بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
وزارتِ ایم ایس ایم ای نے 364 ایم ایس ای-سی ڈی پی پروجیکٹس مکمل کیے؛ ایس ایف یو آر ٹی آئی نے روایتی صنعتی کلسٹرز کو نئی تقویت دی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2026 4:26PM by PIB Delhi
ہندوستان کی حکومت کی چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کی وزارت کے مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز–کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایم ایس ای–سی ڈی پی) کے تحت مشترکہ سہولت مراکز (سی ایف سی) قائم کیے جاتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات (آئی ڈی پروجیکٹس) کی تخلیق یا جدید کاری کی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے موجودہ کلسٹرز میں مائیکرو اور چھوٹی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو بڑھانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 606 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 242 منصوبے جاری ہیں جبکہ 364 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔
روایتی صنعتوں کی بحالی کے فنڈ (ایس ایف یو آر ٹی آئی) کے تحت کلسٹر پر مبنی ترقی کو فروغ دینے، روایتی صنعتوں کو مضبوط بنانے اور دیہی روزگار میں اضافہ کرنے کی سمت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مالی سال 2015-16 سے اب تک ملک بھر میں 513 کلسٹرز کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کے لیے ہندوستان کی حکومت کی جانب سے 1,332.95 کروڑ روپے کی مالی معاونت منظور کی گئی ہے۔ ان کلسٹرز سے اندازاً 3.03 لاکھ روایتی کاریگروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جو دستکاری، ہینڈلوم، زرعی پروسیسنگ، کوائر، شہد اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ ہیں۔
منظور شدہ کلسٹرز میں سے 378 اس وقت فعال ہیں جبکہ 135 کلسٹرز مختلف مراحل میں زیرِ عمل ہیں۔ یہ اقدامات بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مہارت میں اضافہ، قدر میں اضافہ اور نچلی سطح پر مارکیٹ سے بہتر ربط قائم کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ایم ایس ای–سی ڈی پی کے تحت مشترکہ سہولت مراکز (سی ایف سی) کے قیام کے لیے جن اہم اجزاء اور شعبوں کو شامل کیا جا سکتا ہے ان میں انڈسٹری 4.0 اور اس سے متعلق تربیتی سہولیات، ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ سہولیات، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، ڈیزائن اور انکیوبیشن مراکز، تربیتی مراکز اور مہارت میں بہتری کی سہولیات، تحقیق و ترقی کے مراکز، مشترکہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار (شمسی، ہوا اور بایو) اور توانائی کے انتظام سے متعلق آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نئے کلسٹرز کے قیام کے لیے بھی سی ایف سی قائم کیے جا سکتے ہیں تاکہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے شعبے کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہو سکے۔
ایم ایس ای–سی ڈی پی ایک مطالبہ پر مبنی مرکزی شعبہ اسکیم ہے جس کے تحت ریاستی حکومتیں اپنی ریاستوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں موجود کلسٹرز کی مشترکہ ضروریات کے مطابق تجاویز بھیجتی ہیں۔
گزشتہ برسوں میں ملک کے صنعتی منظرنامے میں ڈیجیٹلائزیشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے شعبے میں کارکردگی، قدر کی تخلیق اور مسابقت میں بہتری آئی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں، ای کامرس لین دین، آئی او ٹی سے چلنے والے پیداواری آلات اور اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے شعبے میں ڈیجیٹل اپ گریڈیشن اور جدید ٹیکنالوجیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم جیسے ڈیجی لاکر اور انڈیا اے آئی ڈیٹاسیٹس پلیٹ فارم شامل ہیں، جن کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ایم ایس ایم ای کو زیادہ مضبوط، مسابقتی اور پائیدار بنانا ہے۔ اسی طرح محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن کے نیٹ ورک جیسے بھارت نیٹ اور پی ایم وانی سستی انٹرنیٹ رسائی اور آخری مرحلے تک رابطے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
وزارتِ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتیں (ایم ایس ایم ای) ادیم کے تحت ڈیجیٹل رجسٹریشن، ٹول رومز اور ٹیکنالوجی مراکز میں تربیت، ایم ایس ایم ای انوویٹو اسکیم کے ذریعے نئی اختراعات اور ٹیکنالوجیوں کی حوصلہ افزائی اور ایم ایس ای گرین انویسٹمنٹ فار فنانسنگ ٹرانسفارمیشن اسکیم کے ذریعے ماحول دوست ٹیکنالوجیوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے کر چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے ڈیجیٹل بااختیار بنانے میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ ان سرکاری اسکیموں کے ڈیزائن میں مالی مراعات، صلاحیت سازی اور بیداری کے اجزاء کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
وزارت نے ٹریڈ انیبلمنٹ اینڈ مارکیٹنگ (ٹیم) اسکیم بھی شروع کی ہے، جس کا مقصد مائیکرو اور چھوٹی صنعتوں کو اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) سے جوڑنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت سیلر نیٹ ورک کے شرکاء کو آن بورڈنگ، کیٹلاگنگ، اکاؤنٹ مینجمنٹ، لاجسٹکس، پیکجنگ میٹریل اور ڈیزائن کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان مستفید ہونے والی چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) میں سے نصف خواتین کی ملکیت والے ادارے ہوں گے۔
یہ معلومات چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کی وزیر مملکت سشری شوبھا کرندلاجے نے 12 مارچ 2026 کو لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے دی۔
********
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 4071 )
(ریلیز آئی ڈی: 2240199)
وزیٹر کاؤنٹر : 13