کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
کیمیاوی کھادوں کی کوئی قلت نہیں؛ خریف 2025 اور ربیع 2025-26 کے دوران مناسب دستیابی یقینی بنائی گئی
مقامی یوریا کی پیداواری صلاحیت 15-2014 میں 207.54 ایل ایم ٹی پی اے سے بڑھ کر 24-2023 میں 283.74 ایل ایم ٹی پی اے ہو گئی؛ حکومت نے نئے گرین فیلڈ اور براؤن فیلڈ پروجیکٹوں کی منظوری دے دی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 4:25PM by PIB Delhi
لوک سبھا کے *نشان زد سوال نمبر 218 کے جواب میں مرکزی وزیر برائے کیمیکلز و فرٹیلائزرز جناب جگت پرکاش نڈا نے بتایا کہ خریف 2025-26 اور جاری ربیع 2025 موسم کے دوران اتر پردیش سمیت کسی بھی ریاست میں کیمیاوی کھادوں کی کوئی قلت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یوریا، ڈی اے پی، ایم او پی اور این پی کے ایس جیسی اہم کھادوں کی دستیابی پورے ملک میں مناسب رہی ہے۔ مذکورہ موسموں کے دوران ان کھادوں کی ضرورت، دستیابی اور فروخت سے متعلق ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں فراہم کی گئی ہیں۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران انڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ کے مختلف کارخانوں میں تیار کی گئی کھادوں کی مقدار کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مزید برآں مالی سال 2025-26 کے دوران اپریل سے جنوری تک انڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹو لمیٹڈ کی اکائیوں نے 41,24,000 میٹرک ٹن یوریا تیار کیا، جبکہ مالی سال 2024-25 کے اسی عرصے میں 40,66,000 میٹرک ٹن یوریا تیار کیا گیا تھا، جس سے پیداوار میں تسلسل ظاہر ہوتا ہے۔
یوریا کے سلسلے میں حکومت نے 2 جنوری 2013 کو نئی سرمایہ کاری پالیسی 2012 کا اعلان کیا تھا اور 7 اکتوبر 2014 کو اس میں ترمیم کی گئی تاکہ یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور ہندوستان کو یوریا کی پیداوار میں خود کفیل بنایا جا سکے۔ نئی سرمایہ کاری پالیسی 2012 کے تحت مجموعی طور پر چھ نئی یوریا اکائیاں قائم کی گئی ہیں، جن میں چار اکائیاں نامزد سرکاری شعبے کی کمپنیوں کے مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اور دو اکائیاں نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم کی گئی ہیں۔
مشترکہ پروجیکٹوں کے تحت قائم کی گئی اکائیوں میں تلنگانہ میں راماگنڈم فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ کی راماگنڈم یوریا اکائی شامل ہے، جبکہ ہندوستان یوریا اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ کی تین اکائیاں گورکھپور (اتر پردیش)، سندری (جھارکھنڈ) اور برونی (بہار) میں واقع ہیں۔
نجی شعبے کی اکائیوں میں ماتکس فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ کی پناگڑھ یوریا اکائی جو مغربی بنگال میں واقع ہے، اور چمبل فرٹیلائزرز اینڈ کیمیکلز لمیٹڈ کی گڈیپن۔3 یوریا اکائی جو راجستھان میں قائم ہے، شامل ہیں۔ ان تمام اکائیوں کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت سالانہ 12.7 لاکھ میٹرک ٹن ہے اور یہ جدید توانائی مؤثر ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ ان اکائیوں کے قیام سے مجموعی طور پر 76.2 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ یوریا پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے نتیجے میں ملک میں مقامی یوریا کی پیداواری صلاحیت 2014–15 میں 207.54 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے بڑھ کر 24–2023 میں 283.74 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ ہو گئی ہے۔ مزید برآں، فرٹیلائزر کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کی تلچر اکائی کی بحالی کے لیے نامزد سرکاری شعبے کی کمپنیوں کے مشترکہ منصوبے کے تحت تلچر فرٹیلائزرز لمیٹڈ کے ذریعے 12.7 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ صلاحیت کے ایک نئے گرین فیلڈ یوریا پلانٹ کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جو کوئلہ گیسیفیکیشن ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔
اسی طرح مرکزی کابینہ نے آسام کے نامروپ میں واقع برہم پتر ویلی فرٹیلائزر کارپوریشن لمیٹڈ کے موجودہ احاطے میں 12.7 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ صلاحیت کے ایک نئے براؤن فیلڈ امونیا۔یوریا کمپلیکس کے قیام کی منظوری دی ہے، جسے آسام ویلی فرٹیلائزر اینڈ کیمیکل کمپنی لمیٹڈ کے نام سے قائم کیا جائے گا۔
ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کی مقامی یوریا پیداواری صلاحیت 15–2014 میں 207.54 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے بڑھ کر 24–2023 میں 283.74 لاکھ میٹرک ٹن سالانہ ہو گئی ہے۔ اسی طرح 24–2023 کے دوران 314.07 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی، جبکہ 25–2024 میں 306.67 لاکھ میٹرک ٹن یوریا تیار کیا گیا۔
حکومت نے نیو یوریا پالیسی 2015 بھی نافذ کی ہے، جس کے نتیجے میں 15–2014 کے مقابلے میں گھریلو یوریا پیداوار میں سالانہ 20 سے 25 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوا ہے۔
فاسفیٹک اور پوٹاشک کھادوں کے لیے نیوٹرینٹ بیسڈ سبسڈی اسکیم، جو اپریل 2010 سے نافذ ہے، کمپنیوں کو مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کھاد تیار کرنے یا درآمد کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت شامل کھادوں کی اقسام کی تعداد 2021 میں 22 سے بڑھ کر 28 اقسام ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ خریف 2022 سے سنگل سپر فاسفیٹ پر مال برداری سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ اس کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ حکومت ہر فصل کے موسم میں کھادوں کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کرتی ہے۔ ان میں ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ریاست وار کھاد کی ضرورت کا اندازہ لگانا، ماہانہ بنیاد پر کھادوں کی تقسیم، انٹیگریٹڈ فرٹیلائزر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے کھادوں کی نقل و حرکت کی نگرانی، مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے ساتھ تال میل، اور ریاستی حکومتوں کے ذریعے تقسیم کے انتظامات شامل ہیں۔
ان مربوط اقدامات کے نتیجے میں خریف 2025 اور جاری ربیع 2025–26 کے موسم کے دوران اتر پردیش سمیت پورے ملک میں کھادوں کی مناسب دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔
************
ش ح ۔ م ع ۔ م ص
(U :4010 )
(ریلیز آئی ڈی: 2239881)
وزیٹر کاؤنٹر : 6