قانون اور انصاف کی وزارت
قومی ای-گورننس پلان کے حصے کے طور پر، ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے پر عمل درآمد جاری ہے تاکہ عدالتوں کو اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) سے لیس کیا جا سکے
ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کا مقصد عدالتی پیداوریت کو معیار اور مقدار، دونوں لحاظ سے بہتر بنانا ہے، تاکہ انصاف کی فراہمی کے نظام کو قابل رسائی، کفایتی، قابل اعتماد اور شفاف بنایا جا سکے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 1:04PM by PIB Delhi
قانون و انصاف کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کی وزارت کے وزیر مملکت جناب ارجن رام میگھوال نےآج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ:
قومی ای-گورننس پلان کے ایک حصے کے طور پر، عدالتوں کو اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) سے لیس کرنے اور عدالتی پیداوریت کو معیار اور مقدار، دونوں لحاظ سے بڑھانے کے لیے ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، تاکہ انصاف کی فراہمی کے نظام کو قابل رسائی، کفایتی، قابل اعتماد اور شفاف بنایا جا سکے۔
اس پروجیکٹ کے تحت، صارف کے بہتر تجربے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لانے کی خاطر ’’مستقبل کی تکنیکی ترقی‘‘کے جزو کے لیے 53.57 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ عدالتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا جائزہ لینے کے لیے، سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اے آئی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو ہندوستانی عدلیہ میں اے آئی کے استعمال کے تصور، نفاذ اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا، آئی آئی ٹی مدراس کے تعاون سے دستاویزات کے نقائص کو دور کرنے، میٹا ڈیٹا نکالنے اور الیکٹرانک فائلنگ ماڈیول اور کیس مینجمنٹ سافٹ ویئر، یعنی انٹیگریٹڈ کیس مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم (آئی سی ایم آئی ایس) کے ساتھ انضمام کے لیے اے آئی اورایم ایل ٹولز کے پروٹو ٹائپس کی جانچ کر رہی ہے۔ قانونی تحقیق اور دستاویزات کے تجزیے میں ججوں کی مدد کے لیے لیگل ریسرچ انالسس اسسٹنٹ (لیگ را) نامی ایک اے آئی پر مبنی ٹول تیار کیا گیا ہے۔ ایک اوراے آئی ٹول ڈیجیٹل کورٹس 2.1 تیار کیا گیا ہے تاکہ ججوں اور عدالتی افسران کو تمام کیس سے متعلقہ معلومات اور ٹاسک کے لیے ایک سنگل ونڈو فراہم کر کے پیپر لیس طریقے سےعدالت چلانے میں مدد دی جا سکے۔ اس پلیٹ فارم میں ججوں کو آرڈر اور فیصلے لکھوانے میں مدد دینے کے لیے آواز سے متن میں تبدیلی (اے ایس آر-شروتی) اور ترجمہ پننی کی سہولیات بھی شامل ہیں۔
لیگ را اورڈیجیٹل کورٹس 2.1 دونوں، عدالتوں کے اپنے ڈیٹا یعنی سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ڈسٹرکٹ کورٹس کے جاری کردہ فیصلوں اور احکامات کا استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کی رازداری اور اخلاقی تحفظات کے مسائل کا خیال رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای-کمیٹی نے ہائی کورٹ کے چھ ججوں اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے، تاکہ ڈیٹا اور پرائیویسی کے تحفظ کے لیے محفوظ کنیکٹویٹی اور تصدیقی طریقۂ کار کی سفارش کی جا سکے اور ڈیٹا کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے ای-کورٹس پروجیکٹ کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سروس ڈیلیوری سسٹم کا جائزہ لیا جا سکے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی حل کا موجودہ دائرۂ کار، ذمہ دارانہ، محفوظ اور عملی طور پر اسے اپنانے کو یقینی بنانے کے مقصد سے صرف محدود پائلٹ تعیناتیوں تک محدود ہے۔ اس سلسلے میں آپریشنل فریم ورک کی تشکیل اور ضوابط متعلقہ ہائی کورٹس کے کاروباری قوانین اور پالیسیوں کے تحت ہوں گے۔
********
ش ح۔ک ح۔ م ا
U. No. 3962
(ریلیز آئی ڈی: 2239532)
وزیٹر کاؤنٹر : 11