صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جے۔پی۔ نڈا نے تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کیا؛ گریجویٹ طلبا سے امرت کال کے دوران عزم کے ساتھ سماج کی خدمت کرنے کی اپیل
جناب نڈا نے کہا کہ امرت کال کے دوسرے مرحلے میں پیشہ ورانہ دنیا میں قدم رکھنے والے گریجویٹ طلبا کے پاس 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے لیے مواقع بھی ہیں اور ذمہ داریاں بھی
مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے صحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے، طبی تعلیم اور کم خرچ صحت خدمات تک رسائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی اور توسیع ہوئی ہے
انہوں نے کہا کہ مرکوز پالیسی اقدامات اور مضبوط صحت نظام کی بدولت بھارت کے عوامی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے
انہوں نے کہا کہ مرکوز پالیسی اقدامات اور مضبوط صحت نظام کی بدولت بھارت کے عوامی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے
انہوں نے کہا کہ مرکوز پالیسی اقدامات اور مضبوط صحت نظام کی بدولت بھارت کے عوامی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے
تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی کےجلسۂ تقسیم اسناد میں مجموعی طور پر 6,041 طلبا کو انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، ڈاکٹریٹ اور ڈپلومہ پروگراموں کی ڈگریاں فراہم کی گئیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2026 4:03PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جے۔پی۔ نڈا نے آج مرادآباد میں تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیمِ اسناد سے خطاب کیا۔ گریجویٹ طلبا کو مبارکباد دیتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ تقسیم ا سناد کی تقریب طلبا کی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل ہے جو برسوں کی محنت، استقامت، نظم و ضبط اور تعلیمی لگن کی عکاسی کرتی ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ جلسۂ تقسیم اسناد نہ صرف تعلیمی سفر کی تکمیل کی علامت ہے بلکہ ذمہ داری اور خدمت کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔ انہوں نے گریجویٹ طلبا کو ترغیب دی کہ وہ مضبوط اقدار کے ساتھ آگے بڑھیں اور ملک و معاشرے کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا، ’’آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ ایسے وقت میں پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں جب بھارت امرت کال کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ دور نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے بیک وقت ایک بڑا موقع بھی ہے اور ایک اہم ذمہ داری بھی کہ وہ ملک کے مستقبل کو سنواریں۔‘‘

تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جناب جے۔پی۔ نڈا نے طبی اور متعلقہ صحت کے شعبوں میں تعلیم کو فروغ دینے میں ادارے کے نمایاں کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں پیش کیے جانے والے تقریباً 150 تعلیمی پروگراموں میں سے تقریباً 60 فیصد طبی اور صحت سے متعلق شعبوں پر مشتمل ہیں، جو ملک کے لیے ہنر مند اور باصلاحیت صحت کے کارکنوں کی تیاری میں اس ادارے کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے تعلیم تک وسیع رسائی کو یقینی بنانے کے لیے یونیورسٹی کے اقدامات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبا کی مدد کے لیے تقریباً 75 کروڑ روپے کی اسکالرشپس فراہم کی ہیں، جس سے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اپنے تعلیمی مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات جامع تعلیم، تعلیمی معیار اور ماہر پیشہ ور افراد کی تیاری کو فروغ دیتے ہیں جو بھارت کے بڑھتے ہوئے صحت کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گزشتہ دہائی کے دوران بھارت کے صحت کے شعبے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے ملک بھر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، طبی تعلیم کو مضبوط بنانے اورکم خرچ و معیاری صحت خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’گزشتہ گیارہ برسوں میں بھارت میں اعلیٰ طبی اداروں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کی تعداد پہلے 6 تھی جو اب بڑھ کر 23 ہو گئی ہے، جس سے ملک میں اعلیٰ درجے کی صحت خدمات کے ساتھ ساتھ معیاری طبی تعلیم اور تحقیق کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ بھارت نے ماں اور بچے کی صحت کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ عالمی اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں تقریباً 86 فیصد کمی آئی ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی تقریباً 48 فیصد رہی ہے، جو عوامی صحت کے مؤثر اقدامات کا نتیجہ ہے۔
تپِ دق کے خاتمے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے ٹی بی کے معاملات میں 21 فیصد کمی حاصل کی ہے، جو عالمی ادارہ صحت کے مطابق عالمی سطح پر 12 فیصد کمی سے کہیں زیادہ ہے۔

جناب نڈا نے مزید کہا کہ حکومت شہریوں پر صحت کے اخراجات کا مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صحت پر ذاتی اخراجات(او او پی ای)میں نمایاں کمی آئی ہے جو 62.6 فیصد سے کم ہو کر 39.4 فیصد رہ گئی ہے، جو صحت خدمات کو زیادہ سستا اور قابل رسائی بنانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
بروقت علاج تک رسائی میں بھارت کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دی لانسیٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارت میں تقریباً 90 فیصد کینسر مریض 20 دن کے اندر علاج شروع کر دیتے ہیں، جو تشخیص اور علاج کے نظام میں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا کے اثرات کو بھی اجاگر کیا اور اسے دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم قرار دیا۔ اس اسکیم کے تحت ہر کنبے کو ثانوی اور اعلیٰ درجے کے علاج کے لیے 5 لاکھ روپے تک صحت بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے صحت کے اخراجات میں مالی تحفظ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 71 کروڑ سے زائد افراد اس سے مستفید ہو چکے ہیں، جس سے لاکھوں کنبوں کو مالی مشکلات کے بغیر معیاری علاج حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔
گریجویٹ طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی تعلیمی کامیابیاں صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، رہنماؤں، یونیورسٹی کے عملے اور ادارہ جاتی تعاون کی مشترکہ کوششوں کا ثمر ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہر ڈگری کے پیچھے کنبوں ، اساتذہ اور اداروں کی خاموش محنت اور حوصلہ افزائی شامل ہوتی ہے جو طلبہ کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘
انہوں نے طلبہ کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں سماجی ذمہ داری کا احساس برقرار رکھنے کی تلقین کی اور کہا، ’’ہمیشہ یاد رکھیں کہ معاشرے نے آپ کو وہ مواقع اور وسائل فراہم کیے ہیں جن کی بدولت آپ آج اس مقام پر پہنچے ہیں۔ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھیں کہ آپ کو معاشرے کو واپس دینا ہے اور عوامی بھلائی کے لیے کام کرنا ہے۔‘‘

اس جلسۂ تقسیم اسناد میں یونیورسٹی کے 14 ملحقہ کالجوں کے انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، ڈاکٹریٹ اور ڈپلومہ پروگراموں کے 6,041 طلبا شریک ہوئے۔ ان میں سے 2,577 ڈگریاں تعلیمی سیشن 24-2023جبکہ 3,464 ڈگریاں تعلیمی سیشن 2024–25 سے متعلق ہیں۔
تعلیمی سیشن 25-2024 میں نمایاں تعلیمی کامیابی دیکھنے میں آئی جہاں تمام میڈل کیٹیگریز میں طالبات نے اکثریت حاصل کی۔ 156 میڈل حاصل کرنے والوں میں 112 لڑکیاں اور 44 لڑکے شامل ہیں۔
ان میں 54 گولڈ میڈلز (40 لڑکیاں، 14 لڑکے)، 52 سلور میڈلز (35 لڑکیاں، 17 لڑکے) اور 50 برانز میڈلز (37 لڑکیاں، 13 لڑکے) شامل ہیں۔
اسی طرح تعلیمی سیشن 24-2023 میں بھی 155 میڈل حاصل کرنے والوں میں 103 لڑکیاں اور 52 لڑکے شامل تھے، جو مختلف شعبوں میں طالبات کی مضبوط اور مسلسل تعلیمی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔
تعلیمی سیشن25-2024میں یونیورسٹی نے 3,464 ڈگریاں عطا کیں جن میں 36 پی ایچ ڈی ڈگریاں (19 خواتین اور 17 مرد)، 832 پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں، 2,490 انڈرگریجویٹ ڈگریاں اور 106 ڈپلومہ سرٹیفکیٹس شامل ہیں۔جبکہ تعلیمی سیشن 2023–24 میں 2,577 ڈگریاں دی گئیں جن میں 1,056 طالبات اور 1,521 طلبا شامل تھے۔
تقریب میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ جناب برجیش پاٹھک، ریاستی وزیر خزانہ و پارلیمانی امور جناب سریش کمار کھنہ اور یونیورسٹی کی قیادت و اساتذہ بھی موجود تھے۔
****************
(ش ح –اع خ ۔ ر ا)
U. No: 4074
(ریلیز آئی ڈی: 2240179)
وزیٹر کاؤنٹر : 12