عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی بی سی کی طرف سے “ہندوستان کے سی پی ایس ای کی سی ایس آر گورننس پر صلاحیت سازی کی ورکشاپ” کا انعقاد


سی ایس آر محض ضابطہ جاتی پابندی سے آگے بڑھ کر اب ملک کی تعمیر کے اسٹریٹجک وسیلے کی شکل اختیار کر رہی ہے: ڈاکٹر الکا مِتّل، رکن، سی بی سی

سی ایس آر کے فریم ورک کی ازسرِ نو تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے: جناب  جی  کے  سنگھ، ڈائریکٹر جنرل اور سی ای او، آئی آئی سی اے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 4:53PM by PIB Delhi

کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن (سی بی سی) نے محکمۂ عوامی ادارہ جات (ڈی پی ای) کے تعاون سے اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرس(آئی آئی سی اے) کی شراکت میں 12  مارچ 2026 کو نئی دہلی میں بھارت کے سی پی ایس ای کی سی ایس آر گورننس پر صلاحیت سازی کی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں مرکزی عوامی شعبہ کے اداروں (سی پی ایس ای) کی اعلیٰ قیادت، مرکزی وزارتوں کے افسران، ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں، صنعت سے وابستہ افراد اور تعلیمی ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر کارپوریٹ کی سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور پائیداری سے متعلق اقدامات کو قومی ترقی کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ ورکشاپ سی ایس آر گورننس کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور اسے ماحولیاتی، سماجی اور نظم و نسق (ای ایس جی)کے فریم ورک کے ساتھ مربوط کرنے کے موضوع پر مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مرکزی عوامی شعبہ کے ادارے صرف ضابطہ جاتی تقاضوں تک محدود سی ایس آر سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر ایسی حکمتِ عملی پر مبنی اور نتائج پر مرکوز پہل کریں جو قابلِ پیمائش سماجی اثرات پیدا کریں اور ہندوستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) اور قومی ترقیاتی مشن کی تکمیل میں معاون ہوں۔

جناب گیانیشور کمار سنگھ، ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرس (آئی آئی سی اے) نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے  ہندوستان کے ترقیاتی ڈھانچے میں کارپوریٹ کی سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے بدلتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی اصلاحات کے بعد سی ایس آر محض ضابطہ جاتی تعمیل سے آگے بڑھ کر قابلِ پیمائش سماجی اثرات پیدا کرنے کی سمت میں تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔ سی ایس آر اقدامات میں حکمتِ عملی پر مبنی منصوبہ بندی اور جدت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ایس آر کو ماحولیاتی، سماجی اور نظم و نسق (ای ایس جی) کے اصولوں اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی عوامی شعبہ کے اداروں (سی پی ایس ای) کے درمیان زیادہ ہم آہنگی اور مختلف شراکت داروں کے درمیان تعاون سے وسائل اور مہارتوں کو یکجا کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ وسیع اور پائیدار ترقیاتی نتائج حاصل ہوں گے۔

ڈاکٹر الکا متّل، رکن، کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن نے ورکشاپ کی معنویت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ پالیسی سازوں، ماہرینِ عمل اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے تاکہ سی پی ایس ای میں سی ایس آر گورننس کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعبہ کے ادارے تاریخی طور پر ملک کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ ان علاقوں میں سماجی و معاشی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں جہاں وہ کام کرتے ہیں۔ کمپنیز ایکٹ کے تحت سی ایس آر دفعات کے نفاذ کے بعد اس کے ارتقا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور سی ایس آر کے نفاذ سے وابستہ افسران میں مہارت پر مبنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر الکا متّل نے مزید کہا کہ کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن مختلف شعبوں کے درمیان سیکھنے کے عمل اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دے کر گورننس کے ڈھانچوں کو مضبوط بنانے اور سی ایس آر اقدامات کے اثرات کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس سے قبل اپنے افتتاحی خطاب میں جناب جگدیپ گپتا، سکریٹری، کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن نے قومی ترقیاتی ترجیحات کو مؤثر سی ایس آر اقدامات کے ذریعے آگے بڑھانے میں سی پی ایس ای کے اسٹریٹجک کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سی ایس آر پروگراموں کو پائیداری کے فریم ورک، قومی مشنز اور گورننس کے معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تو اس سے سی پی ایس ایز طویل مدتی عوامی فائدہ پیدا کرنے اور ادارہ جاتی جوابدہی کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

اس ورکشاپ میں متعدد مہارتنا، نو رتن اور دیگر مرکزی عوامی شعبہ کے اداروں (سی پی ایس ای) کے نمائندوں، مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کے افسران، صنعتی تنظیموں کے سی ایس آر قائدین اور تعلیمی و پالیسی اداروں کے ماہرین نے شرکت کی۔

پہلا تکنیکی اجلاس قومی ہم آہنگی کے لیے اسٹریٹجک سی ایس آر منصوبوں کی نشاندہی اور منصوبہ بندی کے موضوع پر منعقد ہوا، جس میں سی ایس آر کی منصوبہ بندی کے لیے گورننس فریم ورک اور اسے قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر گفتگو کی گئی۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر گریما دادھیچ، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سربراہ، اسکول آف بزنس انوائرنمنٹ، آئی آئی سی اے؛ جناب بیرین دیسائی اور جناب شکتی کمار (ٹاٹا کنسلٹنگ انجینئرز)؛ جناب پروین تیاگی، جوائنٹ ڈائریکٹر، وزارتِ ہنرمندی ترقی و انٹرپرینیورشپ؛ اور محترمہ اوما ایس۔ سیتھ، اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل (سی ایس آر، تنوع، مساوات اور شمولیت)، فکی نے اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے سی ایس آر کی حکمتِ عملی پر مبنی منصوبہ بندی، بورڈ سطح کی نگرانی اور سی ایس آر اقدامات کو قومی مشنز کے ساتھ مربوط کرنے کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

دوسرا اجلاس پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے ساتھ سی ایس آر کی ہم آہنگی – ترقیاتی اثرات کی پیمائش کے موضوع پر مرکوز تھا، جس میں سی ایس آر پروگراموں کے اثرات کی پیمائش کے نظام اور رپورٹنگ کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس کا آغاز جناب سبھاش چندر ملک، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، سوشل اسٹیٹسٹکس ڈویژن، وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ کے خطاب سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر دیباشش مکھرجی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ایچ آر)، او این جی سی؛ جناب وی جے نارائنن، چیف جنرل منیجر (سی ایس آر)، این ٹی پی سی؛ اور جناب ببھوتی رنجن پردھان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (سی ایس آر)، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ نے زیادہ اثرات والے سی ایس آر اقدامات کے نفاذ سے متعلق اپنے تجربات پیش کیے۔

اس موقع پر بھارت کے لیے نیٹ زیرو اخراج کے راستے کے موضوع پر ایک خصوصی ماہر خطاب بھی پیش کیا گیا، جو جناب گوتم سین، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جیو سائنٹسٹ، او این جی سی نے دیا۔ انہوں نے پائیداری کی طرف منتقلی کو فروغ دینے اور ہندوستان کے ماحولیاتی عہدوں کی تکمیل میں سی پی ایس ای کے کردار پر روشنی ڈالی۔

دوپہر کے اجلاس کارپوریٹ حکمتِ عملی میں ای ایس جی کو مرکزی دھارے میں لانا میں مرکزی عوامی شعبہ کے اداروں (سی پی ایس ای) کے نظم و نسق کے نظام میں ماحولیاتی، سماجی اور گورننس  (ای ایس جی)فریم ورک کو شامل کرنے پر غور کیا گیا۔ اجلاس کا آغاز جناب امیت آنند، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (جنگلات و جنگلی حیات)، وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے ابتدائی خطاب سے ہوا۔

ورکشاپ میں ایک تعاملی گول میز اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں چالیس سے زائد سی پی ایس ای کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے سی ایس آر کے نفاذ میں درپیش عملی مشکلات، ضابطہ جاتی پابندیوں، مقامی انتظامیہ کے ساتھ تال میل اور سی ایس آر گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسی اصلاحات کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ مباحثوں میں قابلِ توسیع عملی ماڈلز کی نشاندہی، اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور صلاحیت سازی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی گئی۔

گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ سی ایس آر اقدامات کو قومی ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے، سی پی ایس ایز اور سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے، اور نگرانی و جائزہ کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ سماجی اثرات واضح، قابلِ پیمائش اور نتائج پر مبنی ہوں۔

ورکشاپ کا اختتام ایک اختتامی اجلاس کے ساتھ ہوا جس میں مباحثوں سے حاصل ہونے والے اہم نکات کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد جناب لوکاس ایل۔ کامسوان، جوائنٹ سکریٹری، محکمۂ عوامی ادارہ جات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی ایس آر کو صرف کارپوریٹ کے تعاون کے طور پر نہیں بلکہ معاشرے پر اس کے حقیقی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس گفتگو کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں، جن میں بورڈ سطح کی مشاورت میں ای ایس جی کے  پہلوؤں کو شامل کرنا بھی شامل ہے۔ پروگرام کا اختتام محترمہ نونیت کور، ڈائریکٹر، کیپیسٹی بلڈنگ کمیشن کی جانب سے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔

بھارت کے سی پی ایس ایز کی سی ایس آر گورننس پر صلاحیت سازی ورکشاپ سی پی ایس ای میں پائیداری پر مبنی گورننس کو مضبوط بنانے اور بھارت کے وسیع تر ترقیاتی اور پائیداری کے اہداف میں ان کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔

******

(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)

Urdu No-4026

 


(ریلیز آئی ڈی: 2239960) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी