سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر کے کٹھوعہ قصبہ میں 600 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والی ایک کثیر قومی کمپنی کے فارما مینوفیکچرنگ یونٹ کا سنگِ بنیاد رکھا
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بڑھتے ہوئے صنعتی بنیادی ڈھانچے کے ساتھ کٹھوعہ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو ہندوستان کی دوا سازی کی برآمدات کے نقشے پر نمایاں مقام دلائے
انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور نئے مواقع کی بدولت جموں و کشمیر ہندوستان کی ترقی کی داستان میں ایک رہنما کردار ادا کر رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2026 5:56PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج ضلع کٹھوعہ کے گاؤں گڈادھر میں ایک بڑی کثیر القومی کمپنی کے دوا سازی کے پیداواری مرکز کا سنگِ بنیاد رکھا۔
یہ منصوبہ تقریباً 600 سے 700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے قائم کیا جا رہا ہے۔ اسے آرکڈ فارما کے ذریعے قائم کیا جا رہا ہے، جس میں حکومتِ ہند کے محکمۂ بایوٹیکنالوجی کے تحت کام کرنے والی تنظیم بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) کی جانب سے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومتِ ہند کی پیداوار سے متعلق مراعاتی اسکیم کے تحت تقریباً 600 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری جموں و کشمیر خطے کی صنعتی اور اختراعی صلاحیتوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے تقریباً 400 افراد کو براہِ راست روزگار حاصل ہوگا، جبکہ سپلائرز، لاجسٹکس فراہم کنندگان اور دیگر متعلقہ شعبوں میں اسی کے برابر بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ اپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی صنعتی بنیادی ڈھانچے کی بدولت کٹھوعہ میں بھارت کے فارماسیوٹیکل برآمداتی نقشے پر ایک اہم دوا سازی کے پیداواری مرکز کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس منصوبے کو خطے کے دوا سازی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سہولت میں اہم اینٹی بایوٹک درمیانی مادہ امینو سیفالوسپورانک ایسڈ (اے سی اے) تیار کیا جائے گا، جو سیفالوسپورن اینٹی بایوٹکس کی تیاری میں بنیادی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت بھارت اس درمیانی مادے کی فراہمی کے لیے تقریباً مکمل طور پر چین سے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جس سے رسد کے تحفظ، قیمتوں کے استحکام اور صحت کی خدمات تک رسائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ کٹھوعہ میں قائم ہونے والی یہ سہولت بھارت کی دوا سازی کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو نمایاں طور پر مضبوط بنائے گی اور اہم درمیانی اجزاء کی درآمدات پر انحصار کو کم کرے گی۔ انہوں نے کہا: ’’اینٹی بایوٹکس جدید طبی نظام کی بنیاد ہیں اور وبا نے یہ واضح کر دیا کہ ضروری اجزاء کے لیے کسی ایک خطے پر انحصار کس طرح تیزی سے قومی کمزوری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔‘‘
وسیع تر پالیسی ویژن کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اقدام وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے اس ویژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بھارت کو صحت عامہ کی اہم ٹیکنالوجیوں اور دوا سازی کی سپلائی چین میں خود کفیل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی بجٹ میں اعلان کردہ 10,000 کروڑ روپے کے ’’بایوفارما شکتی‘‘ اقدام کا بھی حوالہ دیا، جس کا مقصد بھارت کے بایوٹیکنالوجی اور بایوفارماسیوٹیکل نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
وزیر نے کہا کہ بھارت عالمی بایوٹیکنالوجی اور دوا سازی کے شعبے میں تیزی سے ایک اہم طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس وقت ایشیا پیسیفک خطے میں بایو مینوفیکچرنگ کے میدان میں بھارت تیسرے اور عالمی سطح پر تیسویں مقام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے جدید دوا سازی کے پیداواری مراکز کے قیام سے کٹھوعہ کو بھارت کے فارماسیوٹیکل برآمداتی نقشے پر نمایاں مقام حاصل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ کٹھوعہ کا یہ منصوبہ دوا سازی کی قدر افزائی کی زنجیر (ویلیو چین) میں بھارت کے آگے بڑھنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس سے ضروری ادویات کے قابلِ اعتماد عالمی فراہم کنندہ کے طور پر ملک کا کردار مزید مضبوط ہوگا، بالخصوص ان ممالک کے لیے جو صحت سے متعلق ہنگامی حالات میں بھارت پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں جدید دوا سازی کے پیداواری مراکز کا قیام ایک نئے ترقیاتی نقطۂ نظر کی علامت ہے، جس کی بنیاد صلاحیت سازی، ہنر مندی کی ترقی اور طویل مدتی قدر کی تخلیق پر ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ صرف درآمدات کم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ان شعبوں میں اسٹریٹجک صلاحیت پیدا کرنے کا عمل ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے منصوبے علم پر مبنی صنعتوں کے ذریعے جموں و کشمیر جیسے خطوں کو قومی ترقی کی داستان کا حصہ بناتے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے نہ صرف بھارت کی دوا سازی کی پیداواری صلاحیت کو وسعت دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح کی رکاوٹوں کے دوران بھی ضروری ادویات کی دستیابی اور استطاعت کو یقینی بنا کر ملک کے صحت کے تحفظ کو مضبوط کرتے ہیں۔
محکمۂ بایوٹیکنالوجی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش گوکھلے نے کہا کہ بایو معیشت ملک کی سائنسی اور معاشی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کی رہنمائی میں چلنے والے بایو مینوفیکچرنگ اقدامات، جیسے کہ کٹھوعہ میں ابھرنے والی کوششیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت بایوٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ میں ایک مضبوط عالمی حریف بننے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔
اس موقع پر بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر جتیندر کمار، دھنوکا گروپ کے چیئرمین رام گوپال اگروال، آرکڈ بایوفارما کے منیجنگ ڈائریکٹر منیش دھنوکا اور کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنر راجیش شرما بھی موجود تھے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کٹھوعہ میں قائم کی جانے والی یہ سہولت آرکڈ بایو فارما کے ذریعے تیار کی جا رہی ہے۔ یہ کمپنی سیفالوسپورن اینٹی بایوٹکس کی دنیا کی بڑی ترین تیار کنندگان میں شمار ہوتی ہے اور 60 سے زائد ممالک میں کام کرتی ہے، جہاں وہ بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے 200 سے زیادہ عالمی صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔
تصویر: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ ہفتہ کے روز کٹھوعہ میں آرکڈ بایو فارما کے 600 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کیے جانے والے اینٹی بایوٹک سے متعلق اے سی اے-7 پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4077
(ریلیز آئی ڈی: 2240239)
وزیٹر کاؤنٹر : 14