الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
ہندوستان سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے
ہندوستان سیمی کنڈکٹر ڈومین (شعبے) کے دنیا کے عالمی صلاحیت مراکز (جی سی سی) میں سے تقریباً 7 فیصد کی میزبانی کرتا ہے اور عالمی سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن ورک فورس کے تقریباً 20 فیصد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 4:11PM by PIB Delhi
سیمی کنڈکٹر کی ترقی کی حکمت عملی عزت مآب وزیر اعظم کے ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’میک اِن انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘ کے وژن سے متاثر ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ہندوستان کا مقصد تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، ڈیزائن، فیبریکیشن (تیاری)، اسمبلی، ٹیسٹنگ، پیکیجنگ اور ماڈیول مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ تک ایک مکمل ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔
حکومت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے نہایت اہم ہے۔ ایک بنیادی صنعت کے طور پر سیمی کنڈکٹر آر اینڈ ڈی میں پیش رفت اختراع، لاگت کی مؤثریت اور عالمی مسابقت کو فروغ دیتی ہے۔ یہ تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی کے شعبے میں مصنوعات کی اعلیٰ کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کو بھی یقینی بناتی ہے۔
سیمیکون انڈیا پروگرام
حکومت نے ملک میں سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے ’سیمیکون انڈیا پروگرام‘ شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نمایاں کامیابیاں درج ذیل ہیں:
- تین سال کے مختصر عرصے میں تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے موصول ہوئے ہیں۔
- 10 یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 2 فیبز اور 8 اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی یونٹس شامل ہیں، جن کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔
- ایک یونٹ نے تجارتی پیداوار شروع کر دی ہے جبکہ 3 یونٹس پائلٹ پیداوار کر رہے ہیں۔
- زیادہ تر منظور شدہ منصوبوں میں مصنوعات کی جانچ اور اہلیت کے لیے پائلٹ لائنیں شامل ہیں، جبکہ بعض تجاویز میں مخصوص تحقیق و ترقی کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔
مینوفیکچرنگ کے عمل کی تکمیل کے لیے ڈیزائن سے منسلک ترغیبی اسکیم (ڈی ایل آئی) متعارف کرائی گئی ہے، جو سیمی کنڈکٹر مصنوعات جیسے انٹیگریٹڈ سرکٹس (آئی سیز)، چِپ سیٹس، سسٹم آن چِپس (ایس او سیز)، سسٹمز اور آئی پی کورز کے ڈیزائن، ترقی اور تعیناتی کو فروغ دیتی ہے۔
یہ اسکیم اہل درخواست دہندگان کو چِپ ڈیزائن کے لیے بنیادی ڈھانچے کی معاونت بھی فراہم کرتی ہے، جس میں ای ڈی اے ٹولز، آئی پی کورز اور فیبریکیشن سہولیات تک رسائی شامل ہے۔
- سیمی کنڈکٹر چپس اور ایس او سیز کے ڈیزائن کے لیے 24 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 900 کروڑ روپے ہے۔
- یہ منصوبے ویڈیو نگرانی، ڈرون کی نشاندہی، توانائی کی پیمائش، مائیکرو پروسیسرز، سیٹلائٹ مواصلات، اور براڈبینڈ و آئی او ٹی ایس او سی جیسے اہم شعبوں سے متعلق ہیں۔
- 24 منصوبوں میں سے 14 کمپنیوں نے اپنے حل کو مزید وسعت دینے اور تیار کرنے کے لیے وینچر کیپیٹل فنڈنگ حاصل کی ہے۔
- ہندوستانی سیمی کنڈکٹر اسٹارٹ اپس نے مجموعی طور پر 650 کروڑ روپے کی وی سی فنڈنگ حاصل کی ہے۔
- متعدد فاؤنڈریز میں ٹیپ آؤٹ کیے گئے 16 ڈیزائنوں میں سے 7 چپس کو کامیابی کے ساتھ تیار کیا جا چکا ہے، جن میں ٹی ایس ایم سی میں 12 این ایم جیسے جدید نوڈز بھی شامل ہیں۔
- 105 فیب لیس چپ ڈیزائن کمپنیوں کو جدید چِپ ڈیزائن انفراسٹرکچر تک رسائی فراہم کر کے معاونت دی گئی ہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 60 لاکھ گھنٹے ٹول استعمال کیا ہے۔ اب تک ان ٹولز کے استعمال کی مجموعی مدت 185 لاکھ گھنٹوں سے تجاوز کر چکی ہے۔
ہندوستان بھر کے 49 اداروں نے 146 ڈیزائن تیار کیے ہیں، جن میں سے سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل) نے طلبہ کے تیار کردہ 94 چپس کو کامیابی کے ساتھ تیار اور پیک کیا ہے۔
سیمیکون انڈیا پروگرام کی کامیابی کی بنیاد پر مرکزی بجٹ 2026-27 میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد آلات اور مواد، فل اسٹیک ڈیزائن، بھارتی آئی پی اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
عالمی صلاحیت کے مراکز (جی سی سی)
صنعتی تخمینوں کے مطابق، ہندوستان سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ہندوستان سیمی کنڈکٹر شعبے کے دنیا بھر کے عالمی صلاحیت مراکز (جی سی سی) میں سے تقریباً 7 فیصد کی میزبانی کرتا ہے اور عالمی سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن ورک فورس کے تقریباً 20 فیصد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔
ان جی سی سی میں کام کرنے والے ہندوستانی انجینئر جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کے ڈیزائن، تصدیق اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے انجینئر اب 2 این ایم چپس اور دیگر عالمی سطح پر مسابقتی مصنوعات سمیت جدید نوڈز کے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں۔
وقف شدہ اسکیموں کے ذریعے اختراع
اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کا محکمہ (ڈی ایس ٹی) دو تکمیلی اقدامات نافذ کر رہا ہے:
انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف)
پانچ سال کے دوران 50,000 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ یہ ادارہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیپ ٹیک، موسمیاتی تبدیلی، صحت، سیمی کنڈکٹرز اور جدید مواد جیسے ترجیحی شعبوں میں تعلیمی تحقیق، صنعت کے ساتھ تعاون اور ترجمہ جاتی تحقیق کی حمایت کرتا ہے۔
ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) فنڈ
ایک لاکھ کروڑ روپے کی مختص رقم کے ساتھ یہ اسکیم مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس اور بایوٹیکنالوجی جیسی اہم ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے کی ٹیکنالوجی کی ترقی اور تجارتی کاری کی حمایت کرتی ہے۔
اے این آر ایف اور آر ڈی آئی مل کر تعلیمی شعبے میں علم کی تخلیق سے لے کر صنعتی تعیناتی اور تجارتی کاری تک مکمل اختراعی سلسلے کو مضبوط بناتے ہیں۔
ایم ای آئی ٹی وائی کے تعاون سے مخصوص منصوبے
مزید برآں، الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) نینو ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر مواد، مینوفیکچرنگ عمل، چپ ڈیزائن اور آئی پی کور جیسے شعبوں میں تعلیمی اداروں، تحقیقی تنظیموں اور اسٹارٹ اپس میں تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی حمایت کرتی ہے۔
قابلِ ذکر اقدامات درج ذیل ہیں:
1. “نیکسٹ جنریشن امولیڈ ڈسپلے، او ایل ای ڈی لائٹنگ اور او پی وی پروڈکٹس” (آئی آئی ٹی مدراس)
- تقریباً 42 کروڑ روپے کے اخراجات پر مشتمل منصوبہ
- موبائل فون کے لیے پروٹو ٹائپ تیار کرنے اور ہندوستان میں کم لاگت والے الیکٹرانک اجزاء کی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کا مقصد
2. گیلیم نائٹرائڈ (جی اے این) ایکو سسٹم انیشی ایٹو – جی ای ای سی آئی (آئی آئی ایس سی بنگلورو)
- 334 کروڑ روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ آئی آئی ایس سی بنگلورو میں ایف ایس آئی ڈی کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے
- ہائی پاور اور ہائی فریکوئنسی آر ایف الیکٹرانکس کے لیے جی اے این پر مبنی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے مکمل ماحولیاتی نظام کی تشکیل پر توجہ مرکوز
3. انڈین نینو الیکٹرانکس یوزرز پروگرام (آئی این یو پی)
- آئی آئی ایس سی بنگلورو اور آئی آئی ٹیز میں ایم ای آئی ٹی وائی کے قائم کردہ نینو سینٹرز کے ذریعے مائیکرو اور نینو الیکٹرانکس میں تحقیق و ترقی کی حمایت
- اسٹارٹ اپ انکیوبیشن اور پروٹو ٹائپنگ سپورٹ کے ساتھ ساتھ ایم ای ایم ایس، کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹرز، سینسرز اور فوٹو وولٹک جیسے شعبوں میں تحقیق کو فروغ دینا
مزید برآں، ایم ای آئی ٹی وائی کی ایک خصوصی سوسائٹی سینٹر فار میٹریلز فار الیکٹرانکس ٹیکنالوجی (سی-میٹ) سیمی کنڈکٹر مواد اور متعلقہ شعبوں میں تحقیق کو فروغ دینے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ معلومات الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے 13 مارچ 2026 کو راجیہ سبھا میں پیش کیں۔
******
UR-4003
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2239864)
وزیٹر کاؤنٹر : 9