راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 405ویں رپورٹ پر پریس ریلیز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 6:12PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی، جس کی صدارت رکنِ پارلیمان (راجیہ سبھا) جناب بھوبنیشور کلیتا کر رہے ہیں، نے 9مارچ 2026 کو ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کی مطالباتِ زر (2026-27) سے متعلق اپنی 405ویں رپورٹ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے ایوانِ صدر میں پیش/میز پر رکھی۔
کمیٹی نے اس رپورٹ کے مسودے پر غور کیا اور اسے 9 مارچ 2026 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں منظور کیا۔ اس رپورٹ میں کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات اور مشاہدات منسلک ہیں۔
2۔ مکمل رپورٹ درج ذیل ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے: https://sansad.in/rs
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے مطالباتِ زر (2026-27) پر 405ویں رپورٹ
سفارشات / مشاہدات — ایک نظر میں
مالی سال 2025-26 کے لیے بجٹ کی تفصیلات اور 2026-27 کے لیے مختص رقم
کمیٹی نے مشاہدہ کیا ہے کہ 2024-25اور2025-26 کے دوران وزارت کی جانب سے فنڈز کے استعمال کی شرح 2023-24 کے مقابلے میں کم رہی ہے، جب وزارت مختص شدہ فنڈز کا 96 فیصد سے زیادہ استعمال کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ جہاں 2024-25 میں وزارت نے مختص شدہ فنڈز کا 72.35 فیصد استعمال کیا، وہیں 2025-26 میں 31 جنوری 2026 تک 3481.61 کروڑ روپے کی نظرِ ثانی شدہ مختص رقم (آر ای) میں سے صرف 67.87 فیصد استعمال کیا جا سکا ہے۔ کمیٹی نے اس امر کا بھی نوٹس لیا ہے کہ وزارت 2025-26 کے باقی ماندہ عرصے میں مختص رقم کے مکمل استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ کمیٹی کی سفارش ہے کہ وزارت تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ اسے دی گئی مختص رقم کو زیادہ سے زیادہ حد تک استعمال کیا جا سکے۔ (پیرا 2.4)
کمیٹی نے مزید مشاہدہ کیا ہے کہ 2026-27 کے لیے 3759.46 کروڑ روپے کی بجٹ تخمینہ (بی ای) کی مختص رقم، 2025-26 کے 3412.82 کروڑ روپے کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔ کمیٹی کی سفارش ہے کہ وزارت آئندہ مالی سال کے آغاز ہی سے فعال اور پیشگی اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مالی سال کے دوران اسے مختص کیے گئے فنڈز کو بہترین اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔ (پیرا 2.5)
مرکزی شعبہ جاتی اسکیمیں
کمیٹی نے گزشتہ 3 برسوں کے دوران ’’آلودگی پر قابو‘‘ اسکیم کی مالی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ 2025-26 میں وزارت نظرِ ثانی شدہ بڑھائی گئی مختص رقم 1300 کروڑ روپے میں سے 31 جنوری 2026 تک 814.26 کروڑ روپے استعمال کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ کمیٹی نے اس حقیقت کا بھی نوٹس لیا کہ 2025-26 کے لیے ’’آلودگی پر قابو‘‘ اسکیم کے بجٹ میں 853.9 کروڑ روپے سے بڑھا کر 1300 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
ملک میں ماحولیاتی آلودگی عوامی صحت اور ماحولیاتی استحکام کے لیے ایک سنگین اور مسلسل خطرہ ہے، لہٰذا اس کے تدارک کے لیے مختص فنڈز کا مؤثر اور مکمل استعمال نہایت ضروری ہے۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت اصلاحی اقدامات کرے، کاموں کی مالی اور عملی پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک مضبوط نگرانی نظام وضع کرے اور یہ یقینی بنائے کہ ’’آلودگی پر قابو‘‘ کے تحت مختص فنڈز آئندہ مالی سال میں مکمل طور پر استعمال ہوں تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ (پیرا 5.5)
کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ موجودہ مالی سال کے دوران اکتوبر تا فروری کے بیشتر عرصے میں دہلی این سی آر کی فضائی معیار کی سطح خراب یا اس سے بھی نچلے درجے میں رہی۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ فضائی آلودگی کے تدارک کے لیے ایک مضبوط اور جامع منصوبہ کی ضرورت ہے۔ اس لیے کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت، حکومتِ دہلی (این سی آر) کے ساتھ باہمی تعاون سے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ایک طویل مدتی منصوبہ تیار کرے۔ (پیرا 5.6)
ماحولیاتی تعلیم، بیداری، تحقیق اور مہارت کی ترقی
کمیٹی نے ’’ماحولیاتی تعلیم، بیداری، تحقیق اور مہارت کی ترقی‘‘ کے تحت فنڈز کے کم استعمال کے حوالے سے وزارت کی جانب سے پیش کی گئی وجوہات کا نوٹس لیا ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ فنڈز کے کم استعمال کی جو وجوہات وزارت نے پیش کی ہیں وہ زیادہ تر طریقۂ کار اور انتظامی نوعیت کی ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت اپنے انتظامی اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنائے تاکہ مختص وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور اسکیموں کے لیے مختص فنڈز کم استعمال نہ ہوں۔ (پیرا 6.4)
کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ ماحولیاتی تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے اور تمام ریاستی حکومتوں کو اسے ایک قومی پروگرام کے طور پر اس کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ وزارت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو وزارتِ تعلیم (محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی اور محکمۂ اعلیٰ تعلیم) کے ساتھ بھی اٹھائے تاکہ ماحولیاتی آگاہی اور تعلیم کو اسکول کے نصاب میں شامل کیا جا سکے۔ اس طرح آئندہ نسلوں کے ذہنوں میں ابتدا ہی سے ماحولیاتی شعور اور تحفظ کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ ماحول کے تئیں ذمہ دار شہری بن سکیں گے۔ (پیرا 6.6)
مرکزی معاونت یافتہ اسکیمیں
کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اس مد کے تحت 2025-26 کے بجٹ تخمینہ (بی ای) میں 720.00 کروڑ روپے کی مختص رقم کو نظرِ ثانی شدہ تخمینہ (آر ای) کے مرحلے پر کم کر کے 391.75 کروڑ روپے کر دیا گیا، جو کہ اصل بجٹ مختص رقم کا محض 55 فیصد ہے۔ اس کم کی گئی نظرِ ثانی شدہ مختص رقم میں سے وزارت 31 جنوری 2026 تک صرف 256.31 کروڑ روپے خرچ کر سکی ہے، جو کہ مختص رقم کا 65.40 فیصد بنتا ہے۔
کمیٹی نے مزید مشاہدہ کیا کہ نظرِ ثانی شدہ تخمینہ (آر ای) میں کمی کے نتیجے میں اس اسکیم کے تحت تمام ذیلی اسکیموں کے لیے مختص رقم میں بھی کمی واقع ہوئی۔ اس کا منفی اثر ایک اہم اسکیم یعنی ’’نیشنل مشن فار اے گرین انڈیا‘‘ پر بھی پڑا ہے۔
کمیٹی کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ قدرتی وسائل اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے 30.48 کروڑ روپے کی نظرِ ثانی شدہ مختص رقم میں سے صرف 18.27 کروڑ روپے یعنی تقریباً 60 فیصد ہی خرچ کیے جا سکے ہیں۔ (پیرا 7.2)
نیشنل مشن فار اے گرین انڈیا
کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ نیشنل مشن فار اے گرین انڈیا کے لیے 2025-26 کے بجٹ تخمینہ (بی ای) میں 220.00 کروڑ روپے کی مختص رقم کو نظرِ ثانی شدہ تخمینہ (آر ای) کے مرحلے پر کم کر کے 95.70 کروڑ روپے کر دیا گیا، جو اصل بجٹ مختص رقم کا تقریباً 44 فیصد ہے۔ مزید برآں، اس کم کی گئی رقم 95.70 کروڑ روپے میں سے بھی وزارت 31 جنوری 2026 تک صرف 40.95 کروڑ روپے یعنی تقریباً 43 فیصد ہی استعمال کر سکی ہے۔
وزارت کو چاہیے کہ نظرِ ثانی شدہ مختص رقم کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے عملی منصوبۂ عمل تیار کرے اور موجودہ مالی سال کے دوران دستیاب فنڈز کے مکمل استعمال کو یقینی بنائے۔ وزارت نے نظرِ ثانی شدہ مرحلے پر مختص رقم میں کمی کی کوئی وجہ فراہم نہیں کی۔
کمیٹی کی رائے ہے کہ گرچہ نظرِ ثانی شدہ تخمینہ میں کمی کے باعث اسکیم کی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑا، تاہم وزارت بھی اپنی جانب سے دستیاب فنڈز کو جنوری تک مطلوبہ حد تک استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت اس اسکیم کے تحت فنڈز کے استعمال میں سست رفتاری کا جائزہ لے اور ایسے اقدامات کرے تاکہ آئندہ فنڈز کم استعمال نہ رہیں۔ (پیرا 8.5)
جنگلاتی آگ کی روک تھام اور انتظام
کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اگرچہ اس مد کے تحت اخراجات 2023-24 اور 2024-25 کے دوران تسلی بخش رہے، تاہم موجودہ مالی سال میں اب تک فنڈز کے استعمال کی رفتار نسبتاً سست رہی ہے، کیونکہ 33.25 کروڑ روپے کی کم کی گئی نظرِ ثانی شدہ مختص رقم (آر ای) میں سے صرف 15.52 کروڑ روپے ہی خرچ کیے جا سکے ہیں۔ (پیرا 9.3)
کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ملک میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے ماحولیات، جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اتراکھنڈ کے جنگلات میں تقریباً ہر سال گرمیوں کے موسم میں آگ لگ جاتی ہے۔
ایسی صورتحال میں کمیٹی کی رائے ہے کہ نہ صرف ایسے واقعات کو کم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ جنگلاتی آگ بجھانے کے لیے ایک باقاعدہ ضابطۂ کار (پروٹوکول) بھی تیار کیا جانا چاہیے، جس پر ہمالیائی خطے میں کسی بھی جنگلاتی آگ کی صورت میں عمل کیا جا سکے۔
کمیٹی کو یہ بھی علم ہے کہ جنگلاتی آگ کا بروقت پتہ لگانے اور اس پر قابو پانے کے لیے جدید اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز دستیاب ہیں، جن میں سیٹلائٹ اور ڈرونز کے ذریعے ابتدائی نشاندہی، انتباہ، آگ کی نوعیت اور اس کی وجوہات کا تعین اور اس کے تدارک کے اقدامات شامل ہیں۔
لہٰذا کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ وزارت جدید ترین ٹیکنالوجی کا جائزہ لے اور جنگلاتی آگ کی روک تھام اور انتظام کے لیے پیشگی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا پر مبنی نظام کو فروغ دے تاکہ جنگلاتی آگ سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومتوں کو مناسب بجٹ معاونت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ (پیرا 9.4)
جنگلی حیات کے مساکن کی جامع ترقی
کمیٹی نے پایا کہ ’’جنگلی حیات کے مساکن کی جامع ترقی‘‘ کے تحت گزشتہ دو مالی برسوں میں وزارت کی کارکردگی انتہائی بہتر رہی ہے۔ چونکہ وزارت 31 جنوری 2026 تک اس مد کے تحت مختص رقم کا تقریباً 75 فیصد استعمال کر چکی ہے، اس لیے کمیٹی کو امید ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران اس مد کے تحت مختص رقم کو مکمل طور پر استعمال کر لیا جائے گا۔ (پیرا 10.2)
شیر اور ہاتھی سے متعلق پروجیکٹ
مرکزی طور پر مالی اعانت یافتہ اسکیمیں قومی ترجیحات کے نفاذ، ریاستوں کے درمیان عدم مساوات کو کم کرنے اور یکساں ترقی کو یقینی بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کمیٹی نے ’’شیر اور ہاتھی سے متعلق پروجیکٹ ‘‘ کے تحت وزارت کی مالی کارکردگی کو اطمینان بخش پایا ہے۔
کمیٹی اس بات سے متفق ہے کہ ناگزیر انتظامی وجوہات کے باعث اخراجات کی رفتار میں کچھ کمی آئی۔ کمیٹی اس بات سے بھی اتفاق کرتی ہے کہ اس اسکیم کے تحت فنڈز کی ضرورت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں ٹائیگر ریزروز کی تعداد، شیروں کی آبادی، قدرتی مساکن کا دائرہ اور انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت کو اس مد کے تحت اضافی فنڈز مختص کرنے پر غور کرنا چاہیے تاکہ تحفظ، منتقلی اور انسان و جنگلی حیات کے درمیان تصادم کو کم کرنے کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ (پیرا 11.7)
انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے واقعات کو کم کرنے کی ضرورت
کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ وزارت نے آگاہ کیا ہے کہ وہ انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے واقعات کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، تاہم اس نوعیت کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ جنگلاتی رقبے کے مقابلے میں شیروں اور چیتوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث ان کے قدرتی مساکن میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایسے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ جانور آبادی والے علاقوں میں داخل نہ ہوں اور صرف جنگلاتی علاقوں تک محدود رہیں۔
جنگلاتی علاقوں میں شیروں اور چیتوں کے لیے ریسکیو سینٹرز قائم کرنے کے لیے مناسب فنڈز مختص کیے جا سکتے ہیں تاکہ یہ جانور جنگلات سے باہر نہ نکلیں۔ اس کے علاوہ وزارت کو چاہیے کہ اس مسئلے سے نمٹنے اور انسان و جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے واقعات کو کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات بھی متعارف کرائے۔ (پیرا 12.2)
کیمپا فنڈز سے دواؤں کے پودوں کی شجرکاری
دواؤں کے پودے اپنے علاجی خواص اور حیاتیاتی فعال مرکبات کی وجہ سے روایتی اور جدید نظامِ صحت دونوں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہ پودے مختلف بیماریوں، بشمول دائمی امراض، انفیکشنز اور میٹابولک بیماریوں کے علاج کے لیے قدرتی، کم خرچ اور نسبتاً کم مضر اثرات رکھنے والے حل فراہم کرتے ہیں۔ ان روایتی پودوں کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کی دستیابی نہایت ضروری ہے۔
اس تناظر میں کمیٹی پرزور سفارش کرتی ہے کہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت اس بات کو لازمی قرار دے کہ جب بھی خراب یا بگڑے ہوئے جنگلاتی علاقوں میں شجرکاری کی جائے تو کیمپا فنڈز (سی اے ایم پی اے) کے تحت کی جانے والی شجرکاری کا کم از کم 25 فیصد حصہ دواؤں کے پودوں پر مشتمل ہو، جو متعلقہ علاقے کی ماحولیاتی خصوصیات کے مطابق ہوں۔
وزارت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ شجرکاری کے یہ اقدامات صرف قلیل مدتی اہداف کے حصول تک محدود نہ رہیں بلکہ کاربن کے ذخائر میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کی بحالی میں بامعنی کردار ادا کریں۔ (پیرا 13.3)
دیگر مرکزی شعبہ جاتی اخراجات
قانونی، ضابطہ جاتی اور خودمختار ادارے وزارت کو اس کے فرائض کی انجام دہی میں معاونت فراہم کرتے ہوئے تحفظ، نفاذ اور سائنسی جائزے کے خصوصی اداروں کے طور پر نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جیسا کہ وزارت نے سابقہ پیراگراف میں واضح کیا ہے، 2025-26 میں نظرِ ثانی شدہ تخمینہ (آر ای) کے مرحلے پر مختص رقم میں کمی اور 2026-27 کے لیے کم بجٹ تخمینہ (بی ای) کی وجہ سے تقریباً تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور خودمختار اداروں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان اداروں کی بعض توسیعی سرگرمیاں، ضابطہ جاتی فرائض، تحقیقی کام اور جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات سست پڑ سکتے ہیں۔
کمیٹی ان اداروں کے لیے بجٹ مختص میں بہتری کی ضرورت کی تائید کرتی ہے۔ چنانچہ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ 2026-27 کے دوران وزارت کے تحت آنے والے تمام قانونی، ضابطہ جاتی اور خودمختار ادارے مالی سال کے پہلے نصف حصے میں ہی اپنی مختلف سرگرمیوں کے جسمانی اور مالی اہداف حاصل کرنے کے لیے فعال اقدامات کریں تاکہ وہ نظرِ ثانی شدہ تخمینہ (آر ای) کے مرحلے پر مزید بجٹ مختص کے لیے مضبوط دعویٰ پیش کر سکیں۔ (پیرا 14.7)
جنگلاتی زمینوں پر ناجائز قبضہ
کمیٹی نے ملک میں جنگلاتی زمینوں پر ناجائز قبضے کے مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 25 ریاستوں میں 13 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ جنگلاتی رقبہ غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ جنگلاتی علاقوں کو غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے جنگلات کا رقبہ کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع میں کمی، قدرتی مساکن کی تباہی اور ماحولیاتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
بھارت کے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ حکومت کے تمام ریکارڈ میں درج جنگلاتی زمینیں، بشمول وہ زمینیں جو لغوی معنی کے مطابق جنگل شمار ہوتی ہیں، فاریسٹ کنزرویشن ایکٹ کے دائرہ کار میں آئیں گی اور ایسی زمینوں کو غیر جنگلاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے قبل مرکزی حکومت کی پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ (پیرا 15.3)
کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وزارت کو جنگلاتی علاقوں میں زمینوں کے ڈرون سروے سے متعلق کمیٹی کے سوال پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وزارت نے ون (سنرکشن ایوم سموردھن) قواعد، 2023 کے قاعدہ 16(1) کی دفعات کی طرف توجہ دلائی ہے، جس کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو ان تمام اقسام کی جنگلاتی زمینوں کا مرکزی ریکارڈ تیار اور برقرار رکھنا لازم ہے جن پر ون (سنرکشن ایوم سموردھن) ادھینیم، 1980 کی دفعات لاگو ہوتی ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں یا نہیں، یا عام لوگوں کے لیے ان تک رسائی آسان ہے یا نہیں۔ جنگلاتی زمینوں کی فروخت کے متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں غیر قانونی تبدیلی یا غیر مجاز منتقلی شامل رہی ہے، اور اکثر اس میں نجی فریقوں، ڈیولپرز اور بعض اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ بھی پایا جاتا ہے۔
لہٰذا کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت تمام ریاستی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقائی حکومتوں پر زور دے کہ وہ جنگلاتی علاقوں میں زمینوں کا ڈرون سروے کروائیں اور ان سروے رپورٹس کو عوامی ڈومین میں رکھا جائے تاکہ متعلقہ عوام یا سرکاری ادارے کسی بھی تجارتی سرگرمی، خرید و فروخت سے قبل ان زمینوں کی حیثیت کی تصدیق کر سکیں۔
اس سلسلے میں اگر کسی سرکاری ادارے کی جانب سے غفلت یا لاپروائی سامنے آئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ (پیرا 15.4)
کمیٹی مزید سفارش کرتی ہے کہ ملک کے تمام ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں کی ڈیجیٹل نقشہ بندی کی جائے اور ملک کے نازک ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ (پیرا 15.5)
اہم پروگراموں کے تسلسل کے لیے اضافی بجٹ کی ضرورت
کمیٹی نے وزارت کی جانب سے اہم پروگراموں کے لیے بجٹ مختص میں درپیش رکاوٹوں اور ان اقدامات کے تسلسل کے لیے درکار کم از کم مالی ضروریات کا نوٹس لیا ہے۔ کمیٹی وزارت کی جانب سے پیش کردہ تخمینوں سے اتفاق کرتی ہے۔
کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارتِ خزانہ، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کی مالی ضروریات پر مثبت غور کرے۔ مزید برآں، کمیٹی یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ 2026-27 کے دوران ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت بجٹ تخمینہ (بی ای) کے مرحلے پر مختص فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی کوشش کرے، تاکہ وہ نظرِ ثانی شدہ تخمینہ (آر ای) کے مرحلے پر مذکورہ اسکیموں اور پروگراموں کے لیے مزید بجٹ مختص حاصل کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں آ سکے۔ (پیرا 16.2)
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-4049
(ریلیز آئی ڈی: 2239908)
وزیٹر کاؤنٹر : 7