی فصلوں کے ساتھ جڑے 769 جنگلی اقسامِ فصل  اور 230 مقامی جانوروں کی نسلوں کے تحفظ کو ترجیح دی ہے۔

بھارت کی قومی حیاتیاتی تنوع سے متعلق اتھارٹی نے 5,600 سے زیادہ اے بی ایس معاہدے جاری کیے ہیں جن کے تحت 140 کروڑ بھارتی روپے تقسیم کیے گئے۔ اس کے علاوہ 2,76,653 بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیاں (بی ایم سیز)  اور 2,72,648 پیپلز بایو ڈائیورسٹی رجسٹرز (پی بی آر) مقامی کمیونٹیز اور روایتی علم کو شامل کرتے ہوئے حیاتیاتی تنوع کے موافق طریقوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران بھارت نے فضائی، آبی اور شور کی نگرانی اور آلودگی کے کنٹرول کے لیے مطلوبہ ادارہ جاتی فریم ورک تیار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ضروری بنیادی ڈھانچہ، معیاری نگرانی کے طریقۂ کار اور مناسب قانونی معاونت بھی قائم کی گئی ہے۔

ملک کے محفوظ علاقوں کو نمایاں قومی قوانین کے تحت مطلوبہ قانونی تحفظ حاصل ہے، جن میں انڈین فاریسٹ ایکٹ 1927، وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ 1972، ماحولیات (تحفظ) ایکٹ 1986، حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 اور ون پنچایت ایکٹ 1931 شامل ہیں۔بھارت کی تحفظاتی حکمتِ عملی میں قدرتی ماحول میں تحفظ اور قدرتی ماحول سے باہر تحفظ دونوں اقدامات شامل ہیں، جن میں رہائش گاہوں کی بحالی اور انواع کی بحالی کے پروگرام شامل ہیں، تاکہ قدرتی ماحولیاتی نظام اور زرعی حیاتیاتی تنوع دونوں کا پائیدار انتظام یقینی بنایا جا سکے۔بھارت جنگلاتی وسائل، آزاد گھومنے والی انواع اور جینیاتی وسائل کے تحفظ و نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجیز استعمال کر رہا ہے، جن میں ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) ، سیٹلائٹ ٹیلی میٹری، بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں(یو اے وی) ، کیمرہ ٹریپس اور ڈی این اے پر مبنی آلات شامل ہیں۔

‘ڈیجیٹل انڈیا’ کے تحت اور کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی کے جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (ایم او ای ایف سی سی ) نے ایک سنگل ونڈو پلیٹ فارم تیار کیا ہے  جسے پریویش (انٹرایکٹو ، ورچوئل اور انوائرمنٹل سنگل ونڈو ہب کے ذریعے فعال اور ذمہ دار سہولت) کے نام سے جاناجاتا ہےجو شفافیت اور کام کی آسانی کو یقینی بناتا ہے۔بھارت کی این آر–7 میں شہریوں کی شراکت کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن میں ’مشن لائف‘ (ماحولیات کے لیے طرز زندگی) کے تحت کی جانے والی سرگرمیاں اور ‘ایک پیڑ ماں کے نام’ جیسے اقدامات شامل ہیں۔

بھارت کی ساتویں قومی رپورٹ (این آر-7)  ایک مضبوط، اشاریہ پر مبنی قومی جائزہ پیش کرتی ہے، جو حفاظت، بحالی، پائیدار استعمال، حکمرانی میں اصلاحات، ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی کی شمولیت میں قابلِ پیمائش پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔یہ رپورٹ بھارت کی حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے مقاصد کے حصول اور کنمنگ–مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع سے متعلق فریم ورک کے تحت 2030 تک عالمی حیاتیاتی تنوع کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط عزم کو ازسر نو واضح کرتی ہے۔

مکمل رپورٹ سی بی ڈی کلیرنگ ہاؤس میکنزم (سی ایچ ایم) پر دستیاب ہے:

https://ort.cbd.int/national-reports/nr7/359D8BAC-9FD6-0ACE-BB25-309292A6A97D

****

ش ح۔ ع ح۔  ش ت  

U NO:-4119


(ریلیز آئی ڈی: 2240593) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada