کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت کھاد کی گھریلو پیداوار بڑھانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 4:38PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی طرف سے کھاد کی گھریلو پیداوار کو مضبوط بنانے اور درآمدات پر انحصار کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں کیمیکلز اور کھادوں کی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے بتایا کہ فی الحال ملک میں سرکاری، کوآپریٹو اور نجی شعبوں میں کھاد کی پیداوار کی متعدد اکائیاں کام کر رہی ہیں۔ ملک میں کام کرنے والی کھاد تیار کرنے والی اکائیوں کی تفصیلی فہرست ضمیمہ میں فراہم کی گئی ہے۔

یوریا کے حوالے سے، یوریا کی پیداوار میں خود کفالت کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور ہندوستان کو یوریا کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے 2 جنوری 2013 کو نئی سرمایہ کاری پالیسی (این آئی پی)-2012 اور 7 اکتوبر 2014 کو اس میں ترمیم کا اعلان کیا تھا۔ این آئی پی-2012 کے تحت کل 6 نئی یوریا یونٹس قائم کی گئی ہیں جن میں نامزد پی ایس یو کی جوائنٹ وینچر کمپنیوں (جے وی سی) کے ذریعے قائم کی جانے والی 4 یوریا یونٹس اور نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم کی جانے والی 2 یوریا یونٹس شامل ہیں ۔ جے وی سی کے ذریعے قائم کی جانے والی اکائیاں تلنگانہ میں راماگنڈم فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (آر ایف سی ایل) کی راماگنڈم یوریا اکائی اور اتر پردیش کے گورکھپور میں ہندوستان اورورک اینڈ رسائن لمیٹڈ (ایچ یو آر ایل) کی گورکھپو، سندری اور برونی، جھارکھنڈ میں سندری اور بہار میں برونی ہیں۔ نجی کمپنیوں کے ذریعہ قائم کردہ یونٹس مغربی بنگال میں میٹیکس فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (میٹیکس) کی پنا گڑھ یوریا یونٹ اور راجستھان میں چمبل فرٹیلائزرس اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ (سی ایف سی ایل) کی گڈیپن-III یوریا یونٹ ہیں ۔ ان اکائیوں میں سے ہر ایک کی سالانہ صلاحیت 12.7 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی پی اے) ہے۔ یہ اکائیاں توانائی کے لحاظ سے انتہائی موثر ہیں کیونکہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔

حکومت نے فاسفیٹک اور پوٹاسک (پی اینڈ کے) کھادوں کے لئے تغذیہ پر مبنی سبسڈی (این بی ایس) اسکیم یکم اپریل 2010 سے نافذ کی ہے ۔ اسکیم کے تحت، پی اینڈ کے کھادوں کو اوپن جنرل لائسنس (او جی ایل) کے تحت زمرہ بند کیا گیا ہے اور کمپنیاں اپنی کاروباری سرگرمیوں کے مطابق ان کھادوں کو درآمد/تیار کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ کھاد کی گھریلو پیداوار میں اضافہ کرنے اور ملک کو خود کفیل بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

  1. کھادوں کے محکمہ نے زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کی معقولیت کو یقینی بنانے اور گھریلو پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے 18 جنوری 2024 کو رہنما ہدایات جاری کیے ہیں۔
  2. درخواستوں کی بنیاد پر، این بی ایس اسکیم کے تحت نئی مینوفیکچرنگ اکائیوں یا موجودہ اکائیوں کی مینوفیکچرنگ صلاحیت میں اضافے کو تسلیم/ریکارڈ پر لیا گیا ہے۔
  3. این بی ایس پالیسی کے تحت شامل پی اینڈ کے کھادوں کی تعداد 2021 میں 22 گریڈ سے بڑھ کر 28 گریڈز ہو گئی ہے۔
  4. مقامی طور پر تیار کردہ کھاد ایس ایس پی پر مال برداری سبسڈی کو خریف 2022 سے منظور کیا گیا ہے تاکہ مٹی کو فاسفیٹک یا 'پی' غذائیت فراہم کرنے کے لیے ایس ایس پی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
  5. درآمد شدہ پوٹاسک کھادوں پر درآمداتی انحصار کو کم کرنے کے لیے، پوٹاش ڈیریویڈ فرام مولسیس (پی ڈی ایم) جو کہ گھریلو طور پر تیار کردہ پوٹاسک کھاد ہے ، کو ربیع 2021 سے این بی ایس اسکیم کے تحت زمرہ بند کیا گیا ہے۔

مؤرخہ 13 فروری 2026 کو جواب دیے جانے والے لوک سبھا کے غیر ستارہ دار سوال نمبر 2436 کے حصہ (اے) کے حوالے کا ضمیمہ

******

(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)

Urdu No-4024


(ریلیز آئی ڈی: 2239919) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी