دیہی ترقیات کی وزارت
وی بی-جی رام جی کے تحت فنڈ کا وفاقی تعاون
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 5:41PM by PIB Delhi
وکست بھارت – گارنٹی برائے روزگار و اجیوکا مشن (دیہی) وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025 کا بنیادی مقصد دیہی ترقی کے فریم ورک کو وکست بھارت @2047 کے قومی وژن کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ایسے دیہی گھرانوں کو، جن کے بالغ افراد غیر ہنر مند دستی محنت کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر تیار ہوں، ہر مالی سال میں 125 دن کی قانونی اجرتی روزگار کی ضمانت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ وہ وسیع تر معاشی تحفظ اور روزگار کے نظام میں زیادہ مؤثر طور پر حصہ لے سکیں۔ چونکہ وکست بھارت جی رام جی پروگرام کی طلب پر مبنی نوعیت برقرار رکھتا ہے، اس لیے کارکنان اس ایکٹ کے تحت دی گئی 125 دن کی ضمانت سے استفادہ کرنے کے حقدار ہیں۔
ایکٹ کی دفعہ 22 کی ذیلی دفعہ (4) کے مطابق، مرکزی حکومت ہر ریاست کے لیے معروضی معیارات کی بنیاد پر ریاست وار معیاری مختص رقم کا تعین کرے گی، جیسا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، ایکٹ کی دفعہ 22 کے مطابق اس ایکٹ کے تحت نافذ کی جانے والی اسکیم مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہوگی اور مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے درمیان فنڈ کی شراکت کا تناسب شمال مشرقی ریاستوں، ہمالیائی ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں (اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر) کے لیے 90:10 ہوگا، جبکہ دیگر تمام ریاستوں اور مرکز زیر انتظام علاقوں کے لیے 60:40 ہوگا۔ یہاں یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ اس وقت مختلف شعبوں میں کئی مرکزی معاونت یافتہ اسکیمیں (سی ایس ایس) 60:40 شراکتی ماڈل کے تحت نافذ کی جا رہی ہیں۔ لہٰذا اس ایکٹ کے تحت اختیار کیا گیا 60:40 کا تناسب مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کے وسیع تر فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔ یہ ماڈل اشتراکی وفاقیت کو فروغ دیتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاستیں دیہی ترقی کے عمل میں فعال شراکت دار بنتی ہیں۔
مالی سال 2026–27 کے لیے وکست بھارت – گارنٹی برائے روزگار و اجیوکا مشن (دیہی) کے تحت مرکزی حصے کے طور پر 95,692.31 کروڑ روپے کی فراہمی کی گئی ہے، جو بجٹ تخمینہ مرحلے پر دیہی روزگار پروگرام کے لیے اب تک کی سب سے بڑی مختص رقم ہے۔ متعلقہ ریاستی حصے کے تخمینہ کو شامل کرنے کے بعد اس پروگرام کا کل مالیاتی خاکہ 1.51 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جس سے دیہی تبدیلی کی رفتار تیز ہونے، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور دیہی علاقوں میں آمدنی میں اضافے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ، ایکٹ میں یہ بھی انتظام کیا گیا ہے کہ قدرتی آفات، وباؤں یا دیگر غیر معمولی حالات کی صورت میں ریاستی حکومتیں مرکز کو خصوصی عملی نرمیوں کی سفارش کر سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں مرکزی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ قابل اجازت کاموں کے دائرے میں توسیع کرے، دستاویزی طریقۂ کار میں نرمی دے اور عارضی طور پر روزگار کی فراہمی سے متعلق دفعات میں اضافہ کرے۔ اس طرح یہ فریم ورک جوابدہ، لچکدار اور ابھرتی ہوئی ضروریات کے لیے حساس ہے۔
دیہی ترقی کے وزیر مملکت جناب کملیش پاسوان نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 4037
(ریلیز آئی ڈی: 2239929)
وزیٹر کاؤنٹر : 10