ادویات سازی کا محکمہ
کینسرکی ضروری دواؤں کی قیمت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 3:46PM by PIB Delhi
ادویات کی قیمتیں ڈرگس (پرائس کنٹرول) آرڈر (ڈی پی سی او) 2013 کی دفعات کے مطابق تعین کی جاتی ہیں ۔ نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) ڈی پی سی او 2013 کے شیڈول-1 میں شامل ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں طے کرتی ہے ،جو وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی طرف سے شائع کردہ ضروری ادویات کی قومی فہرست پر مبنی ہے ۔ ڈی پی سی او 2013 کے موجودہ ضابطے کے مطابق شیڈول شدہ ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں بازار کےاعداد وشمار اور ادویات کی لاگت کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں اور قیمت اور زیادہ سے زیادہ ریٹ (ایم آر پی) کے درمیان فرق کو زیادہ سے زیادہ قیمت مقرر کرنے میں مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ 9.3.2026 تک،کینسر کے علاج میں مدد گار 131 ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں نافذ العمل ہیں، جس کے نتیجے میں این ایل ای ایم 2015 کے تحت مقرر شدہ زیادہ سے زیادہ قیمتوں میں تقریباً 21؍فیصد کمی آئی اور مریضوں کے لیے سالانہ تقریباً294 کروڑ کی بچت ہوئی۔ تمام پیداکنندگان کو اپنی پیدوار این پی پی اےکی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت (اور قابل اطلاق گڈز اینڈ سروس ٹیکس کے ساتھ) کے اندر فروخت کرنی ہوں گی۔ پیکلیٹیکسل انجیکشن 30 ایم جی/5 ایم ایل اور 100 ایم جی/16.7 ایم ایل شیڈول فارمولیشن ہیں اور اسی کے مطابق این پی پی اے نے اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت مقرر کی ہے ۔ موجودہ لاگو حد قیمت 219.19 روپے فی ملی لیٹر ہے، جو 01.04.2025 سے نافذ العمل ہے ۔ سبھی مینوفیکچررز کو اپنی مصنوعات کو این پی پی اے کے ذریعہ مقرر کردہ ایم آر پی (نیز قابل اطلاق گڈز اینڈ سروس ٹیکس) کے اندر فروخت کرنا ہوتا ہے ۔ زیادہ چارج کرنے والوں سے ڈی پی سی او 2013 کی دفعات کے مطابق نمٹا جاتا ہے ۔
اس کے علاوہ، این پی پی اے نئے ادویات کی خوردہ قیمت بھی مقرر کرتا ہے جیسا کہ ڈی پی سی او 2013 کے پیرا 2 (1)(یو) میں واضاحت کی گئی ہے۔ نئی دوا کی خوردہ قیمت درخواست گزار مینوفیکچرر اور بازار کے سبھی عوامل پرنافذ ہوتی ہے، جو کہ مقررہ قیمت کے اندر نئی دوا فروخت کرنے کے پابند ہیں۔ جیسا کہ 9 مارچ 2026 تک، این پی پی اے نے کینسر سے لڑنے والی ادویات کے علاج کے زمروں کے تحت 58 خوردہ قیمتیں مقرر کی ہیں، جن میں 31 اینٹی کینسر ادویات، 26 اینٹی نیوپلاسٹک ادویات اور 1 امیونو-سبریسیو دوا شامل ہے۔ اس کے علاوہغیر شیڈیول شدہ اینٹی کینسر فارمولیشنز کے معاملے میں، مینوفیکچررز کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس طرح کی فارمولیشن کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) میں پچھلے 12 مہینوں کے دوران 10؍فیصد سے زیادہ اضافہ نہ کریں۔ نیز، ادویات کی مناسب قیمت پر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے این پی پی اے نے عوامی مفاد میں 2019 میں 42 منتخب غیر شیڈیول شدہ اینٹی کینسر ادویات کے تجارتی فرق کو محدود کیا۔ اس اقدام سے مذکورہ 500 سے زائد برانڈز کی اینٹی کینسر ادویات کی قیمتیں اوسطاً تقریباً 50؍فیصد کم ہو گئیں۔
سرکاری اسپتالوں میں غریبوں کے لیے کینسر کے مفت یا انتہائی رعایتی علاج ، آیوشمان بھارت-پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم جے اے وائی) کے تحت کینسر کے علاج ، پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی) کے تحت سب کو سستی قیمتوں پر کینسر سمیت معیاری جینرک دوائیں دستیاب کرانے اور سستی دوائیں اور علاج کے لیے قابل اعتماد امپلانٹس (اے ایم آر آئی ٹی) کے قیام کے ذریعے بھی کینسر کے علاج کی دوائیں فراہم کرائی جا رہی ہیں ۔ کچھ اسپتالوں/اداروں میں فارمیسی اسٹور ، جو ایم آر پی کے مقابلے میں کافی رعایت پر کینسر کی دوائیں دستیاب کراتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ، حکومت باقاعدگی سے کینسر مخالف ادویات پر ڈیوٹی کو معقول بناتی رہی ہے تاکہ ان کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد ملے ۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں وزیر مملکت برائے کیمیکلز اور فرٹیلائزرز محترمہ انوپریہ پٹیل نے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح ۔ م ع ن۔ ن ع
U. No.3984
(ریلیز آئی ڈی: 2239651)
وزیٹر کاؤنٹر : 14